پاک فوج کے نئے سربراہ کا تقرر

جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کے16ویں سربراہ ہیں


Editorial November 27, 2016
، فوٹو؛ آئی ایس پی آر

SWAT: لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاک فوج کا نیا سربراہ اور لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کر دیا گیا ہے' جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر میں کمان تبدلی کی تقریب 28نومبر کو ہو گی جس میں جنرل زبیر حیات اپنا نیا عہدہ سنبھالیں گے' جنرل قمر جاوید باجوہ 29نومبر سے ذمے داریاں سنبھالیں گے جب کہ اسی روز جنرل راحیل شریف آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ اور جنرل زبیر محمود حیات نے اپنی تعیناتی کے بعد وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے الگ الگ ملاقات کی اور اعتماد کا اظہار کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے اور مسلح افواج مادر وطن کے دفاع کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھیں ایک بڑی ذمے داری سونپی گئی ہے اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ قوم کو مایوس نہیں کروں گا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ پاک فوج کے16ویں سربراہ ہیں جب کہ ان کا تعلق بھی 16بلوچ رجمنٹ سے ہے اور ان کی تقرری بھی 2016ء میں ہوئی' ان سے قبل جنرل یحییٰ خان' جنرل اسلم بیگ اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کا تعلق بھی بلوچ رجمنٹ سے تھا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے انتہائی کٹھن اور مشکل حالات میں آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا ہے ان کے سامنے داخلی اور خارجی سطح پر درجنوں چیلنجز درپیش ہیں جن سے انھوں نے نبرد آزما ہونا ہے۔

ایک جانب بھارت کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر صورت حال کشیدہ کیے ہوئے ہے' اس کی آئے دن ہونے والی فائرنگ اور گولہ باری سے متعدد فوجی جوان اور درجنوں شہری شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔ بھارتی حکمرانوں کی جانب سے پاکستان کو دھمکیوں اور اشتعال انگیزیوں کے باعث فی الفور سرحدوں پر امن قائم ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ اگلے دن بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی بھی دھمکی دے ڈالی۔ شمالی مغربی سرحد پر افغانستان کی جانب سے دہشت گردوں کی آمد بھی ایک چیلنج کا روپ دھار چکی ہے۔ داخلی سطح پر شمالی وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والی گڑ بڑ' کراچی میں امن و امان کی خراب صورت حال اور سی پیک کو درپیش مسائل ملکی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ قرار دیے جا چکے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے آرمی چیف ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے جو مثال قائم کی اسے جاری رکھیں گے' پالیسی کا تسلسل برقرار رہے گا' ضرب عضب کے آغاز کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی' عوام کو فوج کی نئی قیادت پر پہلے کی طرح اعتماد ہے اور مشرقی سرحدوں پر توجہ برقرار رہے گی۔ اس بیان کے تناظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا تسلسل برقرار رہے گا۔ بدلتے وقت کے ساتھ دہشت گرد نئی سے نئی ٹیکنالوجی اور حربے استعمال کر رہے ہیں لہٰذا دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کی گئی جنگ میں بھی حالات کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے نئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔

جنرل راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف موثر پالیسی اپنائی جس میں بڑی کامیابیاں ملیں' قوم کو نئے آرمی چیف سے بھی بڑی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے لیے پورے عزم سے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔کنٹرول لائن کے حوالے سے جنرل قمر جاوید باجوہ وسیع تجربہ رکھتے ہیں لہٰذا امید ہے کہ وہ کنٹرول لائن پر جاری کشیدگی سے بہتر انداز میں نمٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جہاں تک سول ملٹری ریلیشن شپ کا تعلق ہے تو کچھ سیاسی حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے کہ اندرون خانہ سول اور ملٹری تعلقات کشیدگی اور تناؤ کا شکار ہیں اور اس تاثر کو پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ سول حکومت ناکام ہو چکی اور فوج کسی بھی وقت برسراقتدار آ سکتی ہے۔

لیکن جنرل راحیل شریف نے اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کیا کہ ان افواہوں میں کوئی صداقت نہیں، ملکی بقا' سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سول اور ملٹری قیادت ایک پیج پر ہیں اور ان معاملات پر ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ پاک فوج کے نئے سربراہ کے سامنے ان کے پیش رو جنرل راحیل شریف کی شاندار روایت موجود ہے' انھوں نے دہشت گردی کی جس انداز میں بیخ کنی کی' اسے جاری رہنا چاہیے' پاکستان کی ترقی و خوشحالی اسی وقت ممکن ہے جب دہشت گردوں کے بچے کھچے ٹھکانے بھی ختم ہو جائیں گے۔