قومی مفاد میں پالیسی بنارہے ہیں پاک ایران گیس منصوبے پر دباؤ قبول نہیں وزیر خارجہ

پاکستان ہمیشہ افغان حکومت اور وہاں برسر پیکار دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا حامی رہا ہے۔


ویب ڈیسک December 19, 2012
امید ہے کہ 2014 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد حالات بہتر ہوجائیں گے, حنا ربانی کھر۔ فوٹو: فائل

KARACHI:

وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ ملکی مفاد میں ہے اور اس کے لئے کسی بھی دباؤ میں نہیں آئیں گے۔


ایکسپریس نیوز کے پروگرام ''لائیو ود طلعت'' میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ قومی مفاد میں خارجہ پالیسی بنا رہے ہیں جس کی مثال پاک ایران تعلقات ہیں جو ماضی میں کبھی بھی اتنے بہتر نہیں تھے جتنے آج ہیں۔


حنا ربانی کھر نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے اسلام آباد، واشنگٹن یا لندن کچھ نہیں کرسکتے، اس کے لئے افغان عوام ہی کو راستے نکالنا ہوں گے اور پاکستان ہمیشہ افغان حکومت اور وہاں برسر پیکار دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا حامی رہا ہے کیوں کہ طالبان افغانستان کا روایتی حصہ ہیں۔


وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان پر الزام تراشیوں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا، پاکستانی قوم 30 لاکھ افغانیوں کو سنبھال رہی ہے، ہر روز ہزاروں لوگ کسی بھی قسم کی تفتیش کے بغیر پاک افغان سرحد عبور کرتے ہیں، اس سلسلے میں افغان حکومت کو ہمارا احسان مند ہونا چاہئے، ان میں کوئی شخس افغانستان جاتا ہے اور انٹیلیجنس چیف پر قاتلانہ حملہ کرتا ہے تو پھر اس میں افغان حکومت کی کوتاہی نظر آتی ہے۔


حنا ربانی کھر نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے عالمی برادری کو اپنی حکمت عملی بدلنا ہوگی، کابل حکومت اور طالبان دھڑوں کے درمیان دوحہ، ٹوکیو اور پیرس سمیت کئی مقامات پر مذاکرات ہوچکے ہیں، پاکستان پڑوسی ملک ہونے کے ناطے طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولتکار کا کردار ادا کرسکتا ہے لیکن دیکھنا ہوگا کہ افغان حکومت کی اپنی کیا پالیسی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ 2014 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد حالات بہتر ہوجائیں گے کیونکہ اس سے طالبان کے پاس غیر ملکی فوجیوں کی موجودگی کا جواز ختم ہوجائے گا۔

مقبول خبریں