بھارت کا مذاکرات سے پھر انکار
بھارت کی جانب سے تعلقات کی بحالی اور مذاکرات سے پہلوتہی کوئی نئی بات نہیں
بھارت نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے موقع پر پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر ہرزہ سرائی کی ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے کے لیے جاری دہشتگردی کو برداشت نہیں کریں گے۔
بھارت کی جانب سے تعلقات کی بحالی اور مذاکرات سے پہلوتہی کوئی نئی بات نہیں، نیز گاہے بگاہے بھارت جعلی سرجیکل اسٹرائیکس، دہشتگردی کی وارداتوں اور دراندازی کے الزامات پاکستان کے سر منڈھتا آیا ہے جس کی حقیقت سے اب پوری دنیا ہی واقف ہو چکی ہے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کا کوئی ثانی نہیں، ایسے موقع پر جب کہ جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے میڈیا بریفنگ میں باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ پاکستان بھارتی شہر امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کر رہا ہے اور بھارت کے تمام تر منفی اقدامات کے باوجود پرامن ہمسائیگی اور کشمیر سمیت تمام مسائل کو صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
بھارت نے اس موقع پر یہ باور کرانا ضروری سمجھا کہ امن عمل اس کی خواہشات کا حصہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ بھارت مذاکرات کے حق میں ہے لیکن موجودہ صورتحال میں نہیں۔ انھوں نے ایک بار پھر الزام لگایا کہ نگروٹہ علاقے میں فوجی کیمپ پر حملہ سرحد پار سے دہشتگردی کی ایک اور مثال ہے، جتنی جلدی پاکستان دہشتگردی کی اعانت ختم کرے گا اتنی جلدی تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔
دہشتگردی کی وارداتوں اور شرپسند عناصر کی اعانت کون سا ملک کر رہا ہے یہ بھارتی جاسوسوں کا پاکستان میں پکڑے جانے سے بالکل واضح ہے، نیز بھارتی وزرا اور اعلیٰ عہدے پر متمکن شخصیات خود کئی بار اس بات کا اقرار کر چکی ہیں کہ پاکستان کو دولخت کرنے اور اب بلوچستان میں شورش کے پیچھے خود ان کے ملک کا ہاتھ ہے۔ اس واضح اقرار کے باوجود بھی بھارت الزام تراشیوں سے باز نہیں آ رہا۔ علاوہ ازیں بھارت نے آیندہ سال پاکستان اور بنگلہ دیش سے متصل سرحدوں پر کئی تہوں پر مشتمل اسمارٹ باڑ لگانے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لیے 20 عالمی کمپنیاں تکنیکی جائزہ لے رہی ہیں۔ اس نظام کو آیندہ سال کے آخری حصے میں نصب کیے جانے کا امکان ہے، اس مقصد کے لیے تربیتی منصوبے جن میں سے دو جموں، ایک ایک پنجاب اور گجرات میں پہلے ہی شروع کر دیے گئے ہیں جب کہ ایک منصوبہ آسام کے دھوبری علاقے میں شروع کیا جائے گا۔
بھارتی جارحیت اور انتہا پسندی اس کے ہر اقدام سے واضح ہے جب کہ پاکستان اب بھی خطے کے امن اور عوام کے بہتر مستقبل کے لیے تعلقات میں بحالی اور مذاکرات کا خواہاں دکھائی دیتا ہے اسی لیے پاکستان نے امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان اور بھارت کے درمیان تصفیہ طلب تنازعات کے حل کے لیے کردار ادا کرنے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔
بھارت کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے، اب وہ وقت نہیں رہا جب وہ اپنی جھوٹی کہانیوں سے اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔ اب ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارت جان بوجھ کر کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں باعث تشویش ہیں۔ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان سمیت عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔