سیاسی جماعتوں کا شرح خواندگی 100فیصد تک لانے پراتفاق

پی پی،ق لیگ،متحدہ،پی ٹی آئی،جماعت اسلامی،جے یوآئی کی گول میزکانفرنس،تجاویزپرغور


Numainda Express December 19, 2012
پی پی،ق لیگ،متحدہ،پی ٹی آئی،جماعت اسلامی،جے یوآئی کی گول میزکانفرنس،تجاویزپرغور فوٹو: فائل

ملک کی6 بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے منشورمیں تعلیم کواہمیت دینے ، اگلے 5سالوں کے دوران تعلیمی بجٹ بڑھاکرقومی پیداوار (جی ڈی پی)کا5 فیصد تعلیم پر خرچ کرنے اور 100فیصد شرح خوا ندگی حاصل کرنے پر اتفاق کیاہے۔

یہ اتفاق پیپلزپارٹی،مسلم لیگ(ق)،ایم کیو ایم، تحریک انصاف،جماعت اسلامی اورجے یوآئی (ف) نے حق تعلیم سے متعلق گول میز کانفرنس کے دروان کیا،کانفرنس کا اہتمام پاکستان کولیشن فارایجوکیشن نے آکسفیم جی بی کے تعاون سے کیاتھا۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکرشہلا رضا نے کہاکہ 2007کے بعد سندھ میں خواندگی کی شرح میں 9فیصد اضافہ ہواہے۔

ملک میں 70لاکھ بچوں کواسکولوں تک رسائی حاصل نہیں، سندھ میں 2010کے سیلاب میں 6526،2011میں 3710اور 2012میں 2634اسکول مہندم ہو ئے۔ جماعت اسلامی کے سید بلال نے کہاکہ اگرہمیں موقع ملا تو اگلے 5سالوں میں خواندگی کی شرح کو 100فیصد پر لایاجائے گا،جے یوآئی (ف) کے عبدالجلیل جان نے کہا کہ پورے ملک میں ایک نظام تعلیم ہونا چاہیے جس میں مدارس کو بھی شامل کیا جائے۔

02

ایم کیو ایم کے شیخ صلاح الدین نے کہا کہ اگر والدین نے اپنے بچوں کواسکولوں میں داخل نہیں کرایاتوان کو سزا دلانے کیلیے کام کرینگے۔مسلم لیگ (ق) شعبہ خواتین کی مرکزی سیکریٹری فوزیہ نے کہا کہ ان کی جماعت اپنے منشورمیں آئندہ دس سالوں میں خواندگی کی شرح 100فیصد پرلانے کی پالیسی کو شامل کرے گی،تحریک انصاف کی حنامنظور نے کہا کہ تعلیم کیلیے جی ڈی پی کا5فیصد خرچ کیاجا ئے گا۔اس موقع پر پاکستان کولیشن فارایجوکیشن کی نیشنل کوآرڈینیٹرزہرہ ارشد،حارث خلیق اورآکسفیم جی بی کے سعیدالحسن نے بھی خطاب کیا۔