شائننگ انڈیا کے تناظر میں حکومت کی رائزنگ پاکستان کی مہم

آجکل حکومت کے ایوانوں میں مسکراہٹیں خوشیاں اور نیم فتح کا احساس برملا نظر آ رہا ہے


مزمل سہروردی November 20, 2016
[email protected]

آجکل حکومت کے ایوانوں میں مسکراہٹیں خوشیاں اور نیم فتح کا احساس برملا نظر آ رہا ہے۔ قطری خط کے ساتھ حامد خان کی معذرت نے خوشیوں کے نغمے بجائے ہیں۔ اوپر سے سپریم کورٹ نے لمبی تاریخ دے دی۔ کہاں مقدمہ روزانہ کی بنیاد پر چلنے کا خوف کہاں دو ہفتہ کی تاریخ ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکمران خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ یہ خوشی کا احساس نئی وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی گفتگو سے بھی نظر آ رہا تھا۔ اسی لیے تو رسمی و غیر رسمی گفتگو میں کہتی تھک نہیں رہی ہیں کہ حکومت کوئی مشکل میں نہیں بلکہ آرام میں ہے۔ انھیں اپنا نیا عہدہ بھی کوئی مشکل نہیں لگ رہا۔ بلکہ یہ ایک آسان کام لگ رہا ہے۔

حامد خان کی معذرت کے حوالہ سے جتنے منہ اتنی باتوں والا معاملہ ہے۔ حکمرانوں کے ایوان کہہ رہے ہیں کہ حامد خان کو نظرآ گیا ہے کہ وہ کیس ہار رہے تھے اس لیے انھوں نے راہ فرار حاصل کی ہے کیونکہ کوئی بھی بڑا وکیل ہارنے والا کیس نہیں لیتا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ میاں نواز شریف کے وکیل سلمان بٹ کا تعلق بھی حامد خان کے چیمبر سے ہی ہے اس لیے ایک ہی چیمبر دونوں طرف کی وکالت کیسے کر سکتا ہے۔ اس لیے سلمان بٹ یا حامد خان میں سے ایک نے تو کیس سے علیحدہ ہونا ہی تھا۔ لیکن یہ کوئی معقول وجہ نہیں لگتی۔

اسی طرح ایک رائے یہ بھی ہے حامد خان پاکستان میں وکلا کی سیاست کے بادشاہ ہی نہیں بادشاہ گر ہیں۔ ملک کی تمام بڑی بارز میں ان کا عاصمہ جہانگیر گروپ سے مقابلہ ہے۔ وکلا ان کی ٹکٹ پر الیکشن لڑتے ہیں۔ حامد خان کا ٹکٹ بار کی سیاست میں بڑا ٹکٹ ہے۔ اس لیے ان کے لیے بابر اعوان او ر نعم بخاری کے ساتھ کسی کیس میں کام کرنا بار کی سیاست کی وجہ سے ممکن نہیں۔ بابر اعوان اور نعم بخاری وکلا سیاست میں حامد خان کے مخا لف تھے اور ہیں۔ یہ بار کی سیاست میں آگ اور پانی ہیں جن کا ملاپ ممکن نہیں۔ لیکن وجہ کچھ بھی ہو۔ حامد خان حکمرانوں کی خوشی کا سامان پیدا کر گئے ہیں۔

مریم اورنگزیب صاحبہ کی گفتگو سے جو بات مجھے سمجھ آئی ہے وہ یہ ہے کہ حکومت اور حکمران یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ دسمبر تک تمام بحرانوں سے نبٹ لیں گے۔ بات کو اگر مزید سادہ کیا جائے تو حکومت دسمبر تک دفاعی موڈ سے نکل آئے گی اور جنوری سے ایک جارحا نہ موڈ شروع ہو جائے گا۔ اسی بات کو ایسے بھی کہا جا سکتا ہے کہ حکومت جنوری سے اگلے انتخابات کے لیے ایک بڑی انتخابی مہم شروع کرنے جا رہی ہے۔

جس کے پہلے مرحلہ میں حکومت رائزنگ پاکستان کے نام سے ایک بڑی مہم شروع کر رہی ہے۔ جس کے تحت حکومت اپنے بڑے بڑے کام عوام کے سامنے رکھے گی۔ بلکہ اپنی کامیابیوں کے شادیانے بجائے گی۔ یقینا یہ تب ہی ممکن ہے جب حکومت پانامہ سے نکل جائے۔ لہذا اگر حکومت سے جنوری سے رائزنگ پاکستان کی بڑی مہم شروع کر رہی ہے تو حکومت کا یہ خیال ہے کہ وہ دسمبر میں پانامہ کی دلدل سے نکل جائے گی۔

جب مریم اورنگزیب صاحبہ نے رائزنگ پاکستان کا آئیڈیا ایک غیر رسمی محفل میں شیئر کیا۔ تو تقریبا سب اہل دانش نے کہا کہ یہ کام تو 2004ء کے بھارتی انتخابات میں اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم واجپائی نے کیا تھا اور نا کام ہو گئے تھے۔ واجپائی نے شائننگ انڈیا کے نام سے اسی طرح کی مہم شروع کی تھی اور ملک میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کر دیا تھا۔ اس وقت کے تمام پول اور سروے یہی کہہ رہے تھے کہ واجپائی کے انتخاب جیتنے کے بھر پور امکانات ہیں۔ لیکن واجپائی یہ انتخاب ہار گئے اور انتخابات کے بعد کے تمام تجزیوں نے یہ کہا کہ شائننگ انڈیا کی مہم نے فائدہ دینے کے بجائے واجپائی کو نقصان دیا۔ اور عوام نے شائننگ انڈیا کا نعرہ مسترد کر دیا۔

یہ بات جب مریم اورنگزیب صاحبہ کے سامنے رکھے گئی تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے رائزنگ پاکستان کی مہم کی پلاننگ کرتے وقت شائننگ انڈیا کی نا کامی کی وجو ہات کو سامنے رکھا ہے۔ ان کے خیال میں اس کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ واجپائی ایک Passive لیڈر تھے جب کہ میاں نواز شریف ایک aggressive لیڈر ہیں اس لیے وہ رائزنگ پاکستان کی مہم کو پاکستان بنا سکتے ہیں۔ اس طرح مریم اورنگزیب یہ سیاسی فلسفہ پیش کر رہی ہیں کہ شائننگ انڈیا کی مہم واجپائی کی کمزور قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ناکام ہو ئی اور رائزنگ پاکستان کی مہم میاں نواز شریف کی مضبوط قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے کامیاب ہو گی۔

اس فلسفہ نے مجھے 2004ء کے بھارتی انتخابات کے نتائج پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا تا کہ میں یہ سمجھ سکوں کی واجپائی کی کمزور قیادت نے کیا نقصان پہنچایا۔ لیکن اعداد و شمار تو بالکل الٹ حقیقت ہی بیان کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ 1999ء کے انتخابات میں بی جے پی نے 8.6 کر وڑ ووٹ حاصل کیے تھے جب کہ شائننگ انڈیا کی مہم کے بعد 2004ء میں بھی واجپائی کی قیادت میں بی جے پی نے 8.6 کروڑ ووٹ حا صل ہی کیے تھے۔ اس طرح بی جے پی کے ووٹ بینک پر شائننگ انڈیا کی مہم نے نہ تو کوئی مثبت اور نہ ہی کوئی منفی اثر ڈالا۔ اسی طرح بی جے پی کی مخالف کانگریس نے 1999ء میں 10.6 کروڑ ووٹ حا صل کیے لیکن وہ ہار گئی جب کہ 2004ء میں بھی کانگریس نے 10.6 کڑوڑ ووٹ ہی حا صل کیے لیکن وہ جیت گئی۔

1999ء میں بی جے پی نے اتنے وہی ووٹ سے 186 سیٹیں جیتی تھیں اور 2004ء میں وہ اتنے ہی ووٹ سے صرف 132 سیٹیں جیت سکے تھے۔ اسی طرح کانگریس نے 1999ء میں اتنے وہی ووٹ سے 114 سیٹیں جیتی تھیں لیکن 2004ء میں اتنے ہی ووٹ انھیں 145 سیٹیں دے گئے۔ جو جیت کا سبب بن گئے۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے ہیلری کلنٹن کے ووٹ بھی ٹرمپ سے زیادہ ہیں۔ اور 2008ء کے انتخابات میں پنجاب میں ق لیگ کے ووٹ ن لیگ سے ز یادہ تھے لیکن سیٹیں ن لیگ کی زیادہ تھیں۔ اور حکومت بھی ن لیگ نے ہی بنائی تھی۔

میاں نواز شریف کی جانب سے جنوری سے رائزنگ پاکستان شروع کرنے کا اعلان ایک طرح سے الیکشن بگل بجانے کے مترادف ہے۔ لیکن یہ رائزنگ پاکستان ان کے ووٹ بینک پر کیا اثر ڈالے گا یہ ایک مشکل سوال ہے۔ لیکن سیاست مشکل سوالات کا حل ڈھونڈنے کا ہی کام ہے۔ شاید میاں نواز شریف نے پیپلزپارٹی سے سبق سیکھا ہے اور ان کا خیال ہے کہ ایک جار حا نہ حکمت عملی عوا م کو ان کی طرف متوجہ کر سکے گی۔ دم دبا کر گھر بیٹھنے سے تو پیپلزپارٹی کو نقصان ہوا ہے۔ اور وہ اس نقصان سے بچنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ یہ فیصلہ تو بہر حال عوام کو ہی کرنا ہے کہ کیا پاکستان ایک رائزنگ پاکستان ہے یا نہیں۔

مقبول خبریں