عرض ہے کہ…

چیف جسٹس پاکستان عدلیہ کے وقار و تعظیم کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے پرنالاں نظر آرہے ہیں


مزمل سہروردی December 22, 2016
[email protected]

چیف جسٹس پاکستان عدلیہ کے وقار و تعظیم کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے پرنالاں نظر آرہے ہیں۔ جہاں تک پانامہ کے معاملہ پر سوشل میڈیا اور عمران خان کی جانب سے تنقید کا تعلق ہے تو اس پر کوئی خاص توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ سب کو پتہ ہے کہ سوشل میڈیا پر کون کیا کر رہا ہے' عمران خان اور ان کے حامیوں کی تنقید سے کون محفوظ رہا ہے۔ اگر عدلیہ کے حوالے سے کوئی بات ہو رہی ہے تو کوئی حیرانی کی بات نہیں۔

چیف جسٹس پاکستان کی یہ بات تو درست ہے کہ عدالتوں میں بڑی تعداد میں زیر التوا مقدمات کی بڑی وجہ حکومتی اداروں کی نااہلی اقربا پروری اور بے حسی ہے۔ بات تو ٹھیک ہے کہ اگر حکومت ٹھیک کام کرے تو لوگ حکومت کے خلاف عدالتوں کا دروازہ نہیں کھٹکھٹائیں گے۔ جب حکومت درست کام کرے گی تو لوگ انصاف لینے عدالت کیوں جائیں گے۔ لیکن دوسری طرف حکومت کا اس ضمن میں ایک الگ موقف ہے کہ حکومت کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا نا ایک فیشن بن گیا ہے۔ لہٰذا ایک ایسے میکنزم کی ضرورت ہے کہ فیشن کے طور پر رٹ دائر کرنے کے کلچر کی روک تھام ہو سکے' جہاں حکومت کو خود کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے وہاں جھوٹی درخواستیں دائر کرنے اور عدالت میں جھوٹ بولنے پر بھی سخت کارروائی کی روایت ڈالنا ہو گی۔ تب ہی عدلیہ سے غیر ضروری مقدمات کا بوجھ ختم ہو گا۔ میرے خیال میں اگر عدالت سے جھوٹ بولنے اور جھوٹی درخواست دینے پر سخت کاروائی شروع ہو جائے تو لوگ بھی سوچ سمجھ کر رٹ وغیرہ دائر کریں گے۔

میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ کیا پاکستان کی عدلیہ میں مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ صرف حکومت کی بری کارکردگی ہے۔ کیا ان تمام مقدمات کے فیصلے بر وقت ہو رہے ہیں جن میں حکومت یا حکومت کا کوئی محکمہ فریق نہیں ہے۔ کیا باہمی تنازعات کے مقدمات کے فیصلے برق رفتاری سے ہو رہے ہیں۔ بہر حال یہ بات حقیقت ہے کہ پانامہ کے ایشو پر ملک کی عدلیہ کے خلاف ایک مہم چل رہی ہے جو واقعی افسوسناک ہے۔

یہ بھی بات دیکھنے میں آئی ہے کہ تاریخ پر تاریخ کے عدالتی نظام سے عوام میں مایوسی پھیلتی ہے۔ لوگ چاہتے ہیں کہ جب کسی مقدمہ میں سماعت کے لیے کوئی تاریخ مقرر ہو تو اس دن مقدمہ کی کارروائی میں پیش رفت لازمی ہو۔ بغیر پیش رفت کے سماعت کا ملتوی ہونا' سائلین کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ مقدمہ کی اگلی سماعت مقرر ہونے کا ابھی ایک واضح اور شفاف نظام ہونا چاہیے۔ جب ایک مقدمہ کئی سال تک نہیں سنا جائے گا اور ایک مقدمہ روز سنا جائے گا تو سوالات پیدا ہو نگے۔

ویسے تو برطانوی وزیر اعظم چرچل کا جنگ عظیم دوئم کا ایک قول عرف عام ہے کہ اگر عدالتیں ٹھیک کام کر رہی ہیں تو برطانیہ کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ عدالتی نظام عوامی توقعات کے مطابق کام نہیں کر رہا۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی ادارہ ٹھیک کام نہیں کر رہا۔ صرف عدلیہ کو نشانہ کیوں بنایا جائے۔ تاہم یہ بات طے ہے کہ ایک متحرک و فعال عدلیہ ہی عوام کو ایک محفوظ معاشرے کا تصور دے سکتی ہے۔

عدلیہ کا خوف ہی عوام اور حکومت کو سیدھے راستہ پر چلنے پر مجبور کرے گا۔ اب تھوڑی سی بات جنرل پرویز مشرف کی ہو جائے' ویسے تو جنرل(ر) پرویز مشرف کے انکشافات اور الزامات عام آدمی کے لیے کوئی خبر نہیں ہیں تاہم عوام کے لیے یہ خبر دلچسپی کا باعث ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف نے ان کی رہائی اور بیرون ملک روانگی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ عوام میں اس کی قبولیت بھی ملکی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

چیف جسٹس پاکستان کی اس بات میں حقیقت ہے کہ ملک کے عدالتی نظام کے خلاف ایک سازش بھی ہو رہی ہے۔ بڑے بڑے مجرم اس نظام کو اس حد تک ڈس کریڈٹ کرنا چاہتے ہیں تا کہ ان کی سزاؤں کی کوئی اہمیت نہ رہے۔ لیکن اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے عدلیہ کواپنے اندر احتساب کا ایک موثر نظام قائم کرنا ہو گا۔ سپریم جیوڈیشل کونسل کو فعال کرنا ہو گا۔ مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر کو بھی جرم قرار دیا جائے ۔ مقدمات کے فیصلوں پر ایک ٹائم فریم مقرر کرنا چاہیے اور بعد میں اس ٹائم فریم پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

اگر مقدمات کا بر وقت فیصلہ نہیں ہوتا تو اس سے مایوسی بڑھے گی۔ یہ تو فلسفہ قانون ہے کہ انصاف میں تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ آجکل بہت متحرک ہیں۔ انھوں نے ایک تقریب میں خطاب کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ دیوانی مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ میں ہونا چاہیے۔ اللہ کرے ان کی یہ خواہش پوری ہوجائے۔ لیکن اگر وہ ماتحت عدلیہ کو پابند کریں کہ وہ مقدمہ کا فیصلہ چھے ماہ میں کرنے کے پابند ہو نگے ورنہ کارروائی ہو گی تو ان کی یہ خواہش حقیقت میں بھی بدل سکتی ہے۔

مقبول خبریں