بھارت کشیدگی بڑھانے سے باز آ جائے

بھارتی حکمرانوں کا جنگی جنون خطے میں خطرات کے غالبا ً کسی آتش فشاں کا منتظر ہے


Editorial November 22, 2016
کشمیری عوام کے لیے لمحہ موجود ان کی بے مثال اور ولولہ انگیز جدوجہد کا ٹرننگ پوائنٹ ہے جس کا مودی حکومت کو احساس نہیں۔ فوٹو: فائل

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فورسز نے گزشتہ روز بھی ایل او سی پر اشتعال انگیز کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جند روٹ، بڑوہہ اور کیرالہ سیکٹرز میں صبح آٹھ بجے بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کی جسکے نتیجے میں خاتون سمیت چار شہری شہید ہو گئے۔

پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال بھارتی فائرنگ کے بعد بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کر کے بیگناہ شہریوں کی شہادت پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا، دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت کا لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، بھارت جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کرے اور شہریوں کو نشانہ بنانے سے باز رہے۔

بھارتی حکمرانوں کا جنگی جنون خطے میں خطرات کے غالبا ً کسی آتش فشاں کا منتظر ہے یا اسے اس بات کی غلط فہمی ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں اس کی بربریت کا راستہ روکنے والا کوئی نہیں اس لیے گزشتہ چند ہفتوں میں اس کی غیر اعلانیہ جنگی کارروائیوں، بلا اشتعال فائرنگ اور ایٹمی آبدوز کے ذریعے جارحیت کے بحری راستوں کے انتخاب سے اس کے مذموم عزائم آشکار ہو چکے ہیں اگرچہ پاک بحریہ نے اس کی زیر آب مہم جوئی پسپا کی ہے لیکن اس سے بھی بھارت نے سبق نہیں لیا اور کنٹرول لائن پر کشیدگی کو ہوا دینے کے لیے مستقل فائرنگ اور ہلاکتوں کا ہولناک کھیل جاری رکھے ہوئے ہے جس کا عالمی برادری کو سختی سے نوٹس لینا چاہیے تا کہ معاملہ پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ پہنچے۔

خبروں کے مطابق بھارتی فوج نے گزشتہ روز بھی لائن آف کنٹرول پر تین سیکٹرز پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت چارافراد شہید اور دس زخمی ہو گئے، مقبوضہ وادی کشمیر میںپیرکو بھی بھارتی غاصبانہ قبضے اور انجنئرنگ کے طالبعلم رئیس احمد کی شہادت کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کے دوران اسکول، کالج اور تجارتی مراکز بند اورسڑکیں ویران رہیں۔

آزادی پسند تنظیموں اور جہاد کونسل نے شہید رئیس احمد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداء کشمیر کا مشن جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی طرف سے احتجاج کی کال کو ناکام بنانے کے لیے تمام ضلعی ہیڈ کوارٹرز اور سرینگر میں بھارتی پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات رہی۔

جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے موجودہ احتجاجی تحریک کے دوران شہید ہونے والے کشمیریوں کے اہلخانہ سے اظہار یکجہتی کے لیے ترال اور جنوبی کشمیر کے علاقوں کا دورہ کیا۔ یاسین ملک نے ترال میں برہان وانی شہید کے والد مظفر وانی سے ملاقات کی۔ سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہا کہ زندہ اور باضمیر قومیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں۔

کشمیری عوام کے لیے لمحہ موجود ان کی بے مثال اور ولولہ انگیز جدوجہد کا ٹرننگ پوائنٹ ہے جس کا مودی حکومت کو احساس نہیں اور نہ بی جے پی کی حکومت کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کے لیے تیاری کا کوئی عندیہ دے رہی ہے اس لیے ایسی سنگین صورتحال میں عالمی برادری بلا تاخیر بھارت کو نکیل ڈالے، اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو کشہیر کی صورتحال کا جائزہ لینے پر مامور کیا جائے، ورنہ کشمیریوں کے جوابی رد عمل کو کوئی نہیں روک سکے گا۔