نئی سیاسی صف بندیاں
سیاسی سرگرمیاں اور سیاسی اتحاد جمہوریت کلچر کا لازمی حصہ ہیں
KARACHI:
ملک کی سیاست میں نئی پیش بندیاں ہونے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں' گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ ادھر میڈیا کی اطلاع کے مطابق مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کراچی پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی آصف زرداری سے ملاقات متوقع ہے۔
پاک سرزمین پارٹی نے بھی گزشتہ روز حیدر آباد میں جلسہ کیا ہے' اب چونکہ عام انتخابات میں تقریباً ڈیڑھ برس رہ گیا ہے لہٰذا ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی نظر آیندہ عام انتخابات پر ہے اور اس کو سامنے رکھ کر معاملات کیے جا رہے ہیں' حکمران مسلم لیگ ن نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لی ہے' یوں عام انتخابات میں اس کا فوکس پنجاب ہی ہو گا۔ سیاسی حلقوں میں ایسی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ عام انتخابات سے قبل اپوزیشن جماعتوں کا کوئی اتحاد بھی بن سکتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی اتحادوں کی تاریخ خاصی پرانی ہے' ایوب خان کے خلاف بھی سیاسی جماعتوں کا اتحاد قائم ہوا تھا اور ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی گئی تھی' پھر ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بھی 9 سیاسی جماعتوں پر مشتمل قومی اتحاد قائم ہوا ہے جس نے پیپلز پارٹی کے خلاف 1977ء کا الیکشن لڑا تھا' بعد میں دھاندلی کے الزامات کے تحت ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی گئی' جس کے نتیجے میں مارشل لا کا نفاذ ہوا۔
ضیاء الحق کے خلاف تحریک بحالی جمہوریت (ایم آر ڈی) کے نام سے سیاسی اتحاد قائم ہوا' بعد میں اسلامی جمہوری اتحاد' اسلامک فرنٹ' پی ڈی اے اور عوامی جمہوری اتحاد کے نام سے سیاسی اتحاد قائم ہوئے' اس ساری تمہید کا مقصد صرف یہی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اس وقت جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں' یہ سیاست کا حصہ ہیں اور ماضی میں بھی ایسا کچھ ہوتا رہا ہے' اب چونکہ عام انتخابات میں پندرہ سولہ مہینے باقی رہ گئے ہیں' اس لیے مختلف سیاسی جماعتیں جو کچھ کر رہی ہیں' وہ عام انتخابات کو ہی سامنے رکھ کر رہی ہیں' پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی وطن واپسی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے' مسلم لیگ ن نے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخابات مکمل کرا کر دراصل الیکشن کے لیے ہی حکمت عملی تیار کی ہے۔
سیاسی سرگرمیاں اور سیاسی اتحاد جمہوریت کلچر کا لازمی حصہ ہیں' اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے' اس کے ساتھ ساتھ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کا مطمع نظر عوام کی فلاح و بہبود اور نظام کو بہتر بنانا ہونا چاہیے۔ محض مخالف برائے مخالف یا کسی شخص کی مخالفت پر سیاسی اتحاد قائم نہیں ہونے چاہئیں۔ اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کا مقصد حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید ہوتا ہے اور وہ نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی بھی کرتی ہیں تا کہ نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔
برسراقتدار جماعت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپوزیشن کی تنقید پر سنجیدگی سے غور کرے اور دیکھے کہ اس کی طرز حکومت میں کہاں خرابی ہے اور اسے دور کرنے کی کوشش کرے۔ تحریک انصاف نے مئی 2013ء کے الیکشن میں دھاندلی پر احتجاج کیا۔ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے اس احتجاج میں حصہ تو نہیں لیا لیکن الیکشن میں دھاندلی کی بات انھوں نے بھی کی' اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پولنگ نظام اور انتخابی نظام میں خرابیاں موجود ہیں' الیکشن کمیشن کے دائرہ کار میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور اس طرح پولنگ نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ان معاملات پر غور کرنا چاہیے۔
اپوزیشن جماعتوں کو احتجاجی سیاست ضرور کرنی چاہیے کیونکہ برسراقتدار پارٹی کو راہ راست پر رکھنے کے لیے ایسا ضروری ہوتا ہے لیکن اس احتجاج کا مقصد مثبت ہونا چاہیے گھیراؤ جلاؤ نہیں اسی طرح حکومت کو بھی من مانی سے گریز کرنا چاہیے۔ ملک میں اس وقت جو سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں' یہ صحت مند سیاسی کلچر کی نشاندہی کرتی ہیں اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہو رہا ہے۔ یعنی اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر جمہوری نظام کی بساط بزور طاقت لپیٹنے کے بجائے اسے اصلاح احوال کا موقع دیا جائے تو اس سے زیادہ مثبت نتائج مرتب ہو سکتے ہیں جس طرح کہ اب محسوس ہو رہا ہے اور دعا ہے کہ یہ نظر کا فریب ثابت نہ ہو۔