انٹونیو گوٹیریس اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل
گوٹیریس 2002ء میں دوسری بار پرتگال کے وزیراعظم بنے
پرتگال سے تعلق رکھنے والے انٹونیو گوٹیریس نے اقوام متحدہ کے نئے سیکریٹری جنرل کی ذمے داریاں اپنے ہاتھوں میں لے لی ہیں۔ انھوں نے جنوبی کوریا کے سابق سفارت کار بانکی مون کی جگہ عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل کا منصب سنبھالاہے۔گوٹیریس1949ء میں لزبن میں پیدا ہوئے، 1974ء کی آمریت کے ماحول میں جوان ہوئے، اس دوران انھوں نے وہاں کی غربت اور دہقانوں کی حالت زار کا مشاہدہ کیا۔ استبدادیت سے نفرت ان کے دل میں رچ بس گئی تھی۔ 1995ء میں جب وہ وزیراعظم بنے تو انتخابی مہم کے لیے ان کا نعرہ ''دل اور عقل'' تھا۔ اور یہی گوٹیریس کا اہم ہتھیار ہے کہ وہ صبر و تحمل کے ساتھ مقابل کا نقطہ سننے اور تنازع کے حل کے لیے اتفاق رائے تک پہنچنے کی صلاحیت اور ذہانت رکھتے ہیں۔
عالمی ادارے کی نمایندگی پر مامور فرد کے لیے ان خصوصیات کا حامل ہونا نہایت ضروری ہے۔ گوٹیریس 2002ء میں دوسری بار پرتگال کے وزیراعظم بنے، لیکن اپوزیشن کے شور مچانے اور اختلافات پر انھوں نے استعفیٰ دے دیا اور اپنی جائے پیدائش لزبن چلے گئے جہاں انھوں نے بستیوں کے بے سہارا بچوں کو ریاضی کی مفت تعلیم دی۔ وہ ذاتی نمودونمائش کے مخالف تھے اس لیے انھوں نے کبھی بھی فلاحی کاموں کے دوران کسی بھی صحافی یا فوٹو گرافر کو اپنی تشہیر کے لیے ساتھ نہیں رکھا۔ گوٹیریس نے ایسے موقع پر ذمے داری سنبھالی ہے جب دنیا کو شام، یمن، جنوبی سوڈان اور لیبیا میں جاری مسلح تنازعات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے عالمی بحرانوں کا بھی سامنا ہے۔
جنگ سے متعلق ان کا وژن قابل ستائش ہے، سیکریٹری جنرل کا عہدہ سنبھالتے ہوئے انھوں نے اپنے بیان میں دنیا بھر میں قیام امن کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'جنگ سے صرف تباہی ہوتی ہے'۔ جنگوں کی وجہ سے پورے پورے خطے غیر مستحکم ہوجاتے ہیں اور اس طرح عالمی دہشت گردی کے نئے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے برعکس امن ہماری منزل ہونی چاہیے، اور امن کے قیام کا انحصار ہم پر ہے۔
انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ وہ تنازعات میں الجھے ہوئے ملکوں کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پل کا کردار ادا کریں گے۔ اس قدر برائٹ وژن رکھنے والے فرد کی عالمی ادارے میں اہم عہدے پر تعیناتی سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر و تنازع فلسطین کے لیے بھی اہم کردار ادا کریں گے، نیز ان ممالک کی بھی گوشمالی کریں گے جو عالمی ادارے کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں میں مصروف ہیں۔