خواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ

خواجہ سراؤں اور تیسری جنس کے بد نصیبوں کو بھی جینے کا حق ملنا چاہیے .


Editorial January 11, 2017
خواجہ سراؤں اور تیسری جنس کے بد نصیبوں کو بھی جینے کا حق ملنا چاہیے فوٹو: فائل

KARACHI: چیف جسٹس لاہور جسٹس منصور علی شاہ نے خواجہ سراؤں کو مردم شماری میں شامل کرنے اور شناختی کارڈ میں خواجہ سراؤں کے لیے جنس کا خانہ بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی ملک میں برابر کے شہری ہیں۔ عدالت عالیہ نے یہ حکم ایک درخواست پر جاری کیا، درخواست کے مطابق خواجہ سراؤں کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا جاتا، ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کیا جارہا اور ان کے عمرہ کی ادائیگی پر پابندی کے سبب مذہبی امور کی ادائیگی کے لیے انھیں مشکلات کا سامنا ہے۔ بلاشبہ خواجہ سراؤںکو درپیش روزمرہ کے مسائل سخت اذیت ناک اور قابل توجہ ہیں جب کہ دنیا بھر میں ان سے عام شہریوں کی طرح خدمات لی جاتی ہیں ، وہ برسر روزگار ہوتے ہیں۔

ان کی توہین نہیں کی جاتی، ہمارے ہاں بھی ایسا سلسلہ شروع ہوکر اچانک روک دیا گیا۔ اب تو صورتحال خواجہ سرا ؤں کے لیے عذاب بن چکی ہے، ان پر قاتلانہ حملے معمول بن چکے ہیں، اسٹریٹ کرمنل انھیں بھی نہیں بخشتے۔ مغرب تیسری جنس کو فطرت کا 'مس میچ' قراردیتا ہے مگر ہمارے ہی نہیں پورے برصغیر کے معاشرتی تناظر میں خواجہ سرا یا تیسری جنس کو عام شہریوں جیسے حقوق میسر نہیں، عدلیہ کا حکم صورتحال کی بہتری کی طرف ایک مثبت قدم ہے چنانچہ چاروں صوبائی حکومتوں کو معاشرے کے اس مظلوم طبقہ کی داد رسی کرنی چاہیے۔

گزشتہ روز عدالت کے روبرو ڈپٹی اٹارنی جنرل اور بہبود آبادی کے نمایندے پیش ہوئے ،عدالت کو بتایا گیا کہ مارچ میں ہونے والی مردم شماری میں خواجہ سرا شامل ہونگے علاوہ ازیں شناختی کارڈ فارم میں ان کا علیحدہ خانہ رکھا گیا ہے، یہ صائب اقدام ہے، ہمارے سماج میں جہاں قاتل ، ڈکیت ، منشیات کے تاجر اورکرپٹ مافیاؤں کو بنیادی حقوق حاصل ہیں تو خواجہ سراؤں اور تیسری جنس کے بد نصیبوں کو بھی جینے کا حق ملنا چاہیے ، ان سے دوسرے تیسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک مناسب نہیں ہے، امید کی جانی چاہیے کہ عدلیہ کے حکم پر اس کی روح اور الفاظ کی روشنی میں عمل کیا جائے گا۔