تنازعہ کشمیر اور عالمی برادری
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے مثبت اشارہ آنا خاصا امید افزا ہے
لاہور:
اخباری اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹریز نے پاکستان اور بھارت کے درمیان غیرجانبدار ثالث بننے کی پیشکش کی ہے۔
سفارتی ذرایع کے مطابق انھوں نے یہ پیشکش اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی سے ملاقات میں کی جس میں ملیحہ لودھی نے انتونیو گوئٹریزکو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بالخصوص کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کے قریب کپواڑہ اور راجوڑی کے اضلاع میں بھارتی اسپیشل فورسز کی تعیناتی سے آگاہ کیا اور اسے کشیدگی میں اضافے کی جانب ایک اور قدم قرار دیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے مثبت اشارہ آنا خاصا امید افزا ہے' اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات حل کرانا کوئی آسان کام نہیں ہے اور اقوام متحدہ آج تک اس سلسلے میں کوئی بریک تھرو نہیں کر سکی' سوائے قرار داد پاس کرنے کے' اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون بھی گاہے بگاہے ایسے اشارے دیتے رہے ہیں لیکن عملاً کچھ نہیں ہو سکا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس اس مسئلے کے حل کے لیے ذاتی طور پر کوئی اختیار نہیں ہے 'وہ اس سلسلے میں اپنی خواہش کا اظہار کر سکتے ہیں اور شاید اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوئٹریز نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا ہے تاہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے غیر جانبدار ثالث بننے کا اشارہ آناپاکستان کی ایک اخلاقی اور سفارتی سطح پر کسی حد تک کامیابی کہلا سکتی ہے' پاکستان اور بھارت کے درمیان جو تنازعات ہیں' ان کے حل کے لیے بھارت پر عالمی دباؤ ڈالنا انتہائی ضروری ہے اور یہ ماہرانہ سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
دنیا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے طے کیا گیا ہے 'ویسے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی تاشقند اور شملہ معاہدہ موجود ہیں اور ان معاہدوں میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک اپنے باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں' دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان مختلف ادوار میں مذاکرات بھی ہوتے رہے ہیں' بعض اوقات ایسی پیش رفت بھی ہوئی جس سے یہ تاثر ملا کہ شاید دونوں ملکوں کی قیادت کو ئی غیرمعمولی فیصلہ کرنے والی ہے لیکن پھر کوئی نہ کوئی رکاوٹ ایسی پیدا ہوئی کہ سفر واپس اس جگہ پہنچ گیا جہاں سے شروع ہوا تھا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان جو تنازعات ہیں' وہ نئے نہیں ہیں بلکہ برسوں پرانے ہیں اور اقوام متحدہ سمیت تمام طاقتور ممالک کے پالیسی ساز ان سے بخوبی آگاہ ہیں' اقوام متحدہ نے تنازعہ کشمیر پر قرار داد پاس کر رکھی ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے کرایا جائے تاکہ کشمیری عوام اپنے مقدر کا خود فیصلہ کر سکیں' لیکن بھارت نے آج تک اس قرار داد کی پاسداری نہیں کی۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان آج تک جو جنگیں ہوئی ہیں' ان کی تہہ میں بھی تنازعہ کشمیر ہی موجود رہا ہے' ماضی کو چھوڑ کر موجودہ حالات پر بھی غور کیا جائے تو کشمیرہی پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ معطل کر رکھا ہے۔ حال ہی میں اڑی واقعے کے بعد بھارت نے کنٹرول لائن پر جو صورت حال پیدا کی 'اس کی سنگینی سے ساری دنیا آگگاہ ہے۔
بھارت نے کنٹرول لائن کے پار کشمیری علاقے میں سرجیکل اسٹرائیک کا جھوٹا دعویٰ بھی کیا اور اس کے بعد بھارتی سیکیورٹی فورسز آئے روز کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کرتی آ رہی ہیں۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بھی اس صورت حال سے آگاہ کیا۔انھوں نے حالیہ ہفتوں کے دوران بھارتی اسپیشل فورسز کی ان تعیناتیوں کو بری فال قرار دیا۔ انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بتایا کہ پاکستان نے بھارت کی اشتعال انگیز کارروائیوں اور کئی محاذوں پر خطرناک صورتحال کے باوجود انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیز کارروائیوں کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔
ملیحہ لودھی نے خبردار کیا کہ پاکستان مناسب جوابی کارروائی کی استعداد رکھتا ہے اور ہم اپنی علاقائی سالمیت کے لیے کسی قسم کے خطرے کو برداشت نہیں کریں گے۔ یہ وہ صورت حال ہے 'جو اس وقت اقوام متحدہ کے بھی سامنے ہے اور عالمی برادری کے بھی سامنے ہے۔ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کو حل کرانے کے لیے اقوام متحدہ اور دنیا کی طاقتور اقوام اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کریں کیونکہ دوطرفہ مذاکرات سے اگر یہ تنازعہ حل ہونا ہوتا تو مدتوں پہلے ہو چکا ہوتا۔اب عالمی دباؤ کے ذریعے ہی بھارت کو متنازعہ معاملات کے کسی قابل قبول حل پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔