آبی مسائل حل کیوں نہیں ہوتے

سیلابوں کا کروڑوں کیوسک پانی سمندر برد ہوجاتا ہے۔


Editorial December 13, 2016
سیلابوں کا کروڑوں کیوسک پانی سمندر برد ہوجاتا ہے ۔ فوٹو فائل

آنے والے برسوں میں پاکستان کو آبی قلت و بحران کے جن خدشات کا سامنا ہے، اس میں سندھ طاس معاہدہ سمیت پانی کی داخلی تقسیم ، اس کے ماخذ اور ذخائر کے لیے ڈیموں کی عدم تعمیر سے لے کر پڑوسی ملک کی طرف سے ممکنہ آبی جارحیت کے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، بادی النظر میں چونکہ یہ سارے مسائل ارباب اختیار کی ترجیحات میں شاید شامل نہیں ہیں اس لیے عدم توجہی اور یکجا ہوتے طوفان سے ناآشنائی کسی بھی وقت آبی خطرے کا الارم بجا سکتی ہے۔

ادھر عالمی بینک نے سندھ طاس معاہدہ پر غیر جانبدار ماہر کا تقرر روک دیا ہے جب کہ پاکستان کی ثالثی عدالت کے قیام کے مطالبے پر بھی پیش رفت کی دوسری جانب سے مخالفت جاری ہے، بینک حکام کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں تاہم انھوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ معاہدہ غیر فعال ہورہا ہے چنانچہ بینک نے سندھ طاس معاہدہ کے حوالہ سے دائر دوطرفہ درخواستوں پر عملدرآمد روکتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دونوں ملک جنوری کے اختتام تک کسی پر امن طریقہ کار پر متفق ہوجائیں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ 17 نومبر کو واشنگٹن میں ہونے ولا اجلاس بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوا، پاکستان کا موقف اور اعتراض یہ ہے کہ کشن گنگا اور رٹلی پاور پروجیکٹ پر غیر قانونی اورمتنازع ڈیموں کی تعمیر سے اسے 40 فی صد پانی کم ملے گا، جب کہ عالمی بینک کی غیر جانبداریت کو چیلنج کرنے سے ثالثی کا عمل بھی معرض التوا میں پڑ سکتا ہے جو پاکستان دشمنوں کی سازش ہے۔ بہر حال حقیقت یہ ہے کہ واٹر کرائسس کی بازگشت عالمی آبی حلقوں میں گذشتہ کئی برسوں سے سنائی دے رہی ہے، یہ تک کہا گیا ہے کہ آیندہ جنگیں پانی پر لڑی جائیں گی، ماہرین پانی کی قلت کے تخمینے لگا چکے، عالمی سطح پر پینے کی پانی کی قلت اور قحط و خشک سالی کی صورت میں عالمی معیشت سمیت پانی کی قلت سے دوچار ممالک کو خوراک کی سیکیورٹی کے سنگین مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے کچھ روز قبل سینٹ کے روبرو پانی کی سنگین صورتحال کا ایک اندوہ ناک منظر کھینچا تھا ،ان کا کہنا تھا کہ مفت پانی کی عادت ترک کرنا ہوگی ،آیندہ سال عالمی واٹر کانفرنس پاکستان میں ہوگی اس لیے قومی سطح پر پانی کے ذخائر اور ڈیموں کی تعمیر سمیت ملک بھر میں اس کی تقسیم و استعمال کو حقیقت پسندانہ سمت دینا ناگزیر ہے۔

اس لیے اب بھی وقت ہے کہ حکمراں پانی کا ذخیرہ کرنے اور ناگزیر ڈیموں کی تعمیر میں جنگی جذبہ سے کام لیں، اربنائزیشن نے پانی کے وسائل محدود کردیے ہیں، ٹیوب ویلوں کی ترقی اور اس کے ذریعے پانی کے بے تحاشہ استعمال سے زیر زمیں پانی کی سطح میں کمی محض تشویش سے دور نہیں ہوسکتی، سیلابوں کا کروڑوں کیوسک پانی سمندر برد ہوجاتا ہے ، ہم صرف واویلا کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ آخر کب ارباب اختیار آنکھیں کھولیں گے؟