افغانستان میں دہشتگردوں کیخلاف کارروائی نہ ہونا ہمارے صبر کا امتحان ہے، آرمی چیف

ویب ڈیسک  جمعـء 17 فروری 2017
آرمی چیف نے افغانستان میں امریکی جنرل کو ٹیلی فون کیا اور افغان حکام کو دی گئی دہشت گردوں کی فہرست سے بھی آگاہ کیا، فوٹو؛ فائل

آرمی چیف نے افغانستان میں امریکی جنرل کو ٹیلی فون کیا اور افغان حکام کو دی گئی دہشت گردوں کی فہرست سے بھی آگاہ کیا، فوٹو؛ فائل

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امریکی جنرل جان نکولسن سے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہونا ہماری تحمل کی پالیسی کا امتحان ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امریکی جنرل جان نکولسن کو ٹیلی فون کیا اورافغانستان سے پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکام کو دی گئی دہشت گردوں کی فہرست سے متعلق بھی آگاہ کیا جب کہ امریکی کمانڈر نے حالیہ دہشت گرد واقعات میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ ملک بھر میں کومبنگ آپریشن میں 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک، آئی ایس پی آر

پاک فوج کے سربراہ کا امریکی جنرل سے گفتگو میں کہنا تھا کہ پاکستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی ذمے داری قبول کرنے والی تنظیموں کی قیادت افغانستان میں ہے جو وہاں طویل عرصے سے پناہ لیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہونا سرحد پار ہماری تحمل کی پالیسی کا امتحان ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی جنرل سے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین کا استعمال روکا جائے اور امریکی کمانڈر دہشت گردوں کو تعاون، مالی معاونت کے خاتمے میں کردارادا کریں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: دشمن کا ایجنڈا کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونے دیں گے، سربراہ پاک فوج

واضح رہے درگاہ لعل شہباز قلندر میں خودکش حملے کی کڑیاں افغانستان سے جڑنے کے بعد پاک افغان طورخم بارڈر گزشتہ روز بند کردیا گیا تھا جب کہ پاکستان نے افغان حکومت سے مطلوب دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔