آتشزدگی حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
کراچی کی مصروف شاہراہ فیصل پر واقع کثیر منزلہ ہوٹل میں آگ لگنے سے 12 افراد جاں بحق ہوئے
کراچی کی مصروف شاہراہ فیصل پر واقع کثیر منزلہ ہوٹل میں آگ لگنے سے 12 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 4 خواتین شامل تھیں، جب کہ 74سے زائد زخمی ہوئے جن میں ایک بینک کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اور غیر ملکی بھی شامل تھے ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کمشنر کو واقعے کا فوری جائزہ لینے اور محکمہ داخلہ و محنت اور بلدیہ کراچی کے افسران پر مشتمل ٹیم کو آتشزدگی کے اسباب جاننے کی ہدایت کی ہے ، فائر بریگیڈ چیف کا کہنا ہے کہ کچن میں آگ بھڑک اٹھی ، اے سی سسٹم کے مسلسل جاری رہنے سے دھواں راہداری اور کمروں تک پہنچا اور ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے ملکی و غیر ملکی مہمان دم گھٹنے سے ہلاک جب کہ بعض گھبراہٹ میں اونچائی سے کودنے کے باعث زخمی ہوئے، ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔
مشہور کہاوت ہے کہ ''آگ اور بارود کبھی ساتھ نہیں سوتے۔'' لیکن شہر قائد میں لگنے والی آگ اور اس سے متاثرہ عمارتیں، ہوٹلز ، فیکٹریز اور گنجان رہائشی علاقوں میں قائم کارخانے اور کیمیکل کے گودام اس کہاوت کو غلط ثابت کرچکے ہیں جب کہ گزشتہ چند سالوں کے اعداد و شمار ہی سے ملک کے مختلف شہروں میں آتشزدگی کے درجنوں درد ناک واقعات کا ریکارڈ نظروں کے سامنے آجاتا ہے جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ متعلقہ محکموں کی مجرمانہ غفلت ، تساہل اور بدعنوانیوں کے باعث آتشزدگی کے واقعات وقفہ وقفہ سے ہوتے رہتے ہیں ، وقتی طور پر حکومتی ہدایت اور داد رسی کے دعوے زور و شور سے کیے جاتے ہیں۔
تحقیقاتی رپورٹ جلد مکمل کرنے کا کہہ کرحکام سب کچھ بھول جاتے ہیں اور وقت حادثات کی پرورش کرتا رہتا ہے، چنانچہ کوئی نہیں جانتا کہ شہر قائد کی ٹمبر مارکیٹ میں لگنے والی آگ کسی تخریب کاری کا نتیجہ تھی یا محض حادثہ ۔ ملک کے کئی تجارتی مراکز، کثیر منزلہ فلیٹس ، مخدوش عمارتوں ، کارخانوں اور تنگ گلیوں یا سڑکوں پر قائم آتش گیر مواد سے لیس دکانوں میں اگ بھڑکنے کے واقعات میں سیکڑوں افراد جھلس کر ہلاک و زخمی ہوتے رہتے ہیں۔ بین الصوبائی روٹس کی بسوں کے ایمرجنسی گیٹ عموماً بند ہوتے ہیں، پیٹرول سے بھری بسوں میں آرسی ڈی ہائی وے، سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی ویز میں لگژری بسوں، ٹرالروں، ٹریکٹروں ،گڈز ٹرکوں اور آئل ٹینکروں کی ٹکر سے انسانی جانوں ، سازوسامان کا اتلاف روز کا معمول سمجھا جاتاہے، کوئی ادارہ جاتی میکنزم نظر نہیں آتا، ہوٹلز، فیکٹریز، صنعتی یونٹوں، گارمنٹس اور رنگ و روغن تیار کرنے والے کارخانوں ، سینما اور دفاتر سمیت ہر قسم کے گوداموں اور بلند و بالا رہائشی عمارتوں میں فائر فائٹنگ، ایمرجنسی ایگزٹ اور فائر الارم بجانے کی سہولتوں کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کمزور ہے۔
اگرچہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے سیکڑوں ماہر انسپکٹر اور اہلکار متعین ہیں مگر ان کی کارکردگی جانچنے کا کوئی نظام نہیں ، بس اللہ ہی کے سہارے سارا سسٹم چل رہا ہے۔ 2012 ء میں بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹس فیکڑی میں خوفناک آتشزدگی اگرچہ مجرمانہ سازش کا نتیجہ تھی جس میں ڈھائی سو سے زائد محنت کش جل کر خاک ہوگئے ، ان میں گھر کے واحد کفیل مرد وزن بھی تھے، غریب ہنرمند خواتین کی بھی بڑی تعداد تھی جو لقمہ اجل بن گئی، فیکٹری کے تمام ایمرجنسی راستے مقفل تھے، مزدوروں کے حالات کار کی رپورٹوں میں تضاد تھا اورانتظامی بے حسی کی انتہا نے کراچی کی بلدیہ فیکٹری کے سانحہ نے شہریوں کے دل دہلا دیے تھے ۔
بتایا جاتا ہے کہ آتشزدگی سے متاثر ہوٹل کے بالائی حصوں سے مہمان مدد کے لیے پکارتے رہے، اسنارکل سیڑھی کیوں حرکت میں نہیں آئی،پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو آگ بجھانے والی جدید ترین ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل لمبی سیڑھیوں اور اونچائی سے کودنے والوں کو بچانے والے فومی گدے اور نائیلون سے بنی ہوئی مضبوط چادریں کب روبہ عمل لائی جائیں گی؟عام فلموں کے سارے اسٹنٹ مین ایسی چادروں کی بدولت کئی سو فٹ اونچائی سے کود تے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آتشزنی اور آتشزدگی کے نازک سانحاتی فرق کو سمجھنے والی تحقیقاتی ٹیم نے اب تک کون سے سانحہ کی شفاف رپورٹ حکومت کو دی اور اسے حکمرانوں نے کب عوام کے سامنے پیش کیا؟ سیکڑوں لیبر قوانین ہیں ، بلڈنگ کنٹرول کے قواعد و ضوابط کی کون دھجیان اڑاتا ہے، ہائی ویز کے حکام کی مانیٹرنگ کہاں ہے، شاہراہیں لہو زار ہیں، حکام اندوہناک حادثات کو روکنے میں ناکام کیوں رہے ہیں؟ رہائشی علاقوں میں گیس سیلنڈروں کے دھماکوں سے ہلاکتوں کی ذمے داری کس کے سر ڈالی جائے۔
یہاں تو کوئی ذمے داری قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں، محکمے ایک دوسرے پرالزام تراشی کرتے ہیں، گزشتہ روز کوئٹہ میں ایک گودام کی آگ بجھالی گئی ، اسی طرح کراچی میں ہوٹل کی آتشزدگی کے بعد سہ پہر کو انکم ٹیکس بلڈنگ میں آگ بھڑک اٹھی، بعض مفاد پرست اور کرپٹ عناصر کی جانب سے ماضی میں سرکاری ریکارڈ ضایع کرنے کے لیے بھی آگ لگانے کے واقعات رونما ہوئے ہیں جب کہ بسوں کی ٹکر سے خوفناک آگ بھڑکنے سے مسافر جل کر کوئلہ بن چکے ہیں، آگ بجھانے کے لیے ہمیں پتھر کے دور سے باہر نکلنا ہوگا۔