پاکستانیوں پر تشدد کارروائی کی یقین دہانی پر طورخم بارڈر کھول دیا گیا

ذمے داروںکوسزادینگے،افغان سفیر، لنڈی کوتل میںافغان باشندوںپرتشددکامعاملہ اٹھایا


Numainda Express December 30, 2012
بارڈرکھلنے سے آمدورفت،نیٹوسپلائی بحال،17بوری بارودی موادپکڑاگیا، سرحد کی بندش سے 13بچے سردی سے ہلاک ہوئے،افغان پولیس. فوٹو: فائل

پاکستان نے افغان حکومت کی جانب سے پاکستانی باشندوں پر تشدد میں ملوث اہلکاروں کیخلاف کارروائی کی یقین دہانی پر طورخم بارڈر 2 روز بند رکھنے کے بعد دوبارہ کھول دیا۔

ہفتہ کے روز افغان سفیر عمر دائود زئی کو دفتر خارجہ میں طلب کیا گیا جہاں امور خارجہ کے خصوصی سیکریٹری عالمگیر بابر نے پاکستانی ٹرک ڈرائیوروں پر افغان فورسز کی جانب سے تشدد کے واقعہ پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان معظم علی خان کے مطابق افغان سفیر کو بتایا گیا کہ پاکستانی باشندوں پر تشدد کے واقعات قابل قبول نہیں، افغان سفیر نے بارڈر کھولنے کی درخواست کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ افغان حکومت واقعی کی تحقیقات کریگی اور ذمہ داروں کو سزا دے گی اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائیگا کہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں، افغان سفیر نے لنڈی کوتل میں افغان شہریوں پر تشدد کا معاملہ بھی اٹھایا۔

05

واضح رہے کہ افغان فورسز نے پاکستانی ٹرک ڈرائیور اور کلینرکو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس پر جمعہ کے روز پاکستانی فورسز نے احتجاجاً طورخم بارڈر بند کردیا تھا، اس سے قبل بھی افغان فورسز نے پاکستانی مزدوروں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ طورخم بارڈ کھلنے سے نیٹو سپلائی اور پاکستان وافغانستان کے مابین دوطرفہ آمدورفت بحال ہوگئی ہے، قبل ازیں سکیورٹی خدشات کی بنا پر نیٹو فورسز کو سامان کی سپلائی کرنیوالی گاڑیوں کو جمرود تختہ بیگ چیک پوسٹ سے واپس پشاور بھیج دیا گیا تھا۔ آن لائن کے مطابق افغان صوبہ ننگرہار کی پولیس کے ترجمان ادریش مومند نے بتایا کہ سرحد کی بندش سے 10 افغان بچے سردی سے جاں بحق ہوگئے، گزشتہ دو دنوں کے دوران مرنیوالے بچوں کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔دوسری جانب سے جمرود انتظامیہ نے 19 بوری نوشاد ر اور17 بوری بارودی مواد پشاور سمگل کرنیکی کوشش ناکام بناکر دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔