کشمیر ٹرمپ کے لیے ٹیسٹ کیس

جنوبی ایشیا میں امن و استحکام مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑا ہوا ہے


Editorial December 06, 2016
جنوبی ایشیا میں امن و استحکام مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑا ہوا ہے : فوٹو: فائل

امریکا کے نو منتخب نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کے حل میں مرکزی کردار ادا کرسکتے ہیں، چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان رابطہ بھی ہوا تھا ۔ امریکی ٹی وی''این بی سی نیوز''سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں موجود تنازعات اور خاص طور پر مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، وہ معاملات حل کرنے کی غیرمعمولی مہارت رکھتے ہیں اور پاکستان اور بھارت چاہیں تو وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔

امریکی نائب صدر نے یہ باتیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیچیدہ شخصیت کے حوالہ سے کہی ہیں جو انتہائی حیران کن لگتی ہیں کیونکہ جن تجزیہ کاروں اور سیاسی و سفارتی مبصرین کو ٹرمپ کی صدارت کے آیندہ امکانات میں ماسوائے افراتفری، انارکی اور ناقابل یقین اقدامات کے تباہ کن نتائج و اثرات کے کچھ نظر نہیں آتا وہ مائیک پینس کی رجائیت پسندی پر مسکرا ہی سکتے ہیں، تاہم اگر سنجیدگی سے دیکھا جائے تو مائیک پینس نے کوئی دیومالائی گفتگو نہیں کی، وہ سیاست کے امکانات کے وسیع تر تناظر میں رہتے ہیں، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ٹرمپ نے ان میں کچھ خاص چیز دیکھ کر ہی انھیں نائب صدارت کے لیے نامزد کیا تھا، دلچسپ حقیقت یہ ہے خود مائیک پینس نے ٹیڈ کروز کو بطور صدر پسند کیا تھا۔

اب وہی شخص ڈونلد ٹرمپ کا دست راست بلکہ نفس ناطقہ بننے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ حقیقت میں جنوبی ایشیا میں امن و استحکام مسئلہ کشمیر کے حل سے جڑا ہوا ہے، خطے کو جس مسئلے نے فلیش پوائنٹ بنایا ہے وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی اندوہ ناک صورتحال ہے جسے بھارتی مظالم نے اور بھی الم ناک کردیا ہے، علاقائی سیاست ، عسکری حرکیات اور ایٹمی صلاحیت کے حامل پڑوسیوں کے مابین امن ، معمول کے تعلقات کی بحالی ، سفارت گری اور تجارت ممکن ہی نہیں جب تک عالمی قوتیں کشمیر کا مسئلہ حل کرنے پر راضی نہیں ہو جاتیں۔

خطے کے اس درد کی دوا ان ہی بالا دست طاقتوں کے پاس ہے جنہوں نے اپنے مفادات کی جنگ میں کشمیر کو فراموش کیا ہے مگر اس بار معاملہ کچھ اور ہے ، اس لیے امریکا کے نائب صدر نے ٹرمپ کے زور بازو کا میدان کشمیر منتخب کیا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ ٹرمپ بڑبولا ضرور ہے مگر اس نے ایک ایمپائر کھڑی کی ہے ، وہ جینیئس ہے، جو کہتا ہے کر کے دکھا بھی سکتا ہے، اسی راز کو پانے کی ضرورت ہے اور ٹرمپ کی اسٹرٹیجی کو بھی جس کے تحت وہ عالمی سربراہوں سے مواصلاتی رابطے کررہے ہیں۔

ٹرمپ کا کشمیر کے لیے ثالثی پر تیار ہونا کوئی انوکھی بات نہیں، مائیک پینس نے سوجھ سمجھ کر یہ پیشکش کی ہے اور اس بیان کے بھارتی رد عمل کا بھی انھیں خوب اندازہ ہوگا کہ مودی کشمیر کی وادی کا ذکر کرنے پر جلنے لگتے ہیں، کشمیر مودی کے لیے نو گو ایریا ہے، بھارتی سرکار کشمیریوں کے دل ودماغ فتح نہیں کرسکتی، چاہے کتنی بربریت کا مظاہرہ ہو کشمیری عوام اب فیصلہ کی دہلیز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، لہٰذا امریکا کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ مسئلہ کشمیر کی گیند تاریخ اور لمحہ موجود کی عالمی سیاست کے کورٹ میں ہے۔ مسئلہ کشمیر کے ممکنہ حل کو ٹرمپ کی کوششوں سے نتھی کر کے مائیک پینس نے بڑی پیش رفت کی ہے ان کی معروضات میں غور و فکر کا کافی سامان موجود ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے جس کی وجہ تنازع کشمیر ہے تاہم نئی امریکی انتظامیہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ ہے، خطے میں استحکام کے لیے جوہری ممالک کے درمیان معاملات حل ہونے چاہئیں۔ انھوں نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ خطے میں استحکام چاہتے ہیں، انھوں نے پاکستان اور بھارتی حکام سے گفتگو میں کہا ہے کہ امریکا دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ٹرمپ کے بارے میں پھیلائے گئے خدشات اور ہرزہ سرائیوں کے بیچ امریکی میڈیا کے انداز نظر کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جو کہتا ہے کہ ٹرمپ ہٹلر نہیں مگر ہوسکتا ہے امریکا ایک اور جرمنی بن جائے، انھوں نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ اب تک 50 سربراہان مملکت سے فون پر گفتگو کرچکے ہیں، اور ان کے درمیان ہونے والی بات چیت ذاتی ہے جس میں انھیں مبارکبادیں دی جا رہی ہیں۔ نواز شریف سے ان کی گفتگو پر بحث چل نکلی جب کہ تائیوان کے صدر سائی انگ وان سے فون پر ہیلو ہائے پر چینی قیادت برہم ہے ۔

تاہم امریکی سیاست ''ایک چین''کی پالیسی سے عبارت ہے، ادھر ٹرمپ انتظامیہ ایک ورلڈشیک اپ حکمت عملی پر کاربند ہے ، مائیک پینس کے مطابق نئے امریکی صدر کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ دنیا بھر میں موجود امریکی مفادات کا تحفظ کریں۔ ضرور کریں مگر کشمیری عوام کی توقعات کے درد انگیزتاریخی تناظر کو بھی یاد رکھیں ، کشمیر شعلہ جوالہ بن چکا ہے ، مودی حکومت کی سیکولر ازم برہنہ ہے، کشمیر امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ٹیسٹ کیس ہے، ثالثی ناگزیر ہے۔