جمہوریت… انصاف کے بغیر

قانونی اخلاقیات کے نقطہ نظر سے فوجی عدالتوں کا زہر جمہوریت کو اس لیے پینا پڑا کہ دہشت گرد بے چہرہ تھے


Editorial January 08, 2017
فوٹو: فائل

ملک میں فوجی عدالتوں کی قانونی دوسالہ مدت ختم ہوگئی۔ اس ضمن میں حکومتی اور عسکری حلقوں سے فوری طور پر کسی متبادل نظام یا فراہمی انصاف کے نئے انتظام کی کوئی اطلاع نہیں ملی، بین السطور یا قانونی حلقوں کی آراء سے مجموعی تاثر یہی ملتا ہے کہ حکومت عدالتی میعاد کی خاموش تکمیل کی منتظر تھی، تاہم سنجیدہ آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق ملکی صورتحال اور دہشتگردوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور انہیں انسانیت سوز جرائم پر بلا تاخیر کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے واضح حکمت عملی کا فوری اعلان مناسب اور صائب ہوگا۔

یاد رہے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد دہشت گردوں کے مقدمات فوری نمٹانے کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام 21 ویں ترمیم کے تحت ایکٹ 2015 ء کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا جس کی مدت گزشتہ روز (ہفتہ) کو ختم ہوگئی، یہ عدالتیں وزیراعظم نوازشریف کی صدارت میں ہونے والی اے پی سی کے متفقہ فیصلوں کے بعد7جنوری 2015ء کو قائم کی گئی تھیں۔

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے اس کی اتفاق رائے سے منظوری دی جب کہ سپریم کورٹ نے ترمیم کے خلاف دائر تمام درخواستیں مسترد کردی تھیں، درخواست دہندگان کا موقف تھا کہ فوجی عدالتوں کا قیام سویلین عدالتوں پر عدم اعتماد کا مظہر ہے، یہ شہریوں کے حقوق اور آئین کی بنیادی ساخت سے متصادم ہے، نیز ارکان پارلیمنٹ اور حکمراں بھی اسے دبے لفظوں میں جمہوریت کے لیے مضرت رساں گردانتے تھے مگر عدالتیں قائم ہوئیں اور سابق آرمی چیف جنرل راحیل نے سیاسی و عسکری اشتراک سے دہشتگردی اور آپریشن ضرب عضب کے پیش نظر حکمراں قیادت اور پارلیمنٹ کو قائل کردیا کہ دہشگردوں کاصرف سخت اور فوری سزاؤں سے راستہ روکا جاسکتا ہے اور ان کے اس استدلال کی تصدیق ہوئی ، دہشتگردوں کو سزائے موت اور عمر قید و دیگر سزائیں دی گئیں، تاہم فوجی عدالتوں سے دی جانے والی بعض سزاؤں پر عملدرآمد عدالت عظمیٰ کے حکم پر روکا بھی گیا۔

فوجی ٹریبونل نے اپنا پہلا ٹرائل فروری 2015 ء میں شروع کیا ، دو ماہ بعد مقدمہ کا فیصلہ سنایا جب کہ آخری سماعت 28 اگست2016 ء کو مکمل کی۔ 27 ملزمان نے فوجی عدالتوں سے سنائی جانے والی سزاؤں کو چیلنج کیا اور کہا کہ انہیں صفائی کا موقع نہیں دیا گیا ، فیصلہ کی نقول سے محروم رکھا گیا، وکیل تک رسائی نہیں ملی۔

ماہر قانون صوفی بلال احمر کے حوالہ سے بتایا گیا کہ فوجی عدالتوں سے جزوی مقاصد تو حاصل ہوئے تاہم طویل المیعاد ٹارگٹ حاصل نہیں ہوسکا، بلاشبہ بیشتر اپوزیشن جماعتیں بھی ان عدالتوں کے تسلسل یا ان میں توسیع کے حق میں نہیں تھیں۔ لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ قانونی ماہرین اور اپوزیشن جماعتیں حکومت کے طرز عمل پر بھی معترض تھیں، ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں نے کرمنل جسٹس سسٹم میں اصلاح اور انسداد دہشتگردی عدالتوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے ایک انچ بھی قدم آگے نہیںِ بڑھایا۔

قانونی اخلاقیات کے نقطہ نظر سے فوجی عدالتوں کا زہر جمہوریت کو اس لیے پینا پڑا کہ دہشت گرد بے چہرہ تھے، سنگین مقدمات میں بری ہوجاتے تھے، ان کے چالان اوراستغاثے بھی سقم سے پر تھے ۔ ملک دہشتگردی کی زد میں تھا، ہزاروں بے گناہ انسان انتہاپسندوں کی بھینٹ چڑھائے جارہے تھے، اس حالت مجبوری میں فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ ہوا۔

فوجی عدالتوں نے اپنی2 سالہ مدت کے دوران274دہشتگردوں کو سزائیں دیں،161 دہشتگردوںکو پھانسی جب کہ113 میں سے بیشتر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق عدالتوں نے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں ملوث سات دہشتگردوں کو پھانسی کی سزا سنا کر اپنے انجام تک پہنچایا، سانحہ صفورا گوٹھ سمیت ملک بھر میں سنگین دہشتگردی کے مقدمات میں ملوث دہشتگردوں کو سزا سنائی گئی ۔ سوات سے تعلق رکھنے والے طالبان کے ترجمان مسلم خان کو بھی پھانسی کی سزا سنائی گئی۔

دوسری جانب وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ہفتہ کو ختم ہونے والی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ، یہ عدالتیں دو سال کی مدت کے لیے ہی قائم کی گئی تھیں۔ انھوں نے کہاکہ اب دہشتگردی کے مقدمات فوجی عدالتوں کے بجائے انسداد دہشتگردی عدالتوں میں چلیں گے جب کہ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانون بیرسٹر ظفر اللہ کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی کے لیے مسودہ تیار کیا جا رہا ہے، اگر سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے ساتھ نہیں دیتیں تو اگلے چند دنوں میں مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا۔

خبروں کے مطابق پیپلزپارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے فوجی عدالتوں کی توسیع میں مخالفت کرنے کے بعد حکومت نے دہشتگردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے پارلیمنٹ میں نئی قانون سازی کرنیکا فیصلہ کیا ہے۔فیصلہ کن گھڑی آن پہنچی ہے۔ عالمگیریت کے وسیع تر تناظر میں عالمی معاشرہ کو دہشتگردی اور خود کش حملوں کے یکساں عالمی اور مقامی خطرات کا سامنا ہے، انسانیت تباہی کی دہلیز پر ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا بھر کے انسان بلا امتیاز رنگ و نسل ، زبان ،عقیدہ و جغرافیہ دہشتگردی کے خلاف ایک ہوجائیں۔