شاہ عبداللطیف بھٹائی کے عرس کی تقریبات ختم ہوگئیں

وزیر اعلیٰ سندھ نے بھٹائی دربار پر چادر چڑھائی، یتیموں اور بیواؤں میں کپڑے تقسیم کیے


Numainda Express December 31, 2012
لطیف ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد،عابدہ پروین اور دیگر نے شاہ لطیف کاکلام پیش کیا۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ کے عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی ؒ کے269ویں سالانہ عرس کی سہ روزہ تقریبات بھٹ شاہ میں اختتام پذیر ہوگئیں اور آخری روز بھی سندھ سمیت ملک بھر سے آئے ہوئے ہزاروں افراد نے مزار پر حاضری دے کر شاہ بھٹائی سے اپنی عقیدت ومحبت کا اظہار کیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے صوبائی وزیر ثقافت سسی پلیجو کے ہمراہ دربار بھٹائی پر چادر چڑھا کر عرس کی تقریبات کا اختتام کیا۔ اس موقع پر انھوں نے پاکستان وسندھ کی ترقی وخوشحالی کے لیے دعا بھی کی۔ انھوں نے درگاہ بھٹائی پر رکھی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے ۔انھوںنے یتیموں اور بیواؤں میں کپڑے بھی تقسیم کیے۔عرس کے آخری روزمحکمہ ثقافت کے تحت شاہ عبدالطیف آڈیٹوریم میں لطیف ایوارڈ کی تقریب ہوئی جس کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ نے بہترین راگی کا لطیف ایوارڈ سید ذوالفقار علی شاہ، بہترین گائیک کا ایوارڈ ثمینہ کنول، بہترین میوزیشن جے رام جوگی، بہترین تحقیق پر مشتاق علی شاہ، بہترین شاعر استاد بخاری اور بہترین سگھڑ کا لطیف ایوارڈ بیڑو فقیر کو دیا، ایوارڈ حاصل کرنے والے تمام افراد کو لطیف ایوارڈ کے ساتھ 10، دس ہزار روپے نقد انعامات بھی دیے گئے۔

01

بعد ازاں مختلف مویشی مالکان محمد صدیق راہو، حاجی بشیر احمد ابڑیجو اور مخدوم غلام محی الدین کو لائیو اسٹاک ایوارڈ، ڈائریکٹر جنرل لائیو اسٹاک ڈاکٹر علی اکبر سومرو،سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مرتضیٰ گوہر صالحانی، محکمہ زراعت کے خان محمد کلھوڑو کو بہترین اسٹال لگانے پر ایوارڈ دیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر کچی آبادی شاہد ندیم بھٹو، صوبائی مشیر ابو بائی، ایم پی اے سید امیر علی شاہ ہاشمی، کمشنر حیدرآباد احمد بخش ناریجو، ڈی آئی جی حیدرآباد ثناء اللہ عباسی اوردیگر بھی موجود تھے۔بعد ازاں لطیفی راگ کی محفل بھی ہوئی جس میں سندھ کی معروف لوک گلوکارہ عابدہ پروین سمیت دیگر نے شاہ لطیف بھٹائی کاکلام پیش کر کے خوب داد و تحسین حاصل کی۔