نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ کے عزائم

نومنتخب امریکی صدر کو اپنے طرز عمل میں اپنی ریاست کے تقدس کا احترام بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا


Editorial November 23, 2016
فوٹو: فائل

امریکی صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے ویڈیو پیغام میں جو حکومتی ایجنڈا پیش کیا ہے اس کی بنیاد اس بات پر ہے کہ امریکا سب سے پہلے ہوگا۔ انھوں نے جن چھ امور کو پہلے دن کرنے کا اعلان کیا ان میں ٹی پی پی کو چھوڑنے کا نوٹس جاری کرنا، امریکا میں توانائی کی پیداوار پر عائد پابندیاں ختم کرنا، کاروبار کے لیے موجود قواعد و ضوابط کو کم کرنا، سائبر حملوں کو روکنے کے لیے جہازوں سے مدد لینا، ویزہ امور کا جائزہ لینا، تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس سے کسی امریکی شہری کو نوکری کے حصول میں مشکلات تو نہیں ہو رہیں اور حکومت چھوڑنے والوں پر 5 سالہ پابندی لگانا ہے۔

بظاہر یہ چھ نکات امریکی مفادات کے تناظر میں ہی نظر آتے ہیں لیکن نومنتخب امریکی صدر کو عالمی حالات و حقائق کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں ان کی آمد کے پہلے دن ہی امریکا عالمی تجارتی معاہدے ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ ڈیل سے باہر نکل جائے گا۔ بحرالکاہل کی 12 ریاستوں کے درمیان علاقائی تجارت کے فروغ کے معاہدے کو منسوخ کرنے کے پیچھے ٹرمپ کی کیا سوچ کارفرما ہے یہ تو وہی جانتے ہوں گے لیکن یہ سال گزشتہ ہی طے پانے والے اس عالمی تجارتی معاہدے میں 12 ممالک شامل ہیں اور یہ ممالک دنیا کی 40 فیصد تجارت کو کنٹرول کرتے ہیں۔

اس طرح اچانک معاہدے کی منسوخی امریکا کی معیشت کے لیے سازگار ثابت نہیں ہوگی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تجارتی معاہدے سے نکلنے کے بیان کے بعد چین نے کہا ہے کہ وہ بڑے ایشیائی تجارتی معاہدے کے لیے مذاکرات کے حوالے سے پرامید ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنے پہلے پیغام میں نہ تو صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر پروگرام پر بات کی اور نہ ہی انھوں نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے کے بارے میں کچھ کہا۔ جب کہ وہ ان امور اور امریکی مفادات کے حوالے سے مختلف بیانات کو ہی الیکشن کیمپین کے دوران ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

دوران انتخابات امریکی ذرایع ابلاغ کی جانب سے اینٹی ٹرمپ مہم اور جانبدارانہ صحافت پر ٹرمپ کی ناراضگی صائب ہے لیکن مکمل ذرایع ابلاغ کو ''بددیانت'' قرار دینا مستحسن طرز عمل نہیں، امریکی صدر کو احساس ہونا چاہیے کہ چند لوگوں کے طرز عمل کو پوری صحافی برادری پر منطبق کرنا جائز نہیں۔

بہرحال دوران انتخابات میڈیا کی رپورٹنگ کا جھکاؤ ٹرمپ کی مخالف امیدوار ہلیری کی جانب پوری دنیا نے ہی محسوس کیا تھا، امریکی صحافتی اداروں کو بھی اخلاقیات کی پاسداری کرنی چاہیے تھی۔ اب جب کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب ہوچکے ہیں تو ان صحافی حضرات کو اپنی اصلاح کرتے ہوئے جانبدارانہ رپورٹنگ پر معذرت کرنی چاہیے جو ٹرمپ مخالفت میں انتہا درجے پر پہنچے ہوئے تھے۔

نیز نئے امریکی صدر کو بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ انتخابات سے قبل صاف گوئی اور اپنے خیالات کے پرچار میں اخلاقی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے بے شک وہ انتہاپسندانہ حد تک آگے جاچکے ہیں لیکن صدر منتخب ہونے کے بعد انھیں اپنے عہدے کا خیال رکھنا ہوگا۔ کوئی بھی پالیسی یا بیان اسی صورت جاری کیا جانا چاہیے جو قابل عمل ہو۔ نومنتخب امریکی صدر کو اپنے طرز عمل میں اپنی ریاست کے تقدس کا احترام بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔