پاکستان سے ڈو مور کا مطالبہ

امریکا اپنا سارا وزن بھارت کے پلڑےمیں ڈال رہا ہے جو یا بھارت کا نفسیاتی اور سفارتی جادو ہے یا خطےمیں دہشتگردی کا ابھار


Editorial December 10, 2016
۔ فوٹو؛ فائل

امریکا کی طرف سے پاکستان کو ملنے والی اس ہدایت میں گنجینہ معانی کا طلسم چھپا ہوا ہے جس میں اس کے وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ دہشتگردوں کو محفوظ ٹھکانوں کی فراہمی بند کرنا ہو گی جب کہ ایوان نمائندگان کے بعد امریکی سینیٹ نے بھی پاکستان کی امداد حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کرنے کا دفاعی بل 2017 ء منظور کر لیا ہے۔

اس دوطرفہ پیشرفت کا مرکزی نقطہ دہشتگردی کا تدارک ہے لیکن امریکا کو شاید ابھی تک اس بات کا ادراک کرنے میں وقت درکار ہے کہ خطے میں دہشتگردی بھارتی عزائم سے بھی الگ نہیں ہے ، پاکستان تو دہشتگردی کی پیدا شدہ صورتحال کا ستم رسیدہ ہے اور مشق ستم کرنیوالے اسے ڈو مور کا سزاوار ٹھہراتے ہیں۔

امریکا سمیت عالمی برادری کو احساس کرنا چاہیے کہ کشمیر جب تک بھارتی ظلم و بربریت کا شکار رہے گا خطے میں امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر رہیگا، پاکستان خطے میں امن اور افغانستان سمیت پورے جنوبی ایشیا میں استحکام کی پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر اس کے خیر سگالی اور امن پسندی کے پیغام کو اس کی کمزوری سمجھا جارہا ہے چنانچہ امریکا، بھارت اور افغانستان ٹرائنگل بجائے پاکستان کی کوششوں اور امن کے لیے کوششوں کا بہتر انداز میں جواب دے الٹا اسے مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے اور یہ کہاں کی دوستی ہے کہ امریکا اپنے اہم اتحادی کو نظر انداز کر کے بھارت سے دفاعی اور اقتصادی دوستی اور اسٹرٹیجک شراکت داری پر نازاں ہے۔

امریکا اپنا سارا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال رہا ہے جو یا بھارت کا نفسیاتی اور سفارتی جادو ہے یا خطے میں دہشتگردی کا ابھار ، اس کی تباہ کاریاں اور پاکستان کو اس عفریت کا تاریخ کے جبر کے طور پر نشانہ بنانا کوئی گریٹ گیم ہے جو خطے میں کھیلا جا رہا ہے، ہر دو صورتوں میں ارباب اختیار کو مژگاں کھول کر خطے میں تبدیلی ہوتی ہوئی صورتحال کا ادراک کرنا ہوگا، بلاشبہ خطے کی صورتحال کا امریکی انتظامیہ کے انداز نظر سے اوجھل ہونا عجیب سا لگتا ہے یعنی اب بھی پاکستان ڈومور کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔

میڈیا کے مطابق امریکی وزیردفاع ایشٹن کارٹر نے دورہ بھارت کے دوران دہشتگردوں کومحفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کی بات کی جو بقول ان کے افغانستان کو غیرمستحکم، امریکی فوجیوں کے لیے خطرہ اور بھارت پر حملے کرتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی دہشتگردی پاکستانی ریاست کے لیے ایک اسٹرٹیجک خطرہ ہے جب کہ افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشتگردی کیا امریکا کے علم میں نہیں؟

امریکی وزیردفاع نے دہشتگردی کو پاکستان سے مشروط اسٹرٹیجک خطرہ قراردیتے ہوئے در حقیقت اپنے تجزیہ کی بنیاد بھارتی لابی کے نفسیاتی و دفاعی حصار اور خوشنودی پر رکھی ہے جب کہ خطے کی تزویراتی حرکیات کا درست سیاق وسباق پیش کرتے ہوئے انہیں خطے کو درپیش بھارتی بربریت، جنگجویانہ عزائم، بالادستی کی خواہش اور کشمیر کے سلگتے ہوئے درد ناک بنیادی انسانی حقوق کے ایشو کو سامنے رکھنا چاہیے تھا، نیز مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات کے وسیع تر تناظر میں ایسی بات کہنی چاہیے تھی جو دہشتگردی کے اصل اسباب کے خلاف مشترکہ حکمت عملی سے مشروط ہوتی۔

ایشٹن کارٹر اس حقیقت سے تو واقف ہونگے کہ پاکستان پر دہشتگردی کا عذاب نائن الیون کا نتیجہ ہے جس نے امریکا کے ایک قابل اعتماد اتحادی کو فرنٹ لائن ریاست بنادیا اور جس نے دہشتگردی کے حوالہ سے اتنے ہولناک جانی و مالی نقصانات اور انسانی صدمے اٹھائے ہیں کہ جن کا اعتراف وقتاً فوقتاً امریکی حکام خود بھی کرتے رہتے ہیں مگر عجیب تضاد ہے کہ بھارت کا دورہ کرتے ہوئے امریکی حکام بھارت کو خوش کرنے کے لیے پاکستان سے فرمائشوں کی ڈو مور کہانی دہراتے ہیں جب کہ جان میکن سے لے کر دیگر عالمی رہنماؤں نے آپریشن ضرب عضب اور طالبان و کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کی تعریف کی ہے اس لیے امریکی امداد کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کرنا حقیقت سے انحراف ہے اور بھارت کو دفاعی اتحادی قراردینے کی تکرار بھی پاکستان کی کوششوں پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے افغانستان پہنچ کر صدر اشرف غنی اور امریکی فوجیوں سے ملاقات کی جب کہ افغان صدراشرف غنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا خودمختار اور محفوظ افغانستان کے حق میں ہے اور رہے گا تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی کے حالیہ دورہ امریکا کے بھی مثبت نتائج برآمد ہوئے، گزشتہ روز انھوں نے واشنگٹن میں امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر جان میکین، رینکنگ رکن ایلیٹ اینجل، امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر باب کروکر اور رینکنگ رکن سینیٹر بن کارڈین سے ملاقاتیں کیں۔

امریکی سینیٹ کی مسلح افواج کمیٹی ، خارجہ امور کمیٹی اور امریکی سینیٹرز کو بھارت کی جانب سے سرحدی جارحیت ، پاک افغان تعلقات اور علاقائی صورتحال اور شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف کامیاب فوجی آپریشن سے بھی انھیں آگاہ کیا ، جان میکین نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے تعاون جاری رکھنے کا عزم کیا۔ اب ضرورت ایک پرو ایکٹو اور دہشتگردی مخالف آپریشن کو اس کے منطقی انجام تک پہچانے کی ہے تاکہ کسی کو شکایت یا ڈو مور کا موقع نہ ملے۔