فوجی عدالتوں کا مستقبل اور دہشت گردی

فوجی عدالتوں کو ان دو سالہ مدت کے دوران 274مقدمات بھجوائے گئے جن میں سے 161 مقدمات میں موت کی سزا سنائی گئی


Editorial January 10, 2017
فوٹو: فائل

KARACHI: فوجی عدالتوں کی دوسالہ مدت مکمل ہونے کے بعد انھوں نے کام بند کر دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی عدالتوں کا قیام آئینی ترمیم کے ذریعے دہشت گردی کے سخت ماحول میں عمل میں لایا گیا کیونکہ معمول کا عدالتی نظام دباؤ میں تھا' عدالتیں اور جج بھی دہشت گردی کا نشانہ تھیں اس لیے خصوصی آئینی انتظامات کیے گئے تاکہ دہشت گردوں اور دہشت گردی پر موثر انداز میں قابو پایا جا سکے۔

سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد دہشت گردوں کے مقدمات فوری طور پر نمٹانے کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام 21ویں ترمیم کے تحت ایکٹ 2015ء کے ذریعے عمل میں لایا گیا جس کی مدت 7جنوری 2017ء کو ختم ہوئی۔ یہ عدالتیں وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی صدارت میں ہونے والی اے پی سی کے متفقہ فیصلوں کے بعد 7جنوری 2015ء کو قائم کی گئی تھیں۔ فوجی عدالتوں کو ان دو سالہ مدت کے دوران 274مقدمات بھجوائے گئے جن میں سے 161 مقدمات میں موت کی سزا سنائی گئی اور ان میں سے 12کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق عدالتوں نے سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور میں ملوث 7دہشت گردوں کو پھانسی کی سزا دی' سانحہ صفورا گوٹھ سمیت ملک بھر میں سنگین دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث دہشت گردوں کو سزا سنائی گئی۔ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی وارداتوں کے باعث حکومت پر سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے دباؤ بڑھنے لگا کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔

پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے بڑی تعداد میں دہشت گردوں کو گرفتار کیا لیکن ان دہشت گردوں کے مقدمات کے حوالے سے بڑی تشویشناک صورت حال ابھر کر سامنے آئی اور یہ بات زبان زد عام ہو گئی کہ دہشت گردوں کی جانب سے ججوں کو باقاعدہ دھمکیاں مل رہی ہیں' جس کا اظہار آئی ایس پی آر نے بھی ایک بیان میں کیا ہے کہ عدالتیں اور جج بھی دہشت گردی کا نشانہ تھے۔

ایسی خوف کی فضا میں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ممکن نہ رہا اور بعض دہشت گرد گواہوں کی عدم حاضری اور ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کے باعث عدالتوں سے رہا ہو گئے' یہ صورت حال پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے لیے پریشانی کا باعث بنی جنھوں نے اپنی جان پر کھیل کر ان دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔اس صورت حال سے عہدہ برا ہونے کے لیے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور دہشت گردوں کو سزائیں سنائی گئیں ۔ فوجی ٹربیونل نے اپنا پہلا ٹرائل فروری2015ء میں شروع کیا' دو ماہ میں مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا جب کہ آخری سماعت 28اگست 2016ء کو مکمل کی۔ قانونی ماہرین اور تجزیہ نگار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ فوجی عدالتیں جس مقصد کی تکمیل کے لیے وجود میں لائی گئیں کیا وہ حاصل کر لیے گئے۔

کچھ قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ فوجی عدالتوں سے جزوی مقاصد تو حاصل ہوئے تاہم طویل المیعاد ٹارگٹ حاصل نہیں ہو سکا۔ بعض سیاسی رہنما معترض ہیں کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے وقت فیصلہ کیا گیا تھا کہ حکومت گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے اور دیگر اصلاحات کے ذریعے عدالتی نظام کو طاقتور بنائے گی تاہم اس ضمن میں کچھ نہیں کیا گیا۔

فوجی عدالتیں ختم ہونے کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا انھیں توسیع دی جائے گی یا ختم کر دیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی' جماعت اسلامی' جے یو آئی ف اور دیگر سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں کو توسیع دینے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہی ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانون بیرسٹر ظفر اللہ نے اگلے روز کہا تھا کہ دہشت گردی کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے نئی قانون سازی کے لیے مسودہ تیار کیا جا رہا ہے اگر سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے ساتھ نہیں دیتیں تو اگلے چند دنوں میں مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

دوسری جانب ایک خبر کے مطابق حکومت نے فوجی عدالتوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس بدھ کو طلب کر لیا ہے۔ فوجی عدالتوں کا مستقبل کیا ہے، اس کا پتہ تو جلد چل چائے گا تاہم یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی اب بھی ملک کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے ' آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی آئی ہے لیکن دہشت گرد اور ان کے سرپرست ابھی تک موجود ہیں' انھیں جیسے ہی ساز گار حالات ملے وہ دوبارہ سر اٹھانے میں تاخیر نہیں کریں گے' ایسے حالات میں حکومت اور پارلیمانی پارٹیوں کوانتہائی دور اندیشی اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرنا ہو گا' فوجی عدالتیں جاری رہیں نہ رہیں' دہشت گردی کے خاتمے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کی بقا کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے۔