شفاف انصاف کی فراہمی

از خود نوٹسز سے انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے، عوام عدلیہ کو ریاست کی آخری امید سمجھتے ہیں۔


Editorial November 27, 2016
دنیا بھر کے عدالتی نظام کی بنیاد عدل وانصاف پر استوار ہے ۔ فوٹو فائل

دنیا بھر کے عدالتی نظام کی بنیاد عدل وانصاف پر استوار ہے جب کہ عدل بھی ایسا بلاتاخیر اور سستا جو شفاف ہو اور عدلیہ کی فراہمی انصاف کے مروجہ اقدار کا آئینہ دار ہو۔اس لیے عدالتی تاریخ کے ہر دور میں اس لازوال مقولے کی گونج سنائی دیتی رہی ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے، ایک نامور روسی ادیب سولزے نتسن کا قول ہے کہ انصاف ضمیر ہے ، شخصی یا انفرادی نہیں بلکہ جو انسانیت کے ضمیر کی نمائندگی کرے۔ان حوالوں کی ضرورت اور اہمیت کا سیاق وسباق عدالت عظمیٰ کا ایک ایسا فیصلہ بنا ہے جس میں گزشتہ روز سپریم کورٹ نے قتل کے ایک ملزم کو24 سال بعد بری کردیا۔

کیس کی نوعیت کچھ اس طرح تھی کہ ملزم مظہر فاروق پر ایک شخص نثار احمد کے قتل کا الزام تھا اور قصور پولیس نے اسے گرفتارکر کے مقدمہ چلایا۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سزائے موت دی اور ہائیکورٹ نے سزا کو بحال رکھا۔ جمعے کو جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس طارق مسعود پر مشتمل3 رکنی بینچ نے اس اہم کیس کی تہہ تک پہنچ کر کمزور شہادت اور عینی گواہ کے بیان میں تضاد پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتول کو2گولیاں لگیں جب کہ گواہان نے 4گولیاں لگنے کابیان دیا ، آلہ قتل بھی ملزم کا نہیں تھا۔

استغاثہ کے وکیل نے تسلیم کیا کہ رپورٹ کے مطابق برآمد پستول ملزم کا نہیں تھا۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے قراردیا کہ میڈیکل رپورٹس اور گواہان کے بیانات میں تضاد ہے، استغاثہ ملزم کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے، برآمد ہونے والا پستول بھی ملزم کا نہ تھا۔ایک انگریزی معاصر نے لکھا کہ فاروق کی زندگی کی درد انگیزی کا باب 24 سال بعد کھلا ، اسی تناظر میں بعض قانونی ماہرین نے ملکی عدالتی نظام میں مقدمات کے تصفئے میں مضمر دائمی تاخیر کو ایک المیہ قراردیا اور نشاندہی کی کہ سول اور کرمنل کیسز میں مدعی اور مدعا علیہان کو فیصلہ سننے میں برس ہا برس لگ جاتے ہیں۔

مذکورہ کیس 1992 میں درج ہوا، مظہر فاروق کو قتل کا ملزم ٹہرایا گیا، پولیس کے مطابق اس پر الزام تھا کہ اس نے 22 سالہ گریجویٹ نثار احمد کو قتل کیا ، وجہ قتل وہ چراگاہ بنی جس میں فاروق اپنے مویشی چرانے لے گیا تھا ، جہاں زبانی تلخ کلامی کے بعد فاروق نے نثار کا مرڈر کیا ، متوفی نثار کے وکیل نے سپریم کورٹ کے روبرو بیان دیا کہ ملزم فاروق دن دہاڑے نثار کے والد طفیل احمد کی حویلی میں داخل ہوا اور نثار کو قتل کرکے فرار ہوگیا، ٹرائل کورٹ نے 1996 میںمظہر فاروق کو اشتہاری قراردیا گیا،اس وقت میاں مظفر احمد مظہر فاروق کے وکیل تھے۔

بہر کیف کیس جب عدالت عظمیٰ کے سامنے آیا تو بنچ نے میڈیکل رپورٹ میں تضاد محسوس کیا اور گواہوں کے بیانات بھی عدلیہ کو مطمئں نہ کرسکے ۔یوں فاروق پھانسی سے بچ گئے ۔واضح رہے 2002 کے ایک مقدمہ قتل میں دو بھائیوں غلام سرور اور غلام قادرکو سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ قبل بری کرنے کا حکم دیا تو پتا چلا کہ انہیں تو دو سال قبل بہاولپور جیل میں پھانسی دی جا چکی ہے، اسی طرح لاہور کے ایک نوجوان مظہر حسین بھی جب سپریم کورٹ کے حکم سے بری کیے گئے تو ان کا کافی ماہ پہلے جیل میں بیماری کے سبب انتقال ہوچکا تھا۔

ملک کے سیاسی سماجی اور قانونی حلقوں میں ان واقعات کو غلطی سے ہونے والی الم ناک اموات سے تعبیر کیا گیا ، ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز نے کیس کی گہرائی میں جاکر سزائے موت کے ملزموں کو بری تو کیا لیکن جوڈیشیل سسٹم سے وابستہ میکنزم عدالت عظمیٰ کو اس اندوہ ناک حقیقت سے آگاہ نہیں رکھ سکی تھی کہ وہ بدنصیب تو کب کے اللہ کو پیارے ہوگئے تھے ۔

اب بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ عدالتی نظام میں بھی ایک مثبت شیک اپ ہو، عدالتی احتساب کی کوئی نظیر عوام کی نگاہوں کے سامنے آجائے، عدلیہ رونما ہونے والی غلط اموات کا جائزہ لے اور ممکنہ طور پر عدالتی اصلاح کے لیے جاری عمل کو مہمیز کرنے کی ہدایت دی جائے تاکہ ایک طرف پولیس کی فرسودہ تفتیش، کمزور پراسیکیوشن و چالان اور مصدقہ و حقیقی گواہوں کے بلا اکراہ بیانات ،ان کے عدالتوں میں آمد پر تحفظ کی ضمانت اور مقدمات کے عدالتی فیصلوں میں تاخیر کے ازالہ کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ پولیس سے لے کر چھوٹی عدالتوں تک بے انتہا پیچیدگیاں اور خامیاں موجود ہیں۔

کتنا درد انگیز تناظر ہے کہ ایک عدالت نے سزائے موت دی اور دوسری عدالت نے بری کردیا تو معلوم ہواکہ قیدی ''قید ِحیات و بند ِغم '' سے ہی چھوٹ گیا یا جس نے اپنی عمر عزیزی کے 24 سال جرم بے گناہی میں گزارے تو اس کے اور اس کے اہل خانہ کے دلوں پر کیا گزری ہوگی ۔ عدلیہ انصاف اور ظلم کے درمیان رونما ہونے والے واقعات کا نوٹس لے، سزا ان عمال کو بھی ملنی چاہیے جن کی کوتاہی سے کسی کی جان جائے۔ بلاشبہ عدلیہ نے ججز کی تقرریوں میں بے ضابطگی کا سختی سے نوٹس لیا ہے، از خود نوٹسز سے انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے، عوام عدلیہ کو ریاست کی آخری امید سمجھتے ہیں۔