گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں پھر آتشزدگی

محنت کش اپنے گھر کے کفیل ہوتے ہیں، ان کی موت سے ان گھروں میں کہرام مچ جاتا۔۔۔


Editorial January 11, 2017
محنت کش اپنے گھر کے کفیل ہوتے ہیں، ان کی موت سے ان گھروں میں کہرام مچ جاتا فوٹو : فائل

ISLAMABAD: بلوچستان کے ساحلی علاقہ گڈانی پر قائم شپ بریکنگ یارڈ میں آتشزدگی کا ایک اور دلدوز واقعہ رونما ہوا۔ اس بار بھی محنت کش آگ کے بے رحم شعلوں کی لپیٹ میں آئے۔ تفصیلات کے مطابق گڈانی شپ بریکنگ یارڈ کے پلاٹ نمبر60 میں لنگر انداز ناکارہ بحری جہاز میں کٹائی کے دوران آگ بھڑک اٹھی جس سے 5 مزدور جاںبحق اور5لاپتہ ہوگئے جب کہ50سے زائد مزدوروں کو بچا لیا گیا، المیہ ملاحظہ کیجیے کہ اسی جہاز میں ایک ہفتے قبل بھی آگ لگی تھی تاہم جانی نقصان نہیں ہوا تھا ، غفلت اور بدترین حالات کار کے الزام میں پولیس نے شپ بریکرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور پلاٹ مالک کو گرفتار کرلیا ۔

یہ لمحہ فکریہ ہے کہ پانچ عشروں پر محیط پرانے اس شپ بریکنگ یارڈ میں وقفہ وقفہ سے آتشزدگی کے واقعات سخت تشویش ناک ہوچکے ہیں، یہ دنیا میں شپ بریکنگ کی بہت بڑی انڈسٹری ہے اور اسے دنیا کا تیسرا بڑا شپ بریکنگ یارڈ کہا جاتا ہے جہاں دس لاکھ ٹن لوہا مقامی انڈسٹری اور اسٹیل مارکیٹ کو سپلائی ہوتا تھا، 1980 میں اسے دنیا کا سب سے بڑا شپ بریکنگ یارڈ قرار دیا گیا جب کہ 2009 ، 2010 کے دوران یہاں سو سے زیادہ ناکارہ جہاز توڑے جانے کے منتظر تھے۔

یہ بین الصوبائی روزگار کا ایک بندہ نواز وسیلہ رزق تھا، ملک بھر کے محنت کش اپنے خون پسینے جسمانی قوت اور مشقت سے ناکارہ بحری جہاز توڑتے ہیں، ان کی فنی مہارت عرصہ سے جاری ہے مگر گذشتہ چند برسوں میں کچھ نادیدہ ہاتھوں کو شاید بلوچستان کا امن اور ترقی کانٹے کی طرح کھٹکتے نظر آتے ہیں اس لیے صوبائی حکومت سمیت وفاق کو بھی ان الم ناک واقعات کے اصل محرکات پر توجہ دینی اور تحقیقات کرنی چاہیے کہ غریب محنت کشوں کے لیے روزگار کے اس ذریعہ کا دشمن کون ہو سکتا ہے۔

جاں بحق ہونے والے محنت کش اپنے گھر کے کفیل ہوتے ہیں، ان کی موت سے ان گھروں میں کہرام مچ جاتا ہے جن کے لواحقین معاشی مصائب شکار ہوجاتے ہیں، اس جانب حکام فوری توجہ مرکوز کریں، دریں اثنا مزدور یونین رہنما بشیر احمد محمودانی کا کہنا ہے کہ آگ غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے ، پولیس کے مطابق پیر کی صبح کٹائی کے دوران جہاز میں آگ بھڑک اٹھی، بعض مزدوروں نے جان بچانے کے لیے سمندر میں چھلانگ لگادی، جاں بحق ہونے والوں میں الف جان ، محمد سعید ،نعمت شاہ، سعید خان اور صابر شامل ہیں جن کا تعلق سوات سے ہے ، فائر بریگیڈ نے 2 گھنٹے بعد آگ پر قابو پا لیا ۔ بلوچستان کی داخلی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت کو گڈانی پر سیکیورٹی بڑھانی پڑے گی، اور ان ہاتھوں کو کاٹنا پڑیگا جو اس انڈسٹری کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

آتشزدگی کے ان الم ناک واقعات کے محرکات کا پتا لگانا ناگزیر ہے ، شپ بریکنگ صنعت سے وابستہ مزدوروں کو بنیادی سہولتیں درکار ہیں، حالات کار بہتر ہونے چاہئیں اور چوبیس گھنٹے مانیٹرنگ سسٹم برقرار رہنا چاہیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ساحل گڈانی کے آنسو پونچنے کا وقت ہے۔