چیئر مین پی آئی اے سیکریٹری دفاع ہیں تو 2عہدے کیسے رکھ سکتے ہیں چیف جسٹس
لگتاہے کوئی پی آئی اے کی حالت سنوارنا نہیں چاہتا، آبزرویشن،رواںسال140ارب کانقصان ہوگا ،عدالت میںوکیل کاجواب
سپریم کورٹ نے پی آئی اے کیس کی سماعت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ایم ڈی اورچیئرمین کوطلب کر لیاہے۔
جبکہ جہازوں میں نقائص اورانکی صورتحال کے حوالے سے سول ایوی ایشن سے رپورٹ طلب بھی کرلی ہے ۔چیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری کی سربراہی میں فاضل بینچ نے پی آئی اے میںکر پشن کے حوالے سے ماروی میمن اوردیگردرخواست گزاروںکی درخواستوں کی سماعت کی۔ پی آئی اے کی جانب سے انکے وکیل نے رپورٹ پیش کر تے ہوئے بتایاکہ پی آئی اے میں اس وقت ساڑھے17 ہزار ملازمین ہیں،ہم ٹھیکیدارکے ذریعے 2761ڈیلی ویجز ملازمین کو رکھتے ہیںاور دوسرے ممالک میں جنرل سیلز ایجنٹ بھرتی کیے ہیں ، عدالت نے کہا کہ سیلز ایجنٹ کی بھرتی میں شفافیت نہیں ہے۔
پی آئی اے کے وکیل نے عدالتی استفسار پربتایاکہ چیئرمین پی آئی اے اور سیکریٹری دفاع ایک ہی شخص ہیں تو چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دو اہم عہدے ایک ہی شخص کے پاس ہیں۔چیئرمین ایک فل ٹائم جاب ہے ، اسی وجہ سے تو ادارے کو نقصانات ہو رہے ہیں،عدالت نے پی آئی ا ے کے چیئرمین سے کہا ہے کہ وہ کس طرح ایک ساتھ دو عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں ایک جانب تو وہ سیکریٹری دفاع ہیں اور ساتھ ہی وہ پی آئی اے کے چیئرمین ہیں۔

اگر ایم ڈی اور چیئرمین پی آئی اے کو علیحدہ علیحدہ تعینات نہیںکیا جا ئے گا توکس طرح پی آئی اے منافع بخش ادارہ بن سکے گا۔ عدالت نے چیئرمین اور ایم ڈی پی آئی اے کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس سال پی آئی اے کا نقصان گزشتہ سال کی نسبت بڑھ گیا ہے اور اس سال پی آئی اے کو140ارب نقصان برداشت کر نا پڑے گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے کہ کوئی بھی پی آئی اے کی حالت زارکو سنوارنے میں اپنا کردار ادا نہیںکرنا چاہتا، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی رپورٹ دی ہے کہ دن بدن اس کی حالت دگرگوں ہوتی جا رہی ہے۔ عدالت میںماروی میمن نے کہا کہ پی آئی اے کی حالت بہتر نہیں ہے عدالت جہازوں کی حالت سے متعلق سول ایوی ایشن سے شیک ڈائون رپورٹ منگوائے۔
عدالت کو سول ایوی ایشن کے لیگل ایڈوائزر عبید الرحمان عباسی نے بتایا کہ سول ایوی ایشن، رولزکے تحت جہازوںکی چیکنگ کرتا ہے اورکسی جہاز میں نقص پایا جاتا ہے تو ہم اس جہازکوگرائونڈکر دیتے ہیں، ہم سیفٹی پرکوئی سمجھوتہ نہیںکر تے اور سول ایوی ایشن سیفٹی میں دنیا میں دسویں نمبر پر رہا ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14جنوری تک ملتوی کر دی ۔