دکھی انسانیت مسیحاؤں کی منتظر

عوام علاج معالجے کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں کیونکہ ادویات اورعلاج بہت مہنگا ہے۔


Editorial January 03, 2017
عوام علاج معالجے کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں کیونکہ ادویات اورعلاج بہت مہنگا ہے ۔ فوٹو: فائل

ملک کے تمام صوبوں میں صحت عامہ کی صورت حال انتہائی دگرگوں ہے، ایسے دلدوز واقعات سامنے آتے ہیں کہ روح تک کانپ اٹھتی ہے، اور ایسا ہی ایک واقعہ گزشتہ روز لاہورکے جناح اسپتال میں بھی پیش آیا جہاں قصور سے لائی گئی مریضہ بنیادی سہولت نہ ملنے پر جاں بحق ہوگئی جب کہ سول اسپتال گوجرانوالہ کے اسٹاف کی غفلت کا ایک اورکیس سامنے آ گیا،ڈائیلیسس کا60 سالہ مریض طبی امداد نہ ملنے پرایمرجنسی وارڈکے باہرسسک سسک کردم توڑگیا۔ دوسری جانب کئی ماہ سے ینگ ڈاکٹرز ہڑتالیں کررہے ہیں ، ایک زخمی کو طبی امداد دینے کے بجائے تشدد کا نشانہ بنانے کی وڈیوز بھی عوام الناس نجی چینلز پر دیکھ چکے ہیں ۔

مسیحائی کے باوقار شعبے سے وابستہ افراد کو یہ چلن زیب نہیں دیتا، کہ دکھی انسانیت سسکتے دم توڑ جائے اور انھیں اپنے مطالبات کی پڑی ہو۔صحت کے شعبے کو جس طرح نظر انداز کیا گیا ہے، یہ اسی کا شاخسانہ ہے کہ ملک کے تمام صوبوں کے عوام علاج معالجے کی بنیادی ضرورتوں سے محروم ہیں کیونکہ ادویات اورعلاج بہت مہنگا ہے ۔ وارڈز میں مریضوں کو جگہ تک نہیں ملتی اور سرکاری اسپتالوں میںجدید سہولیات کا فقدان ہے۔ اقوام متحدہ کی صحت عامہ کے بارے میں ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان 188ملکوں کی فہرست میں 149نمبر پر ہے۔

سرکاری اسپتالوں کے عملے کا برتاؤ بھی مریضوں سے انتہائی ناروا ہے ۔حکومتی سطح پر جو فنڈز جاری ہوتے ہیں وہ کرپشن کی نذر ہوجاتے ہیں ۔خدارا صحت کا بجٹ دوگنا کیا جائے، عوام کو صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی شفاف بنائی جائے۔ ہر قسم کے آپریشن کے لیے تھیٹر قائم ہوں، صحت کی سہولتیں ضلعی سطح پر جگہ جگہ موجود ہوں، کوئی شہری غربت کی وجہ سے لاعلاج نہ رہے، ملکی سطح پر مانیٹرنگ کا ایسا نظام وضع کیا جائے جو بھی غفلت برتے اسے قرار واقعی سزا ملے، ڈاکٹرز مسیحائی کے شعبے میں خدمت کو اپنا شعار بنائیں تودکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا ہے۔