سڈنی ٹیسٹ ایک اور ’ہار‘ پاکستان کے نام
آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ بھی با آسانی جیت کر سیریز میں کلین سوئپ مکمل کرلیا
آسٹریلیا نے سڈنی ٹیسٹ بھی با آسانی جیت کر سیریز میں کلین سوئپ مکمل کرلیا۔ ناکامی کے اس ہدف میں اس قدر واضح فرق ہے کہ ہم دل رکھنے کے لیے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ 'مقابلہ تو دل ناتواں نے خوب کیا' جب کہ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم وقت سے پہلے ہی ہمت ہار بیٹھی تھی۔ سڈنی ٹیسٹ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو 220 رنز سے ہرا کر تین میچوں کی سیریز میں کلین سوئپ کردیا۔ 465 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف پاکستانی بلے بازوں کے لیے مشکل ثابت ہوا، آسٹریلیا کے بالرز کے آگے پاکستانی بیٹسمین ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔
دوسری اننگز میں پاکستان کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر فلاپ رہی۔ پہلی اننگز میں 175 رنز بنانے والے یونس خان دوسری اننگز میں 13 رنز ہی بنا سکے جب کہ اظہر علی محض 11 رنز پر ہی ڈھیر ہوگئے۔ ستم تو یہ ہوا کہ آخری دن بارش بھی نہ ہوئی، ایسے میں بھلا پاکستانی بیٹسمین پورے دن کیسے بیٹنگ کرسکتے تھے۔ واضح رہے کہ یہ 1999 سے اب تک آسٹریلوی سرزمین پر لگاتار چوتھی ٹیسٹ سیریز ہے جس میں پاکستان ٹیم ایک میچ بھی نہ جیت سکی۔
سابق ماہرین کرکٹ کے بیانات بھی طنزیہ سہی لیکن لائق توجہ ہیں جو حقیقت حال کا اظہار کرتے ہیں۔ وسیم اکرم نے کہا ہے کہ جب دوستی اور یاریوں پر ٹیم تشکیل دی جائے گی تو ٹیم کا ایسا ہی حال ہونا ہے، سابق کپتان محمد یوسف نے طنزیہ کہا کہ یو اے ای میں ٹیم بلا کر چھ ٹیسٹ کھیل لیے جائیں تاکہ رینکنگ بہتر ہوجائے۔
یہ امر واقعی لائق تشویش ہونا چاہیے کہ حالیہ شکست کے بعد گزشتہ سال جو ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر تھی اور بعد ازاں زوال پذیر ہوئی، وہ مزید دو درجات نیچے آچکی ہے۔ صرف موافق حالات میں کرکٹ پر توجہ نے یہ صورتحال دکھائی ہے، پاکستانی ٹیم کو دیگر ملکوں کی غیر موافق پچز پر بھی کھیلنے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔
کپتان مصباح الحق نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے لیے آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز بہت مشکل رہی ہے۔ آسٹریلیا کے ہاتھوں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شکست پر رنج و غم کا اظہار کرنیوالے ملکی شائقین کرکٹ کو تھوڑا حوصلہ رکھنا چاہیے، بیشک ہار اور جیت کھیل کا حصہ ہے، صائب ہوگا کہ کھلاڑی شکست کی وجوہات جاننے پر توجہ دیں اور آئندہ میچز میں یہ صورتحال نہ آنے دیں۔ 'ابھی کھیل کے میدان اور بھی ہیں'۔ اس مایوس کن ہار کے باوجود سیریز میں کچھ کھلاڑیوں نے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ امید ہے پاکستان ٹیم ون ڈے سیریز میں بہتر پرفارم کرے گی۔