بھارتی وزیر داخلہ کی اشتعال انگیز باتیں

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان پر بھارت کو غیرمستحکم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔


Editorial December 13, 2016
بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان پر بھارت کو غیرمستحکم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ فوٹو فائل

بھارت کی پاکستان کے بارے میں پالیسی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن جب سے بی جے پی کی موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے' پاکستان کے حوالے سے بھارت کی جارحانہ پالیسی میں ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ شدت آ گئی ہے' وزیراعظم نریندر مودی پاکستان کے بارے میں مسلسل جارحانہ بیانات جاری کر رہے ہیں۔کبھی وہ پاکستان کو جنگ کی دھمکی دیتے ہیں اور کبھی پاکستان کا پانی بند کرنے کی باتیں کرتے ہیں۔اب بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان پر بھارت کو غیرمستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان نے دہشتگردی کی اعانت بند نہ کی تو وہ 10حصوں میں ٹوٹ جائے گا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے الزام لگایا کہ پاکستان مذہبی بنیادوں پر بھارت کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہا ہے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو گا۔ بھارت 1947میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم ہوا لیکن بھارت کو ایک بار بھر مذہبی بنیادوں پر تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کو بھارت سے الگ کرنا چاہتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ داعش بھارت میں قدم جمانے میں ناکام رہی ہے اور اس کا کریڈٹ بھارتی مسلمانوں کو جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے خلاف دہشتگردی کی اعانت روک دے ورنہ وہ دوبارہ 10حصوں میں تقسیم ہو جائے گا۔

بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں جو تقریر کی ہے وہ در حقیقت آر ایس ایس کے نظریات اور افکار کا اظہار ہے۔ آر ایس ایس اکھنڈ بھارت کی حامی ہی نہیں بلکہ اس کے لیے کوششیں بھی کر رہی ہے۔ بھارت میں ویسے تو پاکستان کے بارے میں میڈیا اور دانشوروں کی سطح پر مختلف قسم کی باتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن اعلیٰ حکومتی سطح پر قدر ے محتاط زبان استعمال کی جاتی رہی ہے۔موجودہ حکومت سے پہلے بھی بھارت پر بی جے پی کا اقتدار قائم ہوا ' اس وقت اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم بنے تھے۔ وہ بھی نظریاتی طور پر اکھنڈ بھارت کے حامی تھے اور آر ایس ایس کے نظریات کے پرچارک تھے لیکن وہ ایک زمانہ شناس اور مدبر سیاستدان تھے۔

انھیں پتہ تھا کہ نظریاتی دنیا خواہ کچھ بھی ہو لیکن اصل چیز وہی ہوتی ہے جسے زمینی حقائق کا نام دیا جاتا ہے۔اسی چیز کا ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم واجپائی پاکستان تشریف لائے تھے اور وہ مینار پاکستان بھی گئے تھے۔ان کا یہ اقدام اس حقیقت کو تسلیم کرنا تھا کہ آر ایس ایس کے نظریات کی اب عملی تعبیر ممکن نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ واجپائی کے دور میں بھارتی پالیسی میں جارحیت کا عنصر کم رہا لیکن بی جے پی کی حالیہ جیت پاکستان مخالف لہر کی بدولت ممکن ہوئی۔ نریندر مودی اور ان کی ٹیم نے پاکستان اور مسلم دشمنی کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا اور الیکشن میں کامیابی حاصل کی' اب یہی ٹیم مسلسل جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

کسی ملک کے وزیراعظم 'وزیر داخلہ یا کسی اور اہم وزیر کی جانب سے کسی دوسرے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے دس ٹکڑے ہو جائیں گے یا کر دیے جائیں گے' انتہائی اشتعال انگیزی ہے۔ بھارتی پالیسی سازوں کو اپنی اس پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ اس قسم کے جارحانہ بیانات دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں۔جہاں تک بھارت کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کسی سازش کی بات ہے تو اس حوالے سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ کوئی خارجی قوت کسی ملک کو تقسیم نہیں کر سکتی۔ ملک ہمیشہ اپنے اندرونی تضادات کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں۔

بھارت میں مقبوضہ کشمیر میں اگر آزادی کی تحریک چل رہی ہے تو یہ درحقیقت بھارتی پالیسیوں کا ردعمل ہے' کشمیر میں چونکہ مسلمان اکثریت میں ہیں اور وہی اپنی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں لیکن بھارت میں ہی نیکسلائیٹ تحریک مسلمانوں کی تحریک نہیں ہے بلکہ اس میں ہندو مذہب کے ماننے والے شامل ہیں' اسی طرح آسام اور ناگا لینڈ وغیرہ میں بھارت کے خلاف تحریکیں چل رہی ہیں لیکن یہ تحریکیں چلانے والے غیر مسلم ہیں۔ لہٰذا یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اگر کسی ملک کے اقتدار پر قابض اشرافیہ اپنے ہی ملک میں بسنے والی کمزور قومیتوں کے حقوق کو غضب کرتی ہیں تو وہاں آزادی کی تحریکیں چلتی ہیں۔بھارتی پالیسی سازوں کو اس حقیقت پر غور کرنا چاہیے۔

پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کر کے بی جے پی کی حکومت وقتی فوائد تو حاصل کر سکتی ہیں لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اس کی یہ پالیسی اس خطے ہی نہیں بلکہ بھارت کے مفاد کے بھی خلاف ہے۔ آج کا دور ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑے ختم کر کے تعاون کرنے کا دور ہے۔پاکستان نے ہارٹ آف دی ایشیا کانفرنس میں شرکت کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کو اس پیغام کو سمجھنا چاہیے اور اپنی جارحانہ پالیسی ترک کر کے مذاکرات کی طرف آنا چاہیے۔