ڈاکٹر طاہر القادری کا جلسہ

جمہوریت کے تحت ہر سیاسی پارٹی کو جلسہ کرنے اور عوام کے سامنے اپنا منشور پیش کرنے کی بھرپور اجازت حاصل ہے۔


Editorial December 24, 2012
طاہر القادری نے انتخابی نظام میں اصلاحات کی بات کرتے ہوئے نگران سیٹ اپ کو طول دینے کا کہا ہے۔ فوٹو: آئی این پی / فائل

اس وقت موجودہ جمہوری سیٹ اپ اپنی آئینی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے قریب ہے جس کے باعث پورے ملک میں سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں جلسے کر رہی اور اپنا مؤقف عوام کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔ یوں ملک میں غیر اعلانیہ انتخابی مہم شروع ہے۔ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کی متفقہ رائے سے چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی عمل میں آ چکی ہے تاکہ ملک میں انتخابات کے عمل کو یقینی' شفاف اور پرامن بنایا اور عوام کی نئی منتخب حکومت کی تشکیل کی جا سکے۔اگلا مرحلہ نگران سیٹ اپ کا قیام ہے۔حکومت اور اپوزیشن اس حوالے سے بھی کوئی قابل قبول فیصلہ کرلیں گی۔ یہی جمہوریت کا تقاضا اور اس کی بقا کے لیے ناگزیر ہے کہ آئین کے تحت انتخابات کا تسلسل ہر صورت رواں رکھا جائے۔

جمہوریت کے تحت ہر سیاسی پارٹی کو جلسہ کرنے اور عوام کے سامنے اپنا منشور پیش کرنے کی بھرپور اجازت حاصل ہے۔ ان دنوں پورے ملک میں سیاسی ومذہبی جماعتوں کے جلسے ہو رہے ہیں جس سے سیاسی ماحول میں گرمی آتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسی تناظر میں اتوار کو لاہور میں مینار پاکستان گراونڈ میں تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے ایک بڑے انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے اپنا مؤقف بیان کیا۔یہ جلسہ پرامن رہا اور حکومت نے بھی اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔یوں ایک اچھی روایت کی داغ بیل ڈالی گئی۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے حکومت کو تین ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وہ انتخابی نظام میں تبدیلی لائے ورنہ وہ 14 جنوری کو چالیس لاکھ افراد کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔

آئینی پوزیشن یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی متفقہ رائے سے نگران حکومت قائم کی جائے گی جس کے تحت جمہوری عمل کو جاری و ساری رکھنے اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے انتخابات کرائے جائیں گے۔ طاہر القادری نے نگران حکومت کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ صرف دو پارٹیوں کے فیصلوں کے بجائے افواج پاکستان' عدلیہ' تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو ملا کر ایسا نگران سیٹ اپ تشکیل دیا جائے جو جلد ازجلد انتخابی اصلاحات کرے اور انتخابی نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے اگر نگران سیٹ اپ کی مدت میں توسیع بھی کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں، آئین اس کی اجازت دیتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی بات درست ہوسکتی ہے تاہم سوال یہ کہ کیا موجودہ حالات میں اس کی ضرورت ہے؟ اس وقت ملک میں غیرجانبدار اور سیاسی جماعتوں کا متفقہ الیکشن کمشنر موجود ہے جو آئین کے تحت انتخابات کے عمل کو یقینی' شفاف اور پرامن بنانے کا پابند ہے۔

جہاں تک انتخابی نظام کو بدلنے کا تقاضا ہے تو برسراقتدار اور اپوزیشن جماعتیں اسی نظام کے تحت انتخابات لڑتی اور مستقبل میں بھی لڑنے پر آمادہ دکھائی دے رہی ہیں۔ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے انتخابی نظام بدلنے کی صدا بلند نہیں ہو رہی اور وہ اسی نظام کے تحت انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہیں، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف نے اتنا ضرور کہا ہے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کی باتوں سے متفق ہیں۔ابھی اس حوالے سے مزید بات کرنا درست نہیں ہے تاہم ملک میں ایسی باتیں ضرور ہورہی ہیں جن کا لبِ لباب یہ ہے کہ کچھ قوتیں ملک میں ٹیکنوکریٹ عبوری سیٹ اپ کے قیام کے لیے کوششیں کررہی ہیں۔ نگران سیٹ اپ کو طول دینے اور انتخابی عمل کو تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ہر صورت عام انتخابات کا انعقاد بروقت چاہتی ہیں۔ان کا موقف ہے ایسی مثالیں موجود ہیں کہ بہت سے ممالک میں جنگی حالات ہونے کے باوجود انتخابی عمل کو قائم رکھا گیا اور اسے کسی صورت سبوتاژ نہیں ہونے دیا گیا۔ اس لیے امن و امان کی مخدوش صورتحال یا کرپٹ عناصر کے احتساب کی آڑ میں انتخابی عمل کو التوا میں ڈالنا ملک کے مفاد ہے نہ جمہوریت کے ۔بعض حلقوں کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ پہلے امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جائے اور انتخابی اصلاحات کو ترجیح دی جائے، چاہے اس کے لیے انتخابات تاخیر کا شکار ہی کیوں نہ ہو جائیں اس میں کوئی حرج نہیں۔

طاہر القادری نے بھی انتخابی نظام میں اصلاحات کی بات کرتے ہوئے نگران سیٹ اپ کو طول دینے کا کہا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی سیاسی جد و جہد جاری رکھنا چاہیے اور کوئی بھی ایسا سیاسی قدم نہیں اٹھانا چاہیے جو جمہوری عمل کے تسلسل کی راہ میں رکاوٹ کا باعث بنے اور جس سے غیر جمہوری قوتوں کو فائدہ اٹھانے کا موقع ملے ۔ اگر موجودہ انتخابی نظام اصلاح طلب ہے اور اس میں خامیاں موجود ہیں تو آئین میں بھی اس کا طریقہ کار واضح ہے۔ انتخابات جمہوری نظام کے وجود کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ اگر کسی بھی بنیاد کی آڑ لے کر جمہوری نظام کو تلپٹ کر دیا جائے تو ملک کا سیاسی نظام افراتفری کا شکار ہو کر آمریت کی گود میں جا بیٹھتا ہے۔ اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ موجودہ امن وامان کی بگڑتی صورت حال میں عوام مایوسی کا شکار ہیں۔

ملک کی معیشت کی حالت اچھی نہیں ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ملک میں کرپشن کی کہانیاں بھی عام ہیں ۔ نیب کے سربراہ نے خود اس حوالے سے اعدادوشمار پیش کیے ہیں ۔یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکیں جس کی عوام کو توقع تھی ، اس کے باوجود یہ امر اطمینان بخش ہے کہ جمہوری نظام کامیابی سے چلتا رہا ہے۔حکومت نے اچھے کام بھی کیے ہیں، اب نئے انتخابات کا وقت قریب آگیا ہے۔ تمام سیاسی ومذہبی جماعتیں انتخابی جلسوں کے ذریعے انتخابات میں جیت کے لیے اپنی راہ ہموار کر رہی ہیں لیکن کوئی ایسا مطالبہ جو ملک کو جمہوری پٹڑی سے دور کر دے یا انتخابی عمل میں تاخیر اور رکاوٹ کا باعث بنے' جمہوری نظام کی ترقی کے لیے درست نہیں۔ یہ فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ کس کو منتخب کرتے اور کس کو مسترد کرتے ہیں۔ عوامی فیصلہ ہی سب سے بڑی عدالت ہے جس کا بہرصورت احترام ہر ایک پر لازم آتا ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں پر بھی یہ ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ انتخابی نظام میں اگر کوئی سقم موجود ہے تو وہ جمہوریت کے استحکام کے لیے متفقہ طور پر اسے دور کریں تاکہ کسی بھی غیر جمہوری قوت کو جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کا موقع نہ ملے۔