بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے چپلوں کی تیاری بھی متاثر

ایک مزدور ایک دن میں 5عام پشاوری چپلیں اور2جوڑی بہتر معیار کی چپلیں تیار کرتا ہے


Business Reporter July 29, 2012
ایک مزدور ایک دن میں 5عام پشاوری چپلیں اور2جوڑی بہتر معیار کی چپلیں تیار کرتا ہے فوٹو: فائل

ISLAMABAD: بجلی کے بریک ڈائون اور لوڈ شیڈنگ سے پشاوری چپلوں کی تیاری بھی متاثر ہورہی ہے بالخصوص یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے،

چپل بازار کے کارخانوں میں چپل کی جوڑی کے حساب سے مزدوروں کو اجرت دی جاتی ہے ایک مزدور ایک دن میں پانچ عام پشاوری چپلیں اور 2 جوڑی بہتر معیار کی چپلیں تیار کرتا ہے فی جوڑی 100سے 120روپے اجرت ملتی ہے، چپلوں کی تیاری بنیادی طور پر تین مراحل میں کی جاتی ہے پہلے مرحلے میں اپر تیار ہوتا ہے دوسرے مرحلے میں سول اور تیسرے مرحلے میں باٹم تیار کیا جاتا ہے،

عام پشاوری چپل دو گھنٹے میں تیار ہوتی ہے جبکہ بہتر معیار کی ڈیزائن والی چپل کی تیاری 4گھنٹے میں مکمل ہوتی ہے، زری والی چپلوں کی تیاری میں اور زیادہ وقت لگتا ہے، اگرچہ چپلوں کی تیاری میں زیادہ تر ہاتھ سے کام لیا جاتا ہے لیکن بجلی نہ ہونے پر چپلوں کی سلائی میں دشواری ہوتی ہے اور ادھوری چپل کی مزدوری بھی نہیں ملتی جس سے مزدوروں کا وقت ضایع ہوتا ہے اور وہ کارخانے میں دیر تک رک کر اپنا کام مکمل کرنے پر مجبور ہوتا ہے،

ادھر بجلی نہ ہونے سے چپلوں کی تیاری کے ساتھ دکانوں پر سپلائی بھی متاثر ہوتی ہے، بجلی نہ ہونے پر گاہک بغیر خریداری کیے لوٹ جاتے ہیں۔