ابھی جمہوریت نامکمل ہے

دنیا بھر میں مملکت کے امور چلانے کے لیے جو بہترین نظام سمجھا جاتا ہےاسے’جمہوریت‘ کا نام دیا گیا ہے


Editorial December 06, 2016
دنیا بھر میں مملکت کے امور چلانے کے لیے جو بہترین نظام سمجھا جاتا ہےاسے’جمہوریت‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ فوٹو: فائل

دنیا بھر میں مملکت کے امور چلانے کے لیے جو بہترین نظام سمجھا جاتا ہے، اسے 'جمہوریت' کا نام دیا گیا ہے، اس نظام میں جمہور ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرتے ہیں کہ کون اہل ہے، نظام حکومت کو چلانے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کا ۔ تاریخ شاہد ہے کہ ووٹ کی طاقت نے ہی پاکستان کی تشکیل کی، لیکن تعمیر وطن میں ہم اس نظام کو قائم نہ رکھ سکے، کبھی آمریت اورکبھی جمہوریت کی آنکھ مچولی جاری رہی،آجکل ملک میں جمہوریت کا دوردورہ ہے، لیکن یہ عجب المیہ ہے کہ ہمارا مزاج مکمل جمہوری نہیں بن سکا ہے، اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچتے ہیں اور ان کے مسائل مقامی سطح پر فوری حل ہوتے ہیں۔

بلدیاتی نظام جمہوریت کی نرسری ہے لیکن اس نرسری کو منتخب صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے نمایندے پروان نہیں چڑھنے دیتے، سب جانتے ہیں کہ جمہوری نمایندوںنے کیسے کیسے بہانے نہیں تراشے بلدیاتی انتخابات منعقد نہ کروانے کے لیے ، وہ تو بھلا ہو سپریم کورٹ کا جس نے ایک چال بھی نہ چلنے دی اورمجبوراً ملک میں بلدیاتی انتخابات منعقدکروانے پڑے، لیکن داستان یہاں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ ایک المیہ اور طربیہ کا آغاز بھی ہوتا ہے۔

پاکستان کے سارے چھوٹے بڑے شہر، قصبے،گاؤں،گوٹھ بلدیاتی نمایندوں کو اختیارات نہ ملنے کی وجہ سے مسائل کا گڑھ بن چکے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ دو کروڑ کی آبادی والے شہرکراچی کے میئر وسیم اختر نے اپنا دکھڑا کچھ یوں بیان کیا کہ سب کو معلوم ہے کہ کراچی کے میئر کے پاس کتنے اختیارات ہیں، ہمارے پاس وسائل کم ہیں لیکن میں کوشش کروں گا کہ ان محدود وسائل میں رہ کرکام کرسکوں۔ یہی بات ڈپٹی میئر ارشد ووہرا بیان کرتے ہیں، میئر کہتے ہیں کہ میری کوشش ہوگی کہ شہر میں جتنے ترقیاتی کام رکے ہوئے ہیں انھیں فوری طورپر شروع کیا جائے۔

میئرو ڈپٹی میئر کی بے بسی ان کے بیان سے عیاں ہے۔ کراچی جوکبھی عروس البلاد اورخوبصورت ترین شہر تھا اب اجڑے دیارکا منظر پیش کررہا ہے ۔سندھ اسمبلی میں منتخب نمایندوں نے اکثریت کے بل بوتے ترمیمی بل منظورکرکے بلدیاتی اختیارات کو سلب کرلیا۔صورت حال بہت دگرگوں ہے،کراچی کے ضلع وسطی یونین کمیٹی نمبر 21 نارتھ ناظم آباد کے چیئرمین نے عوام کو بلدیاتی مسائل کے حوالے سے شکایات درج کرنے اور عوام سے رابطہ بحال رکھنے کے لیے اپنی کار میں موبائل یوسی آفس قائم کردیا ہے۔

مقامی عوامی نمایندوں کے پاس نہ اختیارات ہیں نہ دفاتر۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز ایک مقامی ہوٹل میں آگ بھڑک اٹھنے کے سانحے میں 12 افراد جاں بحق اورسو سے زائد زخمی ہوئے، جب شہر کی مقامی بلدیاتی منتخب حکومت کے پاس اختیارات نہیں ہوں گے اور صوبائی حکومت ہر محکمے کو اتھارٹی بنادے گی تو سٹی حکومت کی کون سنے گا ۔ شہر میں ڈیزاسٹرمینجمنٹ کا کوئی ادارہ کام نہیں کررہا ہے۔ آگ لگنے کے سانحے کے وقت صوبائی حکومت کہاں تھی یہ کسی کو نہیں پتا۔ریاست کے وسائل پر جولوگ قابض ہیں وہ گن تو جمہوریت کے گاتے ہیں لیکن عوام کو بااختیار نہیں بنانا چاہتے۔

گلی میں بننے والی ایک نالی کا اختیار بھی ممبران اسمبلی اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، جوان کی منفی سوچ کا عکاس ہے۔ شہرکراچی کا جو نوحہ بیان کیا گیا، کیا وہ صرف کراچی کا ہے جی نہیں۔ یہ صورت حال ملک کے چاروں صوبوں کی ہے ۔ گلیاں، محلے،گاؤں، قصبے اورشہر بربادی کا نقشہ پیش کررہے ہیں عوام کے بنیادی مسائل حل طلب ہے، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، سیوریج کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے، پینے کا پانی تک دستیاب نہیں ۔ مسائل ان گنت ہیں کس کس کا ذکرکیا جائے جنھیں ان مسائل کو حل کرنا ہے یعنی بلدیاتی نمایندوں کو وہ بے اختیار ہیں، بے بس ہیں۔

ایک خبر ملاحظہ کیجیے کہ وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں پنجاب میں میئرز اورڈپٹی میئرزکے انتخابات کے لیے متعلق امورطے کیے جارہے ہیں۔وزیراعظم نے اپنی سرکاری مصروفیات اور دورے ملتوی کر دیے ہیں ۔گوجرانوالہ، سرگودھا، لاہور، راولپنڈی ، ملتان ، فیصل آباد اور ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر اضلاع کے میئرز اور ڈپٹی میئرز کو منتخب کرانے کی حکمت عملی بھی ترتیب دی جارہی ہے۔

اجلاس میں اظہارخیال کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ مقامی حکومتوں کا نظام نئی قیادت کی نرسری اورتربیت گاہ ہے، عوامی نمایندوں کا انتخاب جلد مکمل کیا جائے،اس کے بغیرجمہوریت نامکمل ہے۔ وزیراعظم کے گرانقدر خیالات انتہائی صائب ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی نمایندوں کوجب تک مکمل اختیارات نہیں دیے جائیں گے، عوامی مسائل جوں کے توں رہیں گے، جمہوری کلچرکے فروغ دینے کے لیے ضروری ہے کہ وزیراعظم تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین اور تمام صوبائی حکومتوں کے کرتا دھرتا افراد کی ایک کانفرنس بلائیں اور دلائل کی بنیاد پر انھیں قائل کریں کہ مقامی منتخب نمایندوں کو اختیارات و فنڈز کی مکمل منتقلی کا عمل جلدازجلد مکمل کیا جائے۔

ان کے اس دانش مندانہ فیصلے سے جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچیں گے، جمہوریت کی نرسری بلدیاتی نظام ہے، اس کو پروان چڑھائے بغیر جمہوریت نامکمل ہے۔ورنہ یہ ہوگا کہ بلدیاتی کونسلرز اور میئر ، ڈپٹی میئر، چیئرمین ، وائس چیئرمین صوبائی حکومتوں کی بی ٹیم بن کر آیندہ الیکشن میں انتخابی مہم چلا رہے ہوںگے۔