بھارتی فوجی کو واپس بھجوانے کا مثبت فیصلہ

29 ستمبر کو ہی بھارت نے سرجیکل اسٹرائیک کا بے بنیاد دعویٰ کیا تھا


Editorial January 23, 2017
فوٹو: آئی ایس پی آر

پاک فوج نے اپنے افسران سے روٹھ کر لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان میں داخل ہونے والے بھارتی فوجی چندو بابا لال چوہان کو جذبہ خیر سگالی کے تحت انڈیا کے حوالے کر دیا، دشمن کے ساتھ دوستانہ سلوک کرنے کا مطلب ہے کہ آپ نے دشمنی کی بنیاد کو کمزور کر دیا ہے۔ یہ کام ہمیں مسلمانوں کی تاریخ میں بھی نظر آتا ہے بلکہ ایک واقعہ تو انگریزی شاعری میں بھی نمایاں ہے جب صلیبی جنگوں کے دوران صلاح الدین ایوبی نے عیسائی فوج کے بادشاہ رچرڈ کا گھوڑا جنگ میں ہلاک ہونے پر اس کے لیے اپنا گھوڑا بھجوا دیا تھا۔

پاکستان نے اپنے افسروں کی بدسلوکی سے تنگ آکر کنٹرول لائن عبور کرنے والے بھارتی فوجی کو واپس بھجوا کر قابل قدر کام کیا ہے۔اس ضمن میں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ چندو بابو لال چوہان کو جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اسے وطن واپس بھیجنے کے لیے قائل کیا گیا اور پھر اسے واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کیا گیا، واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فوجی چندو بابولال چوہان اپنے افسران کی زیادتیوں سے تنگ آ کر 29 ستمبر کو لائن آف کنٹرول عبور کر کے پاکستان آ گیا تھا اور اس نے خود کو پاکستانی حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

29 ستمبر کو ہی بھارت نے سرجیکل اسٹرائیک کا بے بنیاد دعویٰ کیا تھا،ادھر دفتر خارجہ کے مطابق حکومت پاکستان کی طرف سے بھارتی فوجی کو اس کے ملک واپس بھجوانے کا فیصلہ انسانی بنیادوں اور ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر امن یقینی بنانے کے عزم کی بنیاد پر کیا گیا ہے، ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے جنگی رویئے کے باوجود پاکستان پرامن ہمسائیگی پر یقین رکھتا ہے اور علاقائی امن اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے تمام اقدامات کو مسترد کرتا ہے۔

بھارت میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا کہ جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی فوجی کی حوالگی خوش آیند ہے، بھارت کو بھی دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے، بھارت سزا پوری کرنے والے سیکڑوں پاکستانی قیدیوں کو رہا نہیں کر رہا، بھارت نے اپنے فوجی چندو بابو لال چوہان کی واپسی کی تصدیق کر دی۔ اب بھارت کو بھی جوابی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا اقدام کرنا چاہیے' دونوں ملکوں کی حکومتوں کو کم از کم یہ فیصلہ تو کر لینا چاہیے کہ غلطی یا سادہ لوحی سے سرحد عبور کرنے والوں کو گرفتار کرنے کے بجائے فوراً واپس بھجوا دیا جائے۔

اکثر اوقات سرحدی دیہات کے لوگ غلطی سے سرحد عبور کر لیتے ہیں' بعض اوقات سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے بھی غلطی سرزد ہو جاتی ہے جب کہ مچھیرے تو اکثر ایک دوسرے کی سمندری حدود میں داخل ہو جاتے ہیں' ان لوگوں کو گرفتار کر کے برسوں جیلوں میں بند رکھنا ظلم ہے' دونوں ملکوں کو اس حوالے سے کوئی میکنزم بنانا چاہیے۔