بھارت آبی جارحیت سے باز رہے
پاکستان عالمی فورم کی پر زور وکالت کرتا ہے تاکہ خطے کو آبی تنازع کی جنگ سے دور رکھا جائے
عالمی سطح پر آبی ذخائر کے معاہدوں میں سندھ طاس معاہدہ کو ایک اصولی سبقت اس لیے حاصل ہے کہ برصغیر کی کشیدہ ترین جنگی صورتحال کے باوجود کبھی بھی اس معاہدہ کی تنسیخ یا اسے ختم کرنے کی کسی جانب سے کوئی کوشش نہیں ہوئی مگر افسوس ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی، کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اُڑی حملہ کی آڑ میں مودی حکومت خطے کو آبی جنگ کی طرف دھکیلنے کی حماقت کا باب کھولنے پر بضد ہے۔
خبروں کے مطابق بھارت نے پاکستان کے خدشات کے باوجود مغربی دریاؤں کے پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کی کوششیں تیز کر دی ہیں، اس بد نیتی کے ساتھ بھارتی وزیراعظم کا اس ضمن میں بیان بھارتی میڈیا میں آ چکا ہے کہ وہ پاکستان کو بوند بوند پانی سے محروم کر دیگا اور اپنے حصہ کا پانی ہر قیمت پر استعمال کریگا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے دریائے سندھ اور ان کے معاون مغربی دریاؤ ں کے پانی کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
واضح رہے تین دریا سندھ، چناب اور جہلم مقبوضہ کشمیر میں سے گزرتے ہیں جب کہ ان کا زیادہ تر پانی سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کی ملکیت ہے جب کہ بیاس ، ستلج اور راوی پر بھارت کا حق تسلیم کیا گیا ہے، بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ آیندہ چند برسوں میں پانی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کے لیے بڑی مقدار میں پانی کا ذخیرہ اور نہریں نکال سکتے ہیں۔ بھارتی حکام کا دعویٰ ہے کہ ان کے اقدامات سندھ طاس معاہدے کے اصول و ضوابط کے مطابق ہوں گے اور یہ کہ انھوں نے اس معاہدے کے تحت بھارت کی ملکیت والا پانی استعمال کیا۔ ماہرین کے مطابق ان اقدامات سے پاکستان کو شدید خدشات لاحق ہو سکتے ہیں۔
بعض مبصرین کا دو طرفہ آبی تنازع کے حوالہ سے موقف یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر تنازع کا غیر لچکدار قومی بیانیہ مرتب ہوتا ہے جس کا کوئی بھی عقلی یا سائنسی بنیادوں پر حل نہیں ملتا۔ تاہم تاریخی حقائق اور ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پر اس وقت کے وزیراعظم جواہر لال نہرو اور صدر ایوب خان کے دستخط ہیں جب کہ یہ بات دی ہیگ کی ثالثی عدالت میں کشن گنگا ڈیم کے سلسلہ میں پاکستان کی کارکردگی قانونی ماہر شمیلہ محمود کے ایک مضمون سے واضح ہوتی ہے کہ آبی تنازع کے حل کے ضمن میں پاکستان نے بھارت سے ہمیشہ پہل کی ہے جب کہ ثالثی عدالت کے قیام کے لیے اس کی کوشش کسی تساہل کا کبھی شکار نہیں رہی، مگر بینک اپنے محدود کردار کے باعث بالواسطہ بھارتی دباؤ کا شکار رہا، اور اب پاکستان اور بھارت پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنے مسائل خود حل کریں، گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور اگر دونوں ممالک چاہیں تو ہم کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔ کاش بان کی مون سبکدوش ہونے سے قبل کوئی کردار ادا کر لیتے اس لیے کہ اتنی قلیل مدت میں وہ کر بھی کیا سکتے ہیں کہ رواں ماہ ان کے عہدہ کی میعاد ختم ہو رہی ہے۔
آبی تنازع کے حوالہ سے پاکستان سندھ بیسن میں 2 ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر پر انڈیا سے شدید تحفظات کا اظہار کر چکا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ پریشان کن امر ہے کہ انڈیا سندھ طاس معاہدے کے رو سے تعین کردہ مقدار سے زیادہ پانی روک سکتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان اتفاق رائے سے طے پایا تھا اور کوئی ایک ملک یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو اس معاہدے سے علیحدہ نہیں کر سکتا۔
معاہدہ کے مطابق بھارت اپنے تینوں آبی ذرایع سے پن بجلی گھر بنا کر بھی صرف 20 فی صد پانی لے سکتا ہے مگر پاکستان کا یہ خدشہ بے بنیاد نہیں کہ بھارت خود اپنی طرف سے پیدا کردہ سیاسی صورتحال کے وسیع تر جنگجویانہ پھیلاؤ میں آبی جارحیت پر کمر بستہ ہے جس کا جواب پاکستان کی طرف سے اسے فوری مل سکتا ہے مگر پاکستان عالمی فورم کی پر زور وکالت کرتا ہے تاکہ خطے کو آبی تنازع کی جنگ سے دور رکھا جائے جب کہ خطے کے کروڑوں انسانوں کو پانی کی قلت خوراک کی سیکیورٹی سمیت خشک سالی اور زرعی شعبوں کی تباہی سے دوچار کر سکتی ہے، یہ نئی کشمکش بھارت کو لے ڈوبے گی، اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اس قدر مجبور اور بے دست و پا ہے کہ ایک ٹھوس معاہدہ کو ختم کرنے کی بھارتی ہرزہ سرائی کا نوٹس تک نہیں لیا جاتا۔
جہاں تک دوطرفہ مفاہمانہ ماحول میں آبی تنازعات کے تصفیہ کی بات ہے تو ثالثی عدالت سے بہتر فورم اور کیا ہو سکتا ہے، بھارت نے کب مفاہمانہ طرز عمل اختیار کیا ہے، وہ گن بوٹ ڈپلومیسی کے گھوڑے پر سوار ہے، اگر بگلیہار ڈیم پر بھارت کو جزوی فتح حاصل ہوئی ہے تو دباؤ کے لیور کے طور پر اسے استعمال کرنے کے خبط میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، پاکستان اپنے آبی مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ مودی سرکار ہوش کے ناخن لے۔