بخار اور درد کا وائرل چکن گنیا کا خدشہ
مچھروں کے کاٹنے سے تیز بخار کا مرض لاحق ہوسکتا ہے
ISLAMABAD:
ڈینگی وائرس کی تباہ کاریاں ابھی ختم نہیں ہوئی تھیں کہ ایک نئے مرض چکن گنیا کے پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جس کی علامات تقریباً ڈینگی کی طرح ہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ملک میں تیز بخار اور جوڑوں میں درد کی وبا سے متاثرہ افراد مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں، واضح رہے کہ یہ علامات ڈینگی وائرس کی ہوتی ہیں لیکن مذکورہ مرض ڈینگی نہیں ہے، کہا جا رہا ہے کہ یہ مرض چکن گنیا ہے لیکن ابھی حتمی طور پر اس مرض کو چکن گنیا نہیں کہا جاسکتا، اس سلسلے میں ماہرین طب اس مرض کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مرض کی وبائی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی میں محض 24 گھنٹوں کے دوران 2 ہزار سے زائد افراد رپورٹ کیے گئے ہیں جب کہ ملک کے دیگر شہروں اور دیہات سے بھی تیز بخار اور جوڑوں میں شدید درد کی علامات رکھنے والے ڈینگی سے مماثل اس مرض کی نشاندہی ہوئی ہے۔
ماہرین طب کا کہنا ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے تیز بخار کا مرض لاحق ہوسکتا ہے، کیونکہ مچھروں کے کاٹنے سے دنیا بھر میں متعدد وائرل انفیکشن پھیل رہے ہیں، لاطینی امریکا کے بیشتر ملکوں میں مچھروں کے کاٹنے سے زیکا وائرس بھی تیزی سے پھیلا تھا، جس میں بھی تیز بخار کی شکایت ہوتی ہے۔ تاحال اس تیز بخار کی تشخیص کرنے میں ماہرین ناکام ہوئے ہیں لیکن بظاہر یہ وائرل مرض لگتا ہے جو تیزی سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہورہا ہے۔ جس بیماری چکن گنیا کی بات کی جا رہی ہے وہ افریقی بیماری ہے جس کا علاج دنیا میں دریافت نہیں ہوا ہے۔
صائب ہوگا کہ جب تک مرض کی مکمل تشخیص نہیں ہوجاتی تب تک اس طرح کی افواہوں کو پھیلنے سے روکا جائے جس سے عوام میں اضطراب پھیل رہا ہے۔ بلاشبہ یہ وائرل انفیکشن ہے لیکن چکن گنیا جیسی خطرناک بیماری نہیں ہے، اگر یہ مہلک وائرس ہوتا تو اب تک کئی قیمتی جانیں ضایع ہوجاتیں۔
دوسری جانب اس امر سے بھی پہلوتہی نہیں برتی جا سکتی کہ محکمہ صحت اور طب کی وزارتیں غیر فعال ہیں، ڈینگی کے خدشے کے پیش نظر مچھر مار اسپرے مہم شروع کی گئی تھی لیکن کئی علاقوں میں گزشتہ کئی سال سے مچھر مار اسپرے باقاعدگی سے نہیں کیا گیا۔ ملیریا کنٹرول پروگرام کو سالانہ کروڑوں روپے کا بجٹ فراہم کیا جاتا ہے لیکن ملیریا کنٹرول پروگرام عملاً غیر فعال ہے۔ شہروں میں صفائی کے ناقص انتظامات اور گندگی کے ڈھیر بھی موذی امراض پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ جب تک ادارے اپنی ذمے داریاں مکمل طور پر نہیں پوری کریں گے، ان امراض کا خاتمہ ممکن نہیں۔