ڈرے سہمے بیٹسمینوں کو دفاعی خول سے نکالنے کی تدبیریں

ہیملٹن ٹیسٹ میں شرجیل خان کوبطور اوپنرآزماتے ہوئے اظہرعلی کونمبر3پربھیجنے کا امکان، ذرائع


Sports Reporter November 22, 2016
جدید کرکٹ میں صرف وقت گزارنے کی حکمت عملی نہیں چلتی اچھا مجموعہ بھی درکار ہوتا ہے،اخراج کی تلوار لٹکا دینے سے کھلاڑی مشکل سیریز سے قبل اعتماد کھوبیٹھیں گے فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے ڈرے سہمے بیٹسمینوں کو دفاعی خول سے نکالنے کی تدبیریں ہونے لگیں، ہیملٹن ٹیسٹ میں شرجیل خان کو بطور اوپنر آزماتے ہوئے اظہر علی کو نمبر 3 پربھیجنے کا امکان روشن ہوگیا، چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ 2 بیٹسمین 47اوورز کھیل کر 50 سے کم رنز بنائیں تو دباؤ بڑھ جاتا ہے، اسکواڈ نہیں مزاج بدلنے کی ضرورت ہے، اخراج کی تلوار لٹکا دینے سے کھلاڑی مشکل سیریز سے قبل اعتماد کھوبیٹھیں گے۔

تفصیلات کے مطابق کرائسٹ چرچ میں شکست کے بعد ہیملٹن ٹیسٹ میں مینجمنٹ قومی ٹیم کو دفاعی خول سے نکالنے کیلیے فکرمند ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیکٹرز نے ہیڈ کوچ مکی آرتھر کو مشورہ دیا ہے کہ شرجیل خان کو بطور اوپنر آزمایا جائے جبکہ اظہر علی تیسرے نمبر پر بیٹنگ کیلیے آئیں،امکان ہے کہ مصباح الحق کی عدم دستیابی کی وجہ سے جارح مزاج اوپنر کو ٹیم میں شامل کرکے باقی بیٹنگ آرڈر وہی رکھا جائے گا۔ ایک انٹرویو میں انضمام الحق نے کہاکہ میں چیف سلیکٹر ہوں کھلاڑیوں پر تنقید نہیں کرسکتا لیکن بطور سابق ٹیسٹ کرکٹر رائے دے سکتا ہوں۔

جدید کرکٹ میں صرف وقت گزارنے کی حکمت عملی نہیں چلتی اچھا مجموعہ بھی درکار ہوتا ہے، ان کے مطابق شرجیل صرف ٹوئنٹی20اور ون ڈے کیلیے موزوں نہیں فرسٹ کلاس میچز میں بھی 80 کی اوسط سے رنز بناچکے ہیں،مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے مصباح الحق کی عدم دستیابی پر اظہر علی کو قیادت سونپی گئی، تجربہ کار یونس خان ان کی معاونت کرینگے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلے ٹیسٹ میں ٹیم کی کارکردگی خراب رہی ہے، ایک بیٹسمین نے 170 سے زائد گیندیں کھیل کر31، دوسرے نے113 بالز پر 13 رنز بنائے،47کر قریب اوورز کھیل کردونوں 50 سے کم رنز بنائیں تو ٹیم پر دباؤ بڑھنا ہی تھا، ان اوورز میں مثبت کرکٹ کھیلنے کی ضرورت تھی، وہ دور چلا گیا کہ میچ میں 2 رنز فی اوور بنتے تھے، اب تو ساڑھے 3یا 4کی اوسط سے اسکور ہوتا ہے، اسی لیے میچز نتیجہ خیز ہوتے ہیں،جدید کرکٹ میں صرف وقت گزارنے کی حکمت عملی نہیں چلتی، اچھا مجموعہ بھی درکار ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی کنڈیشنز مشکل ہونگی یہ سب کو اندازہ تھا لیکن اس کی بھی توقع نہیں تھی کہ ٹیم 133 پر ڈھیر ہوجائیگی، اب فیصلوں میں جلد بازی سے نقصان ہی ہوگا، ایک میچ یا سیریز کی کارکردگی پر ڈراپ کرنے سے مضبوط ٹیم بنانے میں کامیابی نہیں ملے گی، اخراج کی تلوار لٹکا دینے سے کھلاڑی مشکل کنڈیشنز میں کھیلے جانیوالے میچز سے قبل اعتماد کھوبیٹھیں گے، انضمام الحق نے کہا کہ زیادہ تر یواے ای میں کھیلنے کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے لیکن پاکستان کو بہترین ٹیم بننا ہے تو ہر طرح کی پچز پر کھیلنے کا ہنر سیکھنا ہوگا۔

اس کیلیے ضروری ہے کہ قومی ٹیم کے ساتھ انڈر 19اور اے سائیڈز کو بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملیں، انھوں نے کہا کہ شرجیل خان صرف ٹوئنٹی20اور ون ڈے کیلیے موزوں نہیں، جارح مزاج ہونے کے ساتھ وہ اچھی تکنیک کے بھی حامل ہیں، حالیہ فرسٹ کلاس میچز میں 80 کی اوسط سے رنز بناچکے ہیں،اوپنر جدید ٹیسٹ کرکٹ میں بھی پاکستان کی ضروریات پوری کرسکتے ہیں،سعید انور اچھے رن ریٹ سے اسکور کرتے ہوئے بولرز کو دباؤ میں لے آتے تو مجھے اور آنے والے بیٹسمینوں کو آسانی ہوتی تھی۔

انضمام الحق نے کہا کہ اسد شفیق میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے لیکن وہ اس سے انصاف نہیں کر پا رہے، محمد عامر کی کارکردگی بُری نہیں تاہم صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے پیسر سے توقعات بہت زیادہ ہیں، حقیقت ہے کہ 5سال بعد کم بیک کے بعد بولنگ میں ماضی جیسی کاٹ لانا آسان نہیں ہوتا، وہ مسلسل بہتر ہورہے ہیں، امید ہے کہ 4ماہ بعد مکمل ردھم حاصل کرلینگے، انھوں نے کہا کہ بہتر سے بہتر کمبی نیشن بنانے کیلیے سلیکٹرز، نیشنل اکیڈمی کا کوچنگ اسٹاف اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر سمیت ٹیم مینجمنٹ سب مل کر کام کررہے ہیں۔

سسٹم میں کام کرتے رہے تو مسائل کم ہوتے جائینگے۔ ہیملٹن ٹیسٹ میں یونس کو کپتان نہ بنانے کے سوال پر انضمام الحق نے کہا کہ سینئر بیٹسمین اور مصباح دونوں کی رخصتی کا وقت قریب ہے، مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے اظہر علی کو قیادت سونپی گئی، یونس ان کی معاونت کیلیے میدان میں موجود ہوں گے، نئے قائد کو گروم کرنے کیلیے سینئرز کے ساتھ ہی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں تاکہ وہ جلد سیکھ سکیں۔