لودھراں ٹرین کی ٹکر سے المناک حادثہ
ملک میں متواتر ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں حادثات کے واقعات پیش آرہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے
لودھراں میں ٹرین کی زد میں آکر طالب علموں سے بھرا موٹر سائیکل رکشا المناک حادثے کا شکار ہوگیا جس میں 7 بچوں سمیت ڈرائیور جاں بحق جب کہ 4 بچے شدید زخمی ہوگئے۔ ملک میں متواتر ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں حادثات کے واقعات پیش آرہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ چاہے وہ ایئرلائن حادثہ ہو یا ٹریفک حادثہ، نیز ٹرین حادثات بھی ہر کچھ عرصے بعد رپورٹ ہورہے ہیں، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق موجودہ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے دور میں ہی 300 کے قریب ٹرین حادثات رونما ہوچکے ہیں۔
حالیہ حادثے میں لودھراں کے نواحی موضع کونڈی کے رہائشی طلبا 2 موٹر سائیکل رکشوں پر صبح اسکول جارہے تھے، لودھراں اور آدم واہن کے درمیان پھاٹک گیٹ کھلا دیکھ کر ڈرائیوروں نے رکشے گزارنے کی کوشش کی تو دھند کے باعث ٹرین کو نہ دیکھ سکے، اس دوران ہزارہ ایکسپریس ایک رکشہ جس پر 11 طلبا سوار تھے، سے جا ٹکرائی اور اسے تقریباً 2 کلومیٹر تک گھسیٹتے لے گئی جب کہ دوسرا رکشا ٹائر پھٹ جانے سے بال بال بچ گیا، ڈرائیور نے ایمرجنسی بریکیں لگا کر ٹرین کو روکا لیکن اس وقت بہت دیر ہوچکی تھی۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے ایک ہی خاندان کے 6 بچے شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق مال گاڑی گزرنے کے بعد اہلکار نے فوری پھاٹک کھول دیا تھا جس سے حادثہ ہوا۔ وزیر ریلوے کا یہ کہنا صحیح ہے کہ انسانی غلطی کی وجہ سے جہاز کے حادثات بھی ہوجاتے ہیں لیکن یہ عذر لنگ قابل قبول نہیں کہ دو چار سال میں اَن مینڈ لیول کراسنگ ختم نہیں ہوسکتی، سسٹم کو ٹھیک کرنے کے لیے 12 سے 15 سال درکار ہیں۔ آخر اَن مینڈ لیول کراسنگ ختم کرنے کے لیے کس قسم کا لائحہ عمل درکار ہے جس کے لیے اتنی طویل مدت مانگی جا رہی ہے؟
حادثے میں جاں بحق ہونیوالوں کے لیے ریلوے نے 15 لاکھ جب کہ زخمیوں کو 3 لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے، اس سے پیشتر کے حادثات میں بھی اسی طرح امداد کے اعلانات ہوتے رہے ہیں۔ اگر ان ہی رقوم کو ریلوے سسٹم ٹھیک کرنے پر لگایا جاتا تو حادثات کی شرح کم ہوسکتی تھی۔ انسانی غلطیاں بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتیں، جلد بازی اور سگنل توڑنے کا رجحان بھی حادثات کا موجب ہے جب کہ چھوٹے علاقوں میں کئی جگہ کراسنگ پر پھاٹک بھی نہیں ہیں،مشاہدے میں آیا ہے کہ پھاٹک بند ہونے کے باوجود موٹر سائیکل سوار اور پیدل حضرات جلد بازی میں لائنیں کراس کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے بھی حادثات پیش آتے ہیں۔ الزام تراشی اور ذمے داریوں سے پہلوتہی کے بجائے حادثات کی شرح کو کم کرنے پر دھیان مرکوز کیا جانا چاہیے۔