آصف زرداری کی وطن واپسی
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری کا شاندار استقبال کرنے کا اعلان کیا ہے
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے گزشتہ روز سابق صدر آصف زرداری کی وطن واپسی کا اعلان کیا ہے۔ آصف زرداری 23دسمبر کو کراچی پہنچیں گے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا جائے گا۔ آصف زرداری کی واپسی کا اعلان غیر متوقع نہیں ہے' ملک کے سیاسی حلقے اس حوالے سے قیاس آرائیاں کر رہے تھے' البتہ اب ان کی آمد کی حتمی تاریخ اب سامنے آ گئی ہے۔
یوں وہ 18ماہ کی خود ساختہ جلا وطنی کے بعد وطن واپس آئیں گے۔ وہ 25جون 2015ء کو بیرون ملک گئے تھے' اپنی روانگی سے چند روز قبل انھوں نے ایک دھواں دار تقریر کی تھی جسے سیاسی حلقوں نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف قرار دیا تھا' ان کی بیرون ملک روانگی کے حوالے سے پاکستان میں مختلف قسم کی قیاس آرائیاں ہوتی رہی ہیں'یہ بھی کہا جاتا رہا ہے کہ وہ واپس نہیں آئیں گے۔اب یہ تمام قیاس آرائیاں ختم ہو گئی ہیں۔آصف زرداری اپنی خود ساختہ جلا وطنی کے باوجود پاکستان میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں سے آگاہ رہے۔پارٹی لیڈر اور سندھ حکومت کے عہدیدار اور وزیراعلیٰ دبئی میں ان سے ملاقاتیں کرتے رہے لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ 18ماہ پاکستان کی سیاست سے لاتعلق رہے ہیںالبتہ اس دوران بلاول بھٹو پارٹی میں متحرک ہوئے ہیں۔
اب چونکہ موجودہ حکومت کو قائم ہوئے ساڑھے تین سال سے زائد ہونے والے ہیں اور عام انتخابات میں ڈیڑھ برس کا عرصہ رہ گیا ہے' ان حالات میں آصف زرداری کی پاکستان آمد سے ملک کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گااور پیپلز پارٹی اپنی حکمت عملی ترتیب دے گی۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ آصف زرداری کی واپسی بیک چینل رابطوں کا نتیجہ ہے تاہم بلاول بھٹو زرداری نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بیک ڈور ڈپلومیسی کے نتیجے میں نہیں بلکہ جمہوریت کی خاطر وطن واپس آ رہے ہیں اور یہ پارٹی کا فیصلہ ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری کا شاندار استقبال کرنے کا اعلان کیا ہے' اس حوالے سے بلاول ہاؤس کراچی میںگزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں اہم اجلاس ہوا جس میں آصف زرداری کی وطن واپسی کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ آصف زرداری کی وطن واپسی پر کراچی ایئر پورٹ پر شاندار استقبال کی تیاریوں اور انتظامات کے سلسلے میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو کی سربراہی میں 7رکنی آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
پاکستان کے عوام نے 1986ء میں لاہور میں محترمہ بینظیر بھٹو کا شاندار استقبال دیکھا ہے' وہ اس وقت جلا وطنی ختم کرکے لاہور تشریف لائی تھیں' اس کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو 18اکتوبر 2007ء میں جلا وطنی ختم کر کے کراچی تشریف لائیں تھیں' اس وقت بھی ان کا تاریخی استقبال ہوا تھا لیکن بدقسمتی سے ان کی استقبالیہ ریلی پر کار ساز کے مقام پر خود کش حملہ ہوا جس میں بیسیوں افراد مارے گئے تھے' اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آصف زرداری کا استقبال بھی اتنے ہی بڑے پیمانے پر ہو گا یا نہیں' پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کے شاندار استقبال کا اعلان کر رکھا ہے' یقیناً پارٹی قیادت اس کے لیے پوری تیاری کرے گی تاہم یہ سندھ پیپلز پارٹی کا امتحان ہے 'آصف زرداری کا استقبال تاریخ ساز ہو گا یا نہیں اس کے بارے میں فی الحال کوئی رائے نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کیا ہوتا ہے۔
البتہ یہ طے ہے کہ آصف زرداری کی وطن واپسی کے بعد پیپلز پارٹی کی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ پیپلز پارٹی کے روابط بھی بڑھیں گے' آصف زرداری منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اور ان کا طرز سیاست مفاہمت پر مبنی ہے لہٰذا وہ تحریک انصاف سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ رابطہ کریں گے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو کچھ مطالبات پیش کیے ہیں اور کہا ہے کہ اگر انھیں پورا نہ کیا گیا تو پھر احتجاج کیا جائے گا۔ اس حوالے سے 27دسمبر کی ڈیڈ لائن مقرر ہے' آصف زرداری کی پاکستان آمد کو اس تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
موجودہ حکومت کی بعض پالیسیوں پر اپوزیشن جماعتوں کو شدید تحفظات ہیں۔ خصوصاً پاناما لیکس کے ایشو پر تمام جماعتیں حکومت پر شدید تنقید کر رہی ہیں' اب سانحہ کوئٹہ کمیشن کی رپورٹ نے بھی حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے' سیاسی حلقوں میں یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنی چاہیے' اس حوالے سے آصف زرداری اہم کردارادا کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے تقریباً تمام جماعتوں سے کسی نہ کسی سطح پر رابطے ہیں لہٰذا پاکستان کی سیاست میں آنے والے ایام میں معنی خیز تبدیلیاں رونما ہوں گی اور نئی سیاسی صف بندیاں ہوں گی۔