ٹنڈو محمد خان کی نئی حلقہ بندی کیلیے درخواست پر نوٹس

علاقے کی آبادی ساڑھے 4لاکھ ہوچکی ہے جو قومی اسمبلی کے حلقے کامعیار ہے


Staff Reporter December 19, 2012
حیدرآباد اور بدین کی یونین کونسلز انتخابی حلقوں سے نکال دی جائیں،درخواست گزار۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ نے نئی حلقہ بندی سے متعلق آئینی درخواست پر وفاقی وصوبائی الیکشن کمیشن سمیت دیگر کو 24دسمبر کے لیے نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس مقبول باقر اور جسٹس غلام سرورکورائی پرمشتمل 2 رکنی بینچ نے منگل کو سابق رکن سندھ اسمبلی اور سابق ضلع ناظم پیر عنایت تالپور نے وفاقی وصوبائی الیکشن کمیشنوں ، ٹنڈو محمد خان ، حیدرآباد کے ڈپٹی کمشنرز کو فریق بناتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ٹنڈو محمد خان سے قومی اسمبلی کا ایک حلقہ 222اور صوبائی اسمبلی کے دو حلقے پی ایس 53,54 ہیں۔

03

تاہم ان حلقوںمیں حیدرآباد اور بدین کی مختلف یونین کونسلز بھی شامل ہیں کیونکہ گزشتہ مردم شماری کی بنیاد پر جب حلقے تشکیل دیے جارہے تھے تو ٹنڈو محمد خان کی آبادی کم تھی ، تاہم اب ایک عشرہ گزر جانے کے بعداس علاقے کی آبادی 4لاکھ 43ہزار سے زائد ہوچکی ہے جو کہ الیکشن کمیشن کی قومی اسمبلی کے حلقے کے لیے کم ازکم مطلوبہ تعداد ہے۔

اس لیے مناسب ہوگا کہ یہاں قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں سے دیگر اضلاع کے علاقے نکال دیے جائیں اور حلقہ بندی اس طرح کی جائے کہ یہ حلقے مکمل طور پر ضلع ٹنڈو محمدخان کی حدود میں آجائیں تاکہ یہاں کے منتخب نمائندے اس علاقے کی بھر پور نمائندگی کرسکیں ، فاضل بینچ نے ان کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور مدعا علیہان کو 24دسمبر کے لیے نوٹس جاری کردیے ۔