مسیحاؤں سے ایثار و خدمت کی توقع

ملک کے مختلف شہروں کے چھوٹے بڑے سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی ناکافی سہولتوں کے باعث صورتحال خاصی سنگین ہوگئی ہے


Editorial January 10, 2017
۔ فوٹو: فائل

ملک کے مختلف شہروں کے چھوٹے بڑے سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی ناکافی سہولتوں کے باعث صورتحال خاصی سنگین ہوگئی ہے، یہ المیہ ہے کہ روز اول سے صحت کا شعبہ حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہوا بھی تو نیم دلانا، کیونکہ ملک کی اشرافیہ علاج کے لیے تو بیرون ملک جاتی ہے جب کہ غریب علاج کو ترستے ہیں، تعلیم و صحت کے لیے مختص رقوم ناکافی ہی رہیں، گذشتہ کئی برس ڈاکٹروں کی اپنے مطالبات کے لیے ہڑتالوں اور مریضوں کی وقفہ وقفہ سے ہلاکتوں میں گزرتے رہے ہیں، کبھی دواؤں کی قلت تو کبھی بنیادی طبی سہولتوں کے فقدان کے باعث مریضوں کے اسپتال سے باہر فٹ پاتھ پر سسک کر دم توڑنے جیسے درد ناک واقعات جنم لیتے رہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب و سندھ نے صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے وعدے کیے اور ساتھ ساتھ مجرمانہ غفلت میں ملوث صحت افسروں، مسیحاؤںاور پیرامیڈیکل اسٹاف کیخلا ف سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے ، گذشتہ دنوں جناح اسپتال لاہور میں علاج معالجے کی مناسب سہولتیں نہ ملنے کے باعث مریضہ زہرا بی بی کے جاں بحق ہونے کا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سے نوٹس لیا، مرحومہ کے گھر گئے ، ان کے لواحقین سے تعزیت کی اور 10 لاکھ کا چیک دیا، مگر مسئلہ کروڑوں ہم وطنوں کو صحت کی اطمینان بخش سہولتوں کی فراہمی کا ہے۔

بیماریاں آجکل مختلف اور عجیب ناموں سے حملہ آور ہوتی ہیں، کراچی کے کئی علاقوں میں چکن گونیا نامی وائرس کے باعث تیز بخار اور جوڑوں کے شدید درد سے کئی درجن افراد بیمار ہوگئے، لیاری جنرل اسپتال میں 3 دن کے دوران تیز بخار اور جوڑوں کے درد میں مبتلا کئی درجن مریض لائے گئے ہیں آج محکمہ صحت کی میڈیکل ٹیم لیاری جنرل اسپتال کا دورہ کرکے متاثرہ افراد کے خون کے نمونے لے کر اسلام آباد کی لیباریٹری بھجوائے گی، کراچی میں چکن گونیا یا کسی اور وائرل مرض کی تصدیق کے لیے لیبارٹری موجود نہیں ہے۔

ادھر ملک بھر میں شہریوں کو اسپتالوں میں ادویات کی عدم فراہمی کے حوالہ سے بھی شکایات ہیں،ملک میں سیکڑوں ممتاز پروفیسر، اسپیشلسٹ اور نوجوان ڈاکٹرز ہیں ، ان سے مریض توجہ مانگتے ہیں، غربت کی وجہ سے عام آدمی اپنا علاج پرائیویٹ اسپتالوں میں نہیں کرسکتا اس لیے سرکاری اسپتالوں میں موجود ڈاکٹروں سے خدا ترسی، ایثار و خدمت کی توقع رکھنا دکھی انسانیت کا بے جا مطالبہ نہیں ہے۔