گندم کے بحران کا خطرہ

بعض فلور ملز نے زیادہ منافع کے لالچ میں افغانستان اور وسط ایشیا کی ریاستوں کو بھجوانا شروع کر دیا ہے


Editorial January 03, 2013
پاکستان میں زرعی اجناس میں سب سے زیادہ پیداوار گندم ہی کی ہوتی ہے ۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں گندم خوراک کا بنیادی جز ہے۔ یہی سبب ہے کہ پاکستان میں زرعی اجناس میں سب سے زیادہ پیداوار گندم ہی کی ہوتی اور حکومت بھی گندم کی بوائی سے لے کر مارکیٹ میں اس کی فروخت تک تمام معاملات پر کڑی نگاہ رکھتی ہے۔ جب بھی گندم مہنگی یا اس کا مصنوعی بحران پیدا ہوتا ہے تو ہر طرف شور برپا ہو جاتا ہے۔

گندم اور آٹے کا کاروبار اپنی وسعت کے باعث تاجروں کے لیے کشش کا درجہ رکھتا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق بعض فلور ملز نے زیادہ منافع کے لالچ میں افغانستان اور وسط ایشیا کی ریاستوں کو بھجوانا شروع کر دیا ہے۔ اگرگندم اور آٹے کی اس اسمگلنگ کو فوری طور پر نہ روکا گیا توملک میں آٹے کا شدید بحران جنم لے سکتا ہے۔ ماضی میں بھی کئی بارملک میں آٹے کا بحران پیدا ہوا'اس کا سبب بھی افغانستان اور وسط ایشیاء کو آٹے کی سپلائی تھا۔

اب جب عام انتخابات قریب آ رہے اور سیاسی جماعتیں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی مہم چلا رہی ہیں ایسے میں اگر آٹے کا بحران پیدا ہوتا ہے تو یہ برسراقتدار حکومتوں کی سیاسی شہرت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ گندم کا بحران پیدا ہوا تو آٹا مہنگا ہونے سے غریب آدمی کے مسائل میں اضافہ ہو جائے گا۔ گندم کی نئی فصل آنے میں ابھی تقریباً تین ماہ باقی ہیں اگر گندم کے موجودہ ذخائر کی حفاظت نہ کی گئی اور اسمگلنگ کا یہ سلسلہ بلا روک ٹوک یونہی جاری و ساری رہا تو یہ پورے ملک میںآٹے کا بحران پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ آٹے کے حصول کے لیے شہریوں کی قطاریں لگ سکتی ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اگرچہ محکمہ خوراک نے سرکاری گندم کا غلط استعمال کرنے والی ملز کے خلاف کریک ڈائون کرتے ہوئے دس سے زائد ملز کا کوٹہ معطل کر دیا ہے ۔یہ ایک اچھا اقدام ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ گندم اور آٹے کی اسمگلنگ کو روکا جائے۔ اس سلسلے میں افغانستان کے بارڈر پر سختی کی جانی چاہیے۔