مشکل اقتصادی صورتحال
پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں‘ مراعات اور الاؤنسز پر بھاری رقوم خرچ ہوتی ہیں
پاکستان کے مالیاتی ماہرین ملک کی اقتصادی ترقی کے خاصے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں لیکن ان دعوؤں کا ثبوت زمینی حقائق سے مرتشح نہیں ہوتا' ایک خبر کے مطابق حکومت نے گزشتہ سہ ماہی میں 3ارب ڈالر کا مزید غیر ملکی قرضہ حاصل کیا ہے جس کا بیشتر حصہ پہلے سے لیے گئے قرضوں کے سود کی ادائیگی کے لیے صرف ہو گا جب کہ دیگر اہم ضروریات کے لیے ایک بار پھر عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا ہو گا۔
رہا کشکول توڑنے کا وعدہ تو اس کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ: ''وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا'' وطن عزیز پاکستان کو اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے بھی بیرونی امداد کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ دریں اثناء اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے عالمی منڈیوں اور تجارت کی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر آیندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 5.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی اکتوبر2015ء کے مقابلے میں1.6 فیصد سے بڑھ کر اکتوبر 2016ء میں 4.2فیصد کی سطح تک پہنچ گئی ہے، کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں ہونے والا یہ اضافہ2.6 فیصد ہے، افراط زر ( inflation core) میں بھی اضافہ نوٹ کیا گیا ہے جس کے پیش نظر آیندہ 6 ماہ میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی مانیٹری پالیسی کے حوالے سے جاری پالیسی بیان کے مطابق مہنگائی بلحاظ صارف اشاریہ (سی پی آئی انڈکس) قیمت میں اکتوبر 2015ء کے دوران پست ترین سطح تک پہنچنے کے بعد اضافے کا رجحان ہے جس میں کبھی کبھار موسمی انحرافات آتے رہے ہیں۔ بہرحال حکومت کی معاشی پالیسی میں اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا' بیرونی اور اندرونی قرضوں میں مسلسل اضافہ ملک کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے' حکومت کو قرضوں سے نجات کے لیے کوئی راہ عمل تشکیل دینا چاہیے' پہلی ترجیح غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کو دینی چاہیے۔
پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں' مراعات اور الاؤنسز پر بھاری رقوم خرچ ہوتی ہیں' صدر ہاؤس' وزیراعظم ہاؤس اور اسپیکرز ہاؤسز پر بھی بھاری اخراجات ہو رہے ہیں' سرکاری وفود کے غیر ملکی دورے بھی خزانے پر بھاری بوجھ ڈال رہے ہیں' منتخب جمہوری حکومت کو اخراجات کے حوالے سے ایمرجنسی لگانی چاہیے اور کم از کم پانچ سال تک غیر ترقیاتی اخراجات ختم کر دینا چاہئیں کیونکہ ایسا کرنا ملکی معیشت کی بہتری کے انتہائی ضروری ہے۔ ہمارے پالیسی سازوں کو کسی مد میں اخراجات کی اجازت دینے سے قبل ملک کی حقیقی اقتصادی صورتحال کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔