سرتاج عزیز اور نریندر مودی کی ہیلو ہائے

سرتاج عزیز نے امرتسر پہنچ کر گیند بھارت کے کورٹ میں پھینک دی ہے


Editorial December 04, 2016
. فوٹو: فائل

بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں افغانستان میں ترقی اور امن سے متعلق دو روزہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اتوار کو شروع ہوئی، جس کا افتتاح بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کیا۔ نریندر مودی کی طرف سے دیے گئے عشایئے کے موقع پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی وزیراعظم سے مصافحہ کیا اور انھیں وزیراعظم نواز شریف کا تہنیتی پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ پاکستان تمام مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا خواہاں ہے۔ نریندر مودی نے وزیراعظم نواز شریف کی خیریت دریافت کی ۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ نواز شریف صاحب ٹھیک ہیں اور آپ کے لیے انھوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ میری طرف سے بھی وزیراعظم نواز شریف کو سلام اور نیک تمنائیں پہنچا دیں۔

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے غیررسمی ملاقات کے دوران ایک دوسرے کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے بریک تھرو ہے جس کے یقیناً خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

سرتاج عزیز کا دورہ بھارت کا شیڈول اچانک تبدیل ہونے اور ایک روز پیشتر ہی امرتسر پہنچنے پر بھارتی میڈیا کی جانب سے مذاکرات کے امکان کی قیاس آرائیاں شروع کر دی گئی تھیں۔ تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ سرتاج عزیز کے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس شروع ہونے سے ایک روز قبل ہی امرتسر پہنچنے کا مقصد بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے وہاں کے حکام سے غیر رسمی اور بیک ڈور مذاکرات بھی ہو سکتا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی اور تناؤ کو کم کر کے انھیں ایک دوسرے کے قریب لایا جائے۔

بھارت کی جانب سے پاکستان میں ہونے والی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کر کے اسے سبوتاژ کرنا اور سرحدوں پر گولہ باری اور فائرنگ کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے اس امر کا بھی اظہار کیا جا رہا تھا کہ شاید پاکستان بھی بھارتی رویے کے جواب میں امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا لیکن سرتاج عزیز نے کئی دن پیشتر ہی یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ تمام تر اختلافات کے باوجود بھارت ضرور جائیں گے جس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے مذاکرات کی راہ میں پیدا کردہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود خطے میں قیام امن اور استحکام کے لیے تمام تر کوششیں بروئے کار لانے اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات بہتر بنانے کا خواہاں ہے۔

سرتاج عزیز نے امرتسر پہنچ کر گیند بھارت کے کورٹ میں پھینک دی ہے کہ وہ ہٹ دھرمی اور ضد چھوڑ کر مذاکرات کی جانب قدم بڑھائے لیکن ابھی تک بھارت کی جانب سے ایسا کوئی مثبت اشارہ نہیں ملا جس سے یہ امید کی جا سکے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں اور ان کے درمیان جلد مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے۔ بھارتی حکام مذاکرات نہ کرنے کی وہی پرانی رٹ دہرا رہے ہیں، بھارتی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے الزام تراشی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنا محاسبہ کرے کہ دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی وجہ کیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے مستقبل قریب میں مذاکراتی عمل کی بحالی کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جتنی جلدی پاکستان دہشت گردی کی اعانت ختم کرے گا اتنی جلدی تعلقات بحال ہو سکتے ہیں۔ جب بھی پاکستان مذاکرات کی بات کرتا ہے تو بھارت کی جانب سے دہشت گردی کو آڑ بنا کر راہ فرار اختیار کی جاتی ہے۔ جہاں تک دہشت گردی کا مسئلہ ہے تو پاکستان یہ واضح کر چکا ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے وہ بڑے پیمانے پر جنگ لڑ رہا ہے۔ دہشت گردی سے ناصرف پاکستان بلکہ پورا خطہ متاثر ہو رہا ہے لہٰذا اس عفریت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ خطے کے ممالک ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرنے کے بجائے باہمی تعاون اور تعلقات کو مضبوط بنائیں۔

مذاکرات سے انکار درحقیقت دہشت گردوں کے ایجنڈے کی تکمیل کا دوسرا رخ ہے جو اپنی مذموم کارروائیوں کے ذریعے خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے لیے مصروف عمل ہیں۔ اس تناظر میں صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو بھارت اور افغانستان کو پاکستان کے خلاف الزام تراشیاں کرنے کے بجائے دوستانہ تعلقات مضبوط بنانے کی جانب توجہ دینی چاہیے، باہمی تعاون اور اشتراک عمل ہی دہشت گردی کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔

عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششوں اور سرحدوں پر جنگی جنون کو ہوا دینے کے باوجود پاکستان نے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کر کے بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ اب یہ جمود ٹوٹتا ہے یا نہیں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر یہ بھارت کے لیے بھی خطے میں کشیدگی ختم کرنے اور قیام امن کے لیے بہترین موقع ہے جسے اسے کسی بھی صورت رائیگاں جانے نہیں دینا چاہیے۔