دباؤ کے بغیر انصاف کی نوید

عدالت عظمیٰ کی طرف سے نئے بینچ کی تشکیل ایک مستحسن فیصلہ ہے


Editorial January 02, 2017
فوٹو: فائل

نئے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے حلف اٹھانے کے فوراً بعد اپنے پہلے حکم میں پاناما کیس کی سماعت کے لیے نیا پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دیدیا ہے جس میں وہ خود شامل نہیں ، بینچ کی سربراہی جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے۔ سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت 4 جنوری کو ہوگی ، بینچ میں جسٹس امیر ہانی مسلم کی جگہ جسٹس اعجاز افضل شامل ہوئے ہیں جب کہ جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

عدالت عظمیٰ کی طرف سے نئے بینچ کی تشکیل ایک مستحسن فیصلہ ہے جو ملکی تاریخ کے ایک ایسے پرآشوب دوراہے پر کیا گیا ہے جب پاناما کیس کے شور جنوں نے ملکی سیاست میں قیامت کا سا ہنگامہ اٹھایا ہے جب کہ نئے چیف جسٹس نے بینچ کی سربراہی نہ کر نے کا دانشمندانہ اور فاضلانہ فیصلہ کرکے بہت سی ممکنہ قیاس آرائیوں اور خیال آفرینیوں کا راستہ روک دیا ہے کیونکہ پاناما کیس کی حساسیت کا عالم ہمہ جہتی امیدوں سے جڑا ہوا ہے۔

اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی جدوجہد کا محور اس نقطہ پر ہے کہ پاناما کیس بھی ایک طرح کا پولیٹیکل گیم چینجر مقدمہ ہے جس سے جمہوریت کرپشن کی دلدل سے نکل کر شفاف حکمرانی کی نوید دے سکے گی، عوام بھی اس کیس کے فیصلہ کا بے تابی سے انتظار کررہے ہیں، چنانچہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے حکومت کے خلاف اپنی سیاسی جنگ کا فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے جہاں عدالت عظمیٰ کے لیے بھی پاناما کیس ایک ''ٹیسٹ کیس'' کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

بہر حال بہت مدتوں کے بعد ملکی عدلیہ ایک ہائی پروفائل کیس کی از سر نو سماعت کرنے جا رہی ہے، تمناؤں کے اشہب دوراں بے قابو ہیں تاہم من پسند فیصلوں کی امید باندھنے والوں کو شفافیت اور عدالتی فیئر پلے کی یقین دہانی سے ایک صائب و مثبت پیغام ملا ہے اور وہ یہ ہے کہ عدلیہ ہمیشہ قانون اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہے اور کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتی، یا کسی کی خواہش یا دباؤ میں آکر کبھی فیصلے جاری نہیں کرتی۔

دنیا بھر کی عدالتیں مسلمہ آئینی و قانونی نظام اقدار کی تابع ہوتی ہیں اور نئے بینچ کی تشکیل اسی روایت کی ترجمانی کرتی ہے، امریکا کے ایک چیف جسٹس کے نزدیک جج کی مثال کھیل کے ایک امپائر کی ہے جو قواعد نہیں بناتا صرف ان کا اطلاق کرتا ہے مگر دونوں کا کردار بے حد نازک ہوتا ہے۔ یوں عدلیہ کسی بھی ریاستی ڈھانچہ کے استحکام اور عوامی امنگوں کا مرکز ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ پاناما کیس کی سماعت ریٹائر ہونیوالے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ کر رہا تھا، ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے اور یہ بنچ کیس کی ازسر نو سماعت کریگا۔ اس سے قبل جسٹس میاں ثاقب نثار نے پاکستان کے 25 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا، صدر ممنون حسین نے ان سے حلف لیا، حلف برداری کی پرقار تقریب ایوان صدر میں ہوئی جس میں وزیراعظم نوازشریف، چیئرمین سینیٹ، وفاقی وزراء، آزاد کشمیر کے صدر، گورنر پنجاب و خیبر پختو نخوا اور گلگت بلتستان کے وزراء اعلیٰ، اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان، سروسز چیفس اور اعلیٰ سول و فوجی حکام ، وکلاء اور سفارتکار بھی شریک ہوئے۔

میڈیا کے مطابق موجودہ عدالتی استعداد کی رو سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس سمیت ججز کی تعداد 16 ہو گئی ہے جب کہ فاضل عدالت کی کل استعداد 17ججز کی ہے، سنیارٹی لسٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے ججز کی ترتیب کے لحاظ سے چیف جسٹس مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس گلزار احمد، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس مشیر عالم، جسٹس دوست محمد خان، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس فیصل عرب، جسٹس اعجازالحسن، جسٹس مظہر عالم خان شامل ہیں۔

یاد رہے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس اپنی نامزدگی کے موقع پر لاہور ہائی کورٹ کی سلور جوبلی تقریبات کے اختتامی اجتماع سے خطاب کے دوران کچھ چشم کشا باتیں کہیں تھیں، ان کا کہنا تھا کہ فیصلوں میں کوئی مفاد آڑے نہیں آئے گا، ہماری شفافیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھے گی، دباؤ کی باتیں قیاس آرائیاں ہیں جب کہ تمام عدلیہ اور ان کے ججز کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مصلحت، جھول اورخوف کا شکار ہوئے بغیر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ جج کا دیانتدار ہونا ضروری ہے جنہیں تحمل اور سنجیدگی سے فریقین کو سن کر انصاف فراہم کرنا چاہیے، انھوں نے یہ بات بھی کہی کہ اگر ہم نے اپنے فرائض سرانجام نہیں دیے تو آئندہ نسلوں کے سامنے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ عدلیہ کے ادارہ جاتی اعتبار و وقار کی بحالی کے حوالہ سے منصف اعلیٰ کا یہ ارشاد لائق تحسین ہے کہ جج اپنا آپ ٹھیک رکھیں ، پھر بار سے توقع رکھیں ، لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اس تاثر پر صاد کیا ہے کہ انصاف کے شعبہ میں اصلاحات کے باب میں لوگوں کی امیدیں بھی نئے چیف جسٹس سے جڑی ہوئی ہیں۔