نیب ترمیمی آرڈیننس جاری
نئے آرڈیننس کے تحت پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی والی شقوں کو ضم کیا گیا ہے
صدرمملکت نے نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس کے تحت پلی بارگین کی منظوری کا اختیار چیئرمین نیب سے لے کر عدالت کے سپرد کر دیا گیا ہے، آرڈیننس کے مطابق کرپشن کرنے والا سیاستدان ہو یا سرکاری افسر تمام عمر کے لیے نااہل ہو گا۔ آرڈیننس فوری نافذ العمل ہو گا۔
قبل ازیں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ عدالت عظمیٰ نے نیب آرڈیننس کی شق 25 اے کے تحت حکومتی مؤقف پوچھا تھا اسی شق میں پلی بارگین بھی شامل ہے جس پر قوانین جائزہ کمیٹی نے شق 25 اے میں ترامیم تجویز کرکے وزیراعظم سے کرپشن میں ملوث سرکاری عہدیداروں پر تاحیات پابندی کی سفارش کی اور اس تجویز کو انھوں نے اور کابینہ نے منظور کر لیا ہے۔
نئے آرڈیننس کے تحت پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی والی شقوں کو ضم کیا گیا ہے، پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی دونوں کے لیے عدالت کی منظوری ضروری ہو گی، اس حوالے سے چیئرمین نیب کی صوابدید کو ختم کیا گیا ہے، پلی بارگین کے تحت 10سال کے لیے نااہلی کی شق ختم کر کے تاحیات نااہلی کی سزا مقرر کی گئی ہے۔
آرڈیننس کے تحت پلی بارگین کے ذریعے رقم جمع کرانے والا شخص زندگی بھر سرکاری و عوامی عہدے کے لیے نااہل ہوجائے گا، اس کی سرکاری ملازمت پر تاحیات پابندی ہو گی جب کہ وہ زندگی بھر الیکشن بھی نہیں لڑ سکے گا۔ حکومت نے کرپشن کے خلاف انتہائی قدم اٹھا لیا ہے، پلی بارگین سے متعلق بل پارلیمنٹ سے پاس کروانے میں وقت لگے گا اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ آرڈیننس کے ذریعے ترامیم کی جائیں۔
ملک کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری محکموں سمیت تمام شعبہ جات میں کرپشن کی داستانیں عام ہیں' اس ناسور کے خاتمے کے لیے جہاں حکومتی سطح پر کوششیں بروئے کار لائی گئیں وہیں نیب نے بھی اس کے خلاف اہم کردار ادا کیا۔ نیب نے پلی بار گین کے ذریعے کرپشن میں ملوث افراد سے بڑی تعداد میں رقوم برآمد کیں لیکن کچھ عرصے سے نیب کے اس دائرہ اختیار پر سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جانے لگا یہاں تک کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی زیربحث آیا اور رقوم کی رضاکارانہ واپسی پر ملزمان کو معاف کرنے کے اختیار سے متعلق حکومت سے موقف طلب کیا گیا۔
ادارے کا دائرے اختیار پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد طے کیا گیا لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے نیب کے اس دائرہ اختیار پر کچھ حلقوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے۔ گزشتہ دنوں نیب پراسیکیوٹر جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ رقم کی رضاکارانہ واپسی کا قانون نیب نے نہیں بنایا بلکہ یہ قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے لہٰذا چیئرمین کے اختیارات انھیں قانون نے دیے ہیں اور وہ قانون کے تحت ہی اپنا اختیار استعمال کر رہے ہیں۔
نیب کے دائرہ اختیار کے متعلق مختلف حلقوں کی جانب سے پیدا شدہ منفی ابہام کو دور کرنے کے لیے گزشتہ دنوں چیئرمین نیب نے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز کے پروگرام میں اپنے نقطہ نظر کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ نیب ایک خود مختار ادارہ ہے جو بلاامتیاز سیاستدانوں سمیت تمام طبقوں کے خلاف کارروائی کررہا ہے' نیب نے 285ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔ اب حکومت نے نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کر کے کرپشن کے خلاف انتہائی قدم اٹھایا ہے اس عمل سے یقیناً کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض مسلسل اٹھایا جا رہا ہے کہ کرپشن میں ملوث آج تک کسی بڑے شخص کو نہیں پکڑا گیا جب کہ سیاسی اور عوامی حلقوں میں بہت سی کہانیاں زبان زد عام ہیں کہ حکومتی سطح پر بہت سے بااثر افراد کرپشن میں ملوث ہیں لیکن ابھی تک ان میں سے کسی کے خلاف بھی کارروائی نہیں کی گئی۔ بااثر افراد بڑی مہارت سے کرپشن کرتے اور اس کا کوئی ریکارڈ نہیں چھوڑتے اور اگر کبھی ان کے خلاف آواز بھی اٹھے تو وہ اسے اپنے اثرورسوخ کے ذریعے دبانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کرپشن میں ملوث افراد نے اپنے اثاثے بیرون ملک جمع کرا رکھے ہیں جن کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ اب کرپشن میں ملوث افراد سے رقوم کی واپسی اور ان کے نااہلی کا معاملہ عدالت کے دائرہ اختیار میں آ گیا ہے تو امید کی جانی چاہیے کہ ایسے افراد کے خلاف فی الفور کارروائی روبہ عمل لائی جائے گی کیونکہ سزا میں تاخیر بھی ملزموں کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ امید ہے کہ کرپشن میں ملوث بااثر افراد کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔