قلیل پنشن میں گزارا کیسے ممکن ہے

عدالت نے وضاحت مانگی ہے کہ غریب ورکرز کو پنشن کی رقم میں کس حد تک اضافہ ممکن ہے؟


Editorial November 25, 2016
بزرگ شہریوں نے تمام عمر ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ فوٹو؛ فائل

بزرگ پنشنرز کو جس قدر قلیل پنشن کی رقم ادا کی جا رہی ہے وہ قابل تشویش ہے۔ سپریم کورٹ نے پنشنرز کے معاملے میں اٹارنی جنرل اور ڈائریکٹر جنرل ای او بی آئی کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے وضاحت مانگی ہے کہ غریب ورکرز کو پنشن کی رقم میں کس حد تک اضافہ ممکن ہے؟ جسٹس ثاقب نے ریمارکس دیے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ورکرز کو ایک لاکھ روپے کی پنشن دی جائے لیکن رقم اتنی ضرور ہو جس سے گزر اوقات ممکن ہو، حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے محنت کش بزرگ شہریوں کے لیے کچھ کرے۔ شنید ہے کہ پنشن کی کل رقم ماہانہ پانچ ہزار دو سو پچاس روپے ادا کی جا رہی ہے۔

پنشنرز کا کہنا بجا ہے کہ اتنے کم پیسوں میں تو علاج و دوا ہی ممکن نہیں تو پھر گزر اوقات کیسے کی جائے۔ عمر رسیدگی کے باعث بزرگ پنشنرز کوئی دوسرا کام کرنے کے بھی لائق نہیں رہتے، ایسے میں گزر اوقات کے لیے انھیں پنشن کے نام پر کم از کم اتنی رقم ادا کی جائے کہ علاج معالجے سمیت گھر کا کچن ہی چل سکے۔ صائب ہو گا کہ پنشن کی حالیہ رقم کو دگنا یا کم از کم ایک مزدور کی تنخواہ کے برابر کر دیا جائے۔

بزرگ شہریوں نے تمام عمر ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے، عمر کے اس حصے میں جب وہ خود کوئی کام کرنے کے لائق نہیں رہے تو حکومت کا فرض بنتا ہے کہ ان بزرگ پنشنرز کے نان شبینہ کے لیے مناسب بندوبست کرے۔ نیز پنشن کے حصول کے لیے شہریوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس سمت بھی توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اپنے بزرگ محنت کشوں کو ان کی زندگی بھر کی خدمات کا محنتانہ اس قدر ادا کرے کہ وہ بھی آسودہ حال زندگی گزار سکیں۔