جونیئر ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت مشکوک

ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجودہاکی ٹیم کوویزے جاری نہیں ہو سکے


Sports Reporter November 26, 2016
حکومتوں کا معاملہ ہے میں کچھ نہیں کر سکتا ( نریندر بٹرا) پلیئرز تیار، حکومت اجازت دے چکی، عدم شرکت کی واحد وجہ ویزے نہ ملنا ہوگی، شہباز فوٹو: فائل

میران شاہ: بھارت میں شیڈول جونیئر ہاکی ورلڈکپ میں پاکستان کی شرکت مشکوک ہو گئی،ایک ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود قومی کھلاڑیوں اورآفیشلزکو ویزے جاری نہیں ہو سکے،اب ایف آئی ایچ کی طرف سے میگا ایونٹ میں شرکت کی تصدیق کیلیے حتمی تاریخ بھی دے دی گئی ہے، پی ایچ ایف کی طرف سے ویزوں کیلیے رابطے پر مزید صبرکرنے کے جواب ملنے لگے، ایف آئی ایچ کے بھارتی صدر نریندر بٹرا نے کہا کہ یہ دونوں حکومتوں کا معاملہ ہے میں اس حوالے سے کچھ نہیں کر سکتا، سیکریٹری پی ایچ ایف شہباز احمد سینئر نے کہا کہ ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم بجھوانے کیلیے پوری طرح تیار ہیں، پاکستانی حکومت بھی شرکت کی اجازت دے چکی ہے،دستبرداری کی وجہ صرف ٹیم کوویزے نہ ملنا ہی ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق اپنی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارتی کھیلوں کی تنظیموں نے پاکستان کو اسپورٹس میں عالمی سطح پر تنہا کرنے کے گھناؤنے منصوبے پرکام شروع کردیا،کرکٹ کے بعد اب بھارتی سازشوں کا رخ ہاکی کی جانب ہے، سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت پاکستان کو 8 دسمبر سے بھارتی شہر لکھنو میں شیڈول جونیئر ہاکی ورلڈ کپ سے دور رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے، یہ بات قابل ذکر ہے کہ انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے صدر نریندر بٹرا ہاکی انڈیا کے سربراہ بھی ہیں، وہ پاکستان کوعالمی کپ میں شرکت سے محروم رکھنے کے لیے متحرک ہو چکے، اس مقصد کے لیے انٹرنیشنل پلیٹ فارم استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایف آئی ایچ کی طرف سے پی ایچ ایف حکام کو واضح پیغام دیا گیاکہ جمعے کی شام تک میگا ایونٹ میں شرکت کی تصدیق کی جائے، دوسری صورت میں انکار تصور کیا جائیگا، ذرائع کے مطابق ایونٹ کا حصہ بننے کے لیے ہوائی جہاز کی ٹکٹیں بک کرائی جا چکی ہیں، ہوٹل بکنگ بھی کرانے کے لیے بھی تیارہیں تاہم اگربھارتی ایمبیسی کی طرف سے پاکستانی ٹیم کو ویزے ہی نہ ملے تولاکھوں روپے کے نقصان کا ذمے دارکون ہوگا؟ ٹیم کوویزے دلائے جائیں وہ ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

مزید معلوم ہوا ہے پاکستان ہاکی فیڈریشن حکام نے نریندر بٹرا سے بھی رابطہ کیا،انھوں نے مدد سے معذوری کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی ورلڈ کپ میں شرکت کا دارومدار دونوں حکومتوں پر ہے، اس لیے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی ٹیم کے ویزوں کے لیے 24 اکتوبر کو بھارتی سفارتخانے میں درخواستیں دی گئی تھیں۔

قوانین کے مطابق 15دن قبل درخواست دینا ضروری ہوتا ہے، اسپیشل کیس میں تو ایک دن میں بھی ویزے جاری ہو جاتے ہیں تاہم ایک ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ویزے جاری نہیں کیے گئے۔اس حوالے سے پی ایچ ایف کے سیکریٹری شہباز سینئر نیکہاکہ منتظمین نے جمعے کی شام تک ایونٹ میں شرکت کی تصدیق مانگی لیکن ویزوں کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے، ویزوں کے لیے درخواستیں بروقت دی گئی ہیں، امرتسر سے لکھنو کے لیے بکنگ بھی کرا چکے، ویزے جاری کرنا بھارت کے اختیار میں ہے۔

نمائندہ ''ایکسپریس'' سے خصوصی بات چیت میں شہباز احمد سینئر نے مزیدکہا کہ ہم ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم بجھوانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، پلیئرزکا اعلان بھی ہو چکا، تیاریاں آخری مراحل میں ہیں،کھلاڑیوں کی کٹس بھی تیار ہو چکیں جو 1،2دن میں مل بھی جائیں گی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے ہم نے حکومت سے اجازت طلب کی تھی جو مل چکی ہے۔

ایک سوال پر سیکریٹری پی ایچ ایف نے کہاکہ ورلڈ کپ میں شرکت کی تصدیق کرنے کی تاریخ بڑھانے کا دارومدار ایف آئی ایچ پر ہے، وہ اس کو جتنا چاہیں بڑھابھی سکتے ہیں، سیکریٹری پی ایچ ایف نے کہا کہ ہم نے بار بار ویزوں کے لیے بھارتی ایمبیسی سے رابطہ کیا وہاں سے جواب ملتا ہے کہ ابھی آپ صبرکریں، ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ صرف ٹیم کو ویزے نہ ملنا ہی ہو سکتی ہے، اگر اس کے باوجود میگا ایونٹ کا حصہ نہ بننے پر ہمیں جرمانہ ہوا تو کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ہمارے نزدیک ملکی عزت و وقار سب سے پہلے ہے۔