تندی باد مخالف سے نہ گھبرا ’’سعد‘‘

لودھراں میں ٹرین حادثہ اور اس میں ننھے بچوں کی شہادت پر پورے ملک کی فضا سوگوار ہے


مزمل سہروردی January 12, 2017
[email protected]

لودھراں میں ٹرین حادثہ اور اس میں ننھے بچوں کی شہادت پر پورے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ ہر آنکھ پر نم تھی۔کون ہے جو بچوں کی شہادت پر دکھی نہ ہو۔ لیکن اس دکھ اور افسوس کو سیاسی مقاصد کے حصول اور سیاسی نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کرنا بھی اتنا ہی افسوسناک ہے جتنا یہ حادثہ افسوسناک ہے۔

اس حادثہ کی آڑ میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی بھی حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔ جو لوگ لودھراں حادثہ کی آڑ میں خواجہ سعد رفیق سے استعفیٰ لینے کے لیے بے تاب ہیں وہ یہ حقیقت نظر انداز کر رہے ہیں کہ لودھراں حادثہ ٹرین ڈرائیور کی غفلت سے پیش آیا ہے اور ڈرائیور پولیس کی حراست میں ہے۔ ریلوے انتظامیہ کے اپنے موقف کے مطابق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ہزارہ ایکسپریس لودھراں سے روانہ ہوئی تو اس کے ڈرائیور نے پھاٹک سے ایک اعشاریہ دو کلومیٹر فاصلے پر وسل نہیں دی جو کہ ایس او پیز کے مطابق انتہائی ضروری تھی، یہ ایک کاشن تھا جو پھاٹک پر دیا جانا تھا تاکہ پھاٹک بند کر دیا جاتا اور اس کے ساتھ ہی خود کار طریقے سے سگنل ڈاون ہوجاتا۔

ہزارہ ایکسپریس کو سگنل ڈاون نہیں ملا اور یہاں اس کے ڈرائیور کو فوری طور پر گاڑی روک لینا چاہیے تھی مگر وہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق ناشتہ کرنے میں مصروف تھا، اس نے وسل بورڈ کے بعد سگنل کو بھی نظرانداز کیا اور گاڑی پٹری پر موجود موٹرسائیکل رکشے سے ٹکرا گئی اور معصوم بچوں کی قیمتی جانیں ضایع ہو گئیں۔سادہ بات یہ ہے کہ دھند زیادہ تھی۔ ڈرائیور نے ناشتہ کرنا شروع کر دیا اور ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کی گاڑی ڈرائیور چلا رہا ہو اور وہ اپنی غلطی سے گاڑی مار دے اور پولیس ڈارئیور کے بجائے آپ کو پکڑ لے حالانکہ آپ گاڑی میں بھی نہ ہوں۔

اس سے پہلے پاکستان ریلوے پر بات کی جائے تو یہ سمجھنا ہو گا کہ خواجہ سعد رفیق پر چڑھائی کی وجہ بھی سیاسی ہے۔ خیر سے خواجہ صاحب اپنے سیاسی مخالفین سے کونسی رعایت کرتے ہیں جو ان کے ساتھ رعایت کی جائے۔ خواجہ سعد رفیق اگر سیاسی میدان میں فرنٹ فٹ پر کھیلنے کے عادی ہیں تو انھیں یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ انھیں جواب بھی فرنٹ فٹ پر ہی ملے گا۔ مگر میرے نزدیک یہ ایک دلچسپ میچ ہے۔ اس میچ کی وجہ سے خواجہ سعد رفیق کو پتہ ہے کہ ان کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔

یہ درست ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کی وزارت کا چارج ایک ایسی صورتحال میں سنبھالا جب ریلوے بند ہو رہی تھی۔ جب خبریں یہ تھیں کہ ریلوے کے پاس ٹرینیں چلانے کے لیے ڈیزل کے پیسے بھی نہیں ہیں۔ ٹرینیں ڈیزل نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو رہی تھیں۔ ریلوے کو بیچ دینے اور بند کر دینے کی باتیں ہو رہی تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ریلوے کا خسارہ خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا۔ اور کسی بھی حکومت کے لیے یہ خسارہ برداشت کرنا ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔

جو لوگ خواجہ سعد رفیق کی کارکردگی پر سوال کر رہے ہیں وہ حادثات کے اعداد و شمار تو پیش کر رہے ہیں لیکن یہ نہیں بتا رہے کہ ایک بھی حادثہ ریلوے کے نظام میں کسی خرابی کی وجہ سے نہیں ہوا۔ چند ماہ قبل وزیر آباد میں ایک فوجی ٹرین کو جو حادثہ ہوا تھا اس کی وجہ بھی ڈرائیور کی اوور اسپیڈنگ تھی۔ آف دی ریکارڈ بات تو یہ تھی کہ ٹرین میں موجود مسافروں نے ہی ڈرائیور کو اوور اسپیڈنگ پر مجبور کیا تھا جو حادثہ کا باعث بنا۔ اس طرح ابھی تک ایک بھی حادثہ ریلوے کے نظام میں کسی خرابی کی وجہ سے نہیں ہوا۔

ڈرائیورز کی غلطی سے حادثات تو سڑکوں پر بھی ہوتے ہیں اور اس کی ذمے داری ڈرائیور پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اس کی سزا بھی ڈرائیور کو ہی ملتی ہے۔جو لوگ بھارت کی ریلوے کا پاکستان کی ریلوے سے موازنہ کر رہے ہیں اور لالو پرشاد کی مثالیں دے رہے ہیں وہ یہ نہیں بتا رہے کہ گزشتہ ماہ بھارت میں ریلوے حادثات میں 128 لوگ مر گئے ہیں۔ لیکن شاید وہاں کوئی وزیر ریلوے سے استعفیٰ نہیں مانگ رہا۔

جہاں تک ریلوے کے خسارہ اور بحالی کی بات ہے تو خواجہ سعد سے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے اس کا ذکر نہیں کرتے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کا چارج سنبھالا تب ریلوے کی آمدن صرف اٹھارہ ارب روپے تھی ۔ اس کو مزید سادہ زبان میں بیان کیا جائے تو ریلوے240 روپے خرچ کر کے صرف ایک سو روپے کما رہا تھا۔ اور اب اس کی آمدن اس مالی سال میں چالیس ارب تک پہنچ رہی ہے۔ یعنی اب صرف 117روپے خرچ کر کے ایک سو روپے کمائے جا رہے ہیں۔ شاید سعد سے استعفیٰ مانگنے والے اس کاوش کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ریلوے اور ریلوے کے وزیر کے ساتھ سیاست اپنی جگہ۔ لیکن جہاں تک ریلوے کے مستقبل کا سوال ہے تو یہ یقینا ایک اہم سوال ہے کہ پاکستان میں ریلوے کا مستقبل کیا ہے۔ شاید لوگ سمجھ نہیں رہے کہ سی پیک کے پہلے مرحلہ میں تو سڑکیں بن رہی ہیں لیکن یہ سڑکیں اور موٹر وے سی پیک کا لوڈ برد اشت نہیں کر سکیں گی۔ اس کے لیے آخری حل ریلوے ہی ہے۔

چین کی سرحد تک ریلوے ٹریک ہی سی پیک کی حقیقی منزل ہے۔ اور اس پر پس پردہ کام ہو رہا ہے۔ جب چین سے گوادر ریلوے ٹریک بنے گا تو ایران اور سینٹرل ایشیا کی ریاستوں تک بھی ٹریک بنے گا۔ ایسے میں پاکستان ریلوے کا مستقبل مخدوش نہیں ہے۔ سی پیک کے تحت لاہور سے پشاور تک مین لائن کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے، آبادی میں ریلوے لائن کے گرد باڑھ لگائی جا رہی ہے۔

اگر یہ سب ٹھیک ہے تو ریلوے کے بارے میں عوامی و سیاسی تاثر کیوں ٹھیک نہیں ہو رہا۔میرے نزدیک اس کی وجہ بھی خواجہ سعد رفیق ہی ہیں۔ وہ ہر وقت ملک کی سیاست پر بیان دیتے ہیں۔ خود کو ملک کے سیاسی منظر نامہ میں زندہ رکھنے کی شعوری و غیر شعوری کوشش کرتے ہیں لیکن ریلوے میں اپنی کارکردگی پر بات نہیں کرتے۔ وہ ریلوے کا کام تو کرتے ہیں لیکن ریلوے کا مقدمہ نہیں لڑتے۔

سوال یہ بھی ہے کہ خواجہ سعد سے حادثہ کی بنیاد پر استعفیٰ مانگنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے علاوہ خواجہ سعد کے پاس کچھ نہیں۔ سعد نے ریلوے کی زمین مال مفت کی طرح نہیں بانٹی بلکہ اس کو واپس لینے کی کوشش کی ہے۔ سعد پر کرپشن کا کوئی اسکینڈل نہیں ہے۔ سعد کے دور وزارت میں ریلوے کا کوئی میگا کرپشن اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ کوئی نوکریوں کی بندر بانٹ نہیں سامنے آئی۔ ریلوے کی بحالی کا سفر ابھی شروع ہوا ہے۔ منزل دور ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ کون ریلوے کی بحالی کے عمل کو روکنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ پاکستان میں سستے سفر کا واحد راستہ ریلوے کی بحالی ہے۔سیاحت کے فروغ کا واحد راستہ بھی ریلوے ہی ہے۔ اس لیے خواجہ سعد لگے رہو۔ آخر میں خواجہ سعد کے لیے بس ایک شعر ۔

تندی باد مخالف نہ گھبرا اے"سعد"

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

مقبول خبریں