پاک بھارت مذاکرات بحال کرنے کی ضرورت

بھارت میں نریندر مودی اور ان کے ساتھی اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے جہاں پاکستان دشمنی کے جذبات کو بھڑکا رہے ہیں


Editorial/editorial November 25, 2016
مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے تیزی سے فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ کم از کم چھوٹے تنازعات پر بریک تھرو ہو سکے۔ فوٹو: فائل

کنٹرول لائن پر بڑھتی ہوئی کشیدگی دونوں ملکوں کے لیے کسی بھی حوالے سے فائدہ مند نہیں ہے' کچھ عرصے سے بھارت مسلسل کنٹرول لائن پر جارحیت کر رہا ہے اور اس سے پاکستانی فوجیوں کی شہادت بھی ہوئی ہے جب کہ سویلین افراد کا جانی نقصان الگ ہے' پاکستان بھی جوابی کارروائی کر رہا ہے جس کے نتیجے میں بھارت میں بھی جانی نقصان ہو رہا ہے' یہ صورت حال خاصی تشویشناک ہے' کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر جاری یہ کشیدگی اور مسلسل فائرنگ اور گولہ باری دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان فوجی سطح اور سفارتی سطح پر رابطے بھی ہیں لیکن اس کے باوجود اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

بھارت میں نریندر مودی اور ان کے ساتھی اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے جہاں پاکستان دشمنی کے جذبات کو بھڑکا رہے ہیں' وہیں وہ اپنے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کنٹرول لائن پر پاکستان کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں حالانکہ صورت حال بالکل مختلف ہے۔ پاکستان میں بھی جب بھارت کی جارحیت کا معاملہ اٹھتا ہے تو دہشت گردی کا ایشو پس منظر میں چلا جاتا ہے، دونوں ملکوں کی فوجی اور سیاسی قیادت کو اس ایشو پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ اس وقت اس خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری فیز میں داخل ہو رہی ہے' اس ناسور کے خاتمے کے لیے جنوبی ایشیا کے ممالک کی سرحدیں پرسکون رہنی چاہئیں۔

اگر سرحدیں پرسکون ہوں گی تو اس خطے کے ممالک کی فوج اور انتظامیہ کی ساری توجہ دہشت گردی کے خاتمے پر ہو گی۔ ملکوں کے درمیان مختلف امور پر اختلافات ہوتے ہیں لیکن مدبر قیادتیں ان اختلافات کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہیں' پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی تنازعات موجود ہیں' لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان تنازعات کو بزور طاقت حل کرنے کی کوشش کی جائے' سیاسی تنازعات کو سیاسی انداز سے ہی حل کیا جانا چاہیے۔ پاکستان اور بھارت کی تاریخ اس کی شاہد ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ماضی میں جو جنگیں ہوئی ہیں۔

ان کی تہہ میں تنازعہ کشمیر موجود تھا' اگر یہ تنازعہ حل کر لیا جاتا تو جنگوں سے بچا جا سکتا تھا' بہرحال اب بھی ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ان کا ازالہ کیا جا سکتا ہے' پاکستان نے سفارتی سطح پر امریکا' برطانیہ اور یورپی یونین سے تنازعہ کشمیر پر اپنا کردار ادا کرنے کی متعدد بار اپیل کی ہے لیکن کسی نے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے ایک حد سے بڑھ کر کوئی اقدام نہیں کیا' شاید ان ممالک کی مجبوری ہو گی' اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ اپنے تنازعات کو حل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت کو ہی فہم و فراست سے آگے بڑھنا ہو گا' دونوں ملکوں کو ابتدائی اقدام کے طور پر باہمی مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنا چاہیے' مذاکرات کا سلسلہ بحال ہونے سے دونوں ملکوں میں موجود انتہا پسند کمزور ہوں گے۔

مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے تیزی سے فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ کم از کم چھوٹے تنازعات پر بریک تھرو ہو سکے' دونوں ملکوں کی قیادت کو یہ نکتہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ پرامن سرحدیں ہی دونوں ملکوں کی معاشی و اقتصادی ترقی کی ضامن ہیں۔ کشیدگی برقرار رکھنے اور ایک دوسرے کے خلاف دشمنی اور نفرت کے جذبات بھڑکائے رکھنے سے ایک مخصوص طبقہ تو خوشحال ہو سکتا ہے لیکن عوام غربت کی دلدل میں دھنسے رہیں گے۔