سوہاوہ کار اور ویگن کا المناک حادثہ
یہ امر نہایت تشویش ناک ہے کہ ملک میں ٹریفک حادثات کی شرح روز بروز بڑھتی جارہی ہے
گزشتہ روز جہلم کے قریبی علاقے سوہاوہ میں کار اور مسافر وین کے تصادم میں 14 افراد کے جاں بحق ہونے کا المناک حادثہ پیش آیا ہے، جس کے پیش نظر ٹریفک حادثات کی روک تھام کے معاملے کو مزید سنگین لیا جانا چاہیے۔
یہ امر نہایت تشویش ناک ہے کہ ملک میں ٹریفک حادثات کی شرح روز بروز بڑھتی جارہی ہے، بعض کیسز میں بلاشبہ ڈرائیور حضرات کی کوتاہی، تیز رفتاری اور جلد بازی حادثے کا موجب بنی، جب کہ بعض حادثات کے محرکات میں روڈ اینڈ سیفٹی ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونا، راستوں اور شاہراہوں کی خستہ حالی، نیز شاہراہوں کی بناوٹ میں انجینئرنگ فالٹ بھی شامل وجہ رہے۔ مذکورہ حادثے میں بھی بظاہر تیز رفتاری اس سانحے کا باعث بنی جس کے نتیجے میں 14 قیمتی جانیں ضایع ہوگئیں۔
اخباری اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز سوہاوہ کے نجی تعلیمی ادارے کے 4 طالب علم گوجر خان کے نجی کالج میں سالانہ تقریب میں شرکت کے لیے کرایہ پر لی گئی کار میں جارہے تھے کہ جی ٹی روڈ پر پنڈمتے خان کے قریب ٹائر پھٹنے سے ان کی گاڑی قلابازیاں کھاتے ہوئے سڑک کے دوسری جانب راولپنڈی سے جہلم گجرات جانے والی مسافر ہائی ایس سے جاٹکرائی، حادثہ اس قدر شدید تھا کہ دونوں گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔
کار میں سوار چاروں نوجوانوں طالب علم اور ہائی ایس میں سوار 10 مسافر جاں بحق ہوگئے جن میں 5 خواتین اور بچہ شامل ہے جب کہ 3کمسن بچوں سمیت 15 افراد زخمی بھی ہوئے۔ اندازے کے مطابق کار کی تیز رفتاری ٹائر پھٹنے کا باعث بنی۔ نوجوانی کے زعم میں اوور اسپیڈ اور خطرناک ڈرائیونگ نئی نسل کا شوق بنتی جارہی ہے، نیز مسافر گاڑیوں کے ڈرائیورز بھی غیر ذمے دارانہ اور تیز رفتار ڈرائیونگ کرکے حادثات کو دعوت دیتے ہیں۔ اس سے پیشتر بھی ہائی ویز پر ہونے والے خطرناک حادثوں کے پیچھے ڈرائیوروں کی غلطی ہی زیادہ نوٹس کی گئی۔
راست ہوگا کہ ان معاملات میں ہائی وے پولیس کو مزید فعال کیا جائے تاکہ تیز رفتار میں گاڑیاں چلانے والے ڈرائیورز کی گرفت ہوسکے، نیز جرمانہ اور سزاؤں کے خوف سے وہ آئندہ تیز رفتاری سے گریز کریں، جب کہ حادثات کی شرح کو کم کرنے کے لیے آگاہی مہم چلانا بھی لازم ہے جس کے تحت شہریوں میں روڈ سینس اجاگر کیا جائے، تیز رفتاری کی مذمت اور سڑک پر گاڑی لانے سے پہلے ڈرائیونگ میں مہارت کی ترغیب دی جائے، کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بسا اوقات نوعمر اور ناتجربہ بچے بھی گاڑیاں چلا رہے ہوتے ہیں جو نہ صرف ان کے لیے خطرناک بلکہ دوسروں کے لیے بھی جان لیوا ہوسکتا ہے۔ حادثات کی روک تھام کے لیے حکومت اور عوام دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔