چیف جسٹس کا انتباہ

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ عدلیہ نے جمہوری حکومت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا۔


Editorial January 06, 2013
وکلا اور عوام جانتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کا تحفظ کس طرح کرنا ہے، چیف جسٹس۔ فوٹو: فائل

لاہور: پاکستان میں طویل عرصے بعد پہلی بار مکمل طور پر ایک جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے جا رہی ہے جو خوش آیند امر ہے۔ جمہوریت کے اسی تسلسل کو تقویت دینے کے لیے سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے میدان میں اتر چکی ہیں اور انتخابی جلسوں کے ذریعے عوام تک اپنی آواز پہنچا رہی ہیں۔

دوسری جانب یہ خوش کن امر ہے کہ عوام کی بھی ایک بڑی تعداد ان جلسوں میں شرکت کر کے جمہوریت سے اپنے لگائو کا بھرپور اظہار کر رہی ہے۔علاوہ ازیں حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے مابین نگران حکومت بنانے کے لیے بھی صلاح مشورے جاری ہیں تاکہ انتخابات کے شفاف اور بر وقت انعقاد کو یقینی بنایا جا سکے۔جب موجودہ جمہوری سیٹ اپ قائم ہوا ، اسی وقت یہ صدائیں بلند ہونا شروع ہوئیں کہ جمہوری حکومت اپنی مدت پوری نہ کرسکے گی مگر ایسا نہ ہو سکا اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی جمہوری حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا بھرپور موقع ملا۔

اب پھر کچھ قوتیں بروقت انتخابات کے انعقاد کو مشکوک بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ انھی قوتوں کو ناکام بنانے اور جمہوریت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کو دو ٹوک الفاظ میں یہ کہنا پڑا کہ '' اب کوئی جمہوریت پر شب خون نہیں مار سکتا' انتشار پھیلانے والی سیاسی جماعتوں کی حمایت نہ کی جائے' ملک میں جمہوریت رواں دواں ہے' الیکشن کے ذریعے آنے والے لوگ ہی ملکی نظام چلائیں گے۔ پاکستان کے وکلا اور عوام جانتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت کا تحفظ کس طرح کرنا ہے''۔ ایوان اقبال میں ڈسٹرکٹ بار لاہور کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جمہوریت کی پٹڑی کو ڈی ریل کرنے میں کوشاں قوتوں کی غلط فہمی یہ کہہ کر دور کر دی کہ اب ملک میں کسی بھی صورت کوئی غیر آئینی اقدام نہیں ہو سکتا بلکہ سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہوگا۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ عدلیہ نے جمہوری حکومت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے اس سے پیشتر بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا اور ہر اس فعل کی مذمت کی جو جمہوری عمل کی روانی میں رکاوٹ بن سکتا تھا، اب ایک بار پھر چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے اسی عزم کو دہرایا ہے کہ ''سب کچھ آئین اور قانون کے مطابق ہو گا''۔ دوسری جانب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی مختلف مواقع پر یہ یقین دہانی کرائی کہ جمہوریت کا ہر ممکن تحفظ کرتے ہوئے اس کی راہ میں کوئی امر مانع نہیں ہونے دیا جائے گا۔

گزشتہ دنوں انھوں نے چیف الیکشن کمشنر سے ایک ملاقات کے موقع پر بھی الیکشن کے بروقت انعقاد اور اسے ہر ممکن طور پر شفاف بنانے کے لیے اپنے تعاون کا بھرپور یقین دلاتے ہوئے کھلے عام ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جو جمہوریت کے خلاف سازشوں کے جال بن رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں خصوصاً میاں نواز شریف نے اے این پی کے رہنمائوں سے ملاقات میں جمہوریت کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں جمہوری نظام پر متفق ہیں اور ایسے تمام عناصر کی حوصلہ شکنی کررہی ہیں جو جمہوری نظام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بھی چکوال میں ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ'' آج عدلیہ' فوج اور میڈیا جمہوریت کے محافظ ہیں' جمہوری تسلسل جاری رہے گا' انتخابات وقت پر ہوں گے' ایک دن بھی تاخیر نہیں ہو سکتی جس کو عوام چاہیں گے وہی حکمران ہو گا''۔ ملک کی ترقی اور خوشحالی کا راز بھی اسی میں مضمر ہے کہ انتخابی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے اور عام انتخابات کا انعقاد بروقت ہو۔ کسی قسم کی تاخیر غیر جمہوری قوتوں کو پنپنے کا موقع دے گی جو جمہوری عمل کے لیے مضر رساں ہو گا۔

علاوہ ازیں صدر زرداری نے بھی ہفتے کو صدارتی کیمپ آفس بلاول ہائوس کراچی میں پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے85 ویں یوم پیدائش کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ ''آیندہ انتخابات میں کون کامیاب ہو گا، اس کا فیصلہ عوام کریں گے' حکومت آیندہ انتخابات مقررہ وقت پر کرائے گی' سیاسی قوتیں انتخابات کی تیاری کریں''۔ یہ خوش کن امر ہے کہ آج فوج' عدلیہ' حکومت اور منتخب اپوزیشن قوتیں جمہوریت کی گاڑی کو رواں دواں رکھنے پر متفق اور ہر ایسے فعل کی مذمت کر رہی ہیں جس سے جمہوریت اپنی منزل سے دور ہو جائے۔

اگر کوئی قوت ملک میں انقلاب لانا چاہتی ہے یا اصلاحات کی خواہاں ہے تو اس کا بہترین طریقہ کار انتخابات ہیں، اسے چاہیے کہ انتخابات میں حصہ لے، اگر وہ منتخب ہو کر اسمبلی میں اس پوزیشن میں آ جاتی ہے کہ وہ اپنی سوچ کے مطابق اصلاحات لائے تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ انقلاب یا اصلاحات لانے کا بہترین فورم منتخب پارلیمنٹ ہے۔ اس سے ہٹ کر اگر کوئی ایسی کوشش کی جاتی ہے جس سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچے تو وہ ہر لحاظ سے غیر آئینی اور قابل مذمت ہے۔ کسی بھی انداز میں عوام میں انتشار پھیلانے یا ملکی نظام کی روانی میں رکاوٹ ڈالنے کا حربہ ملک اور قوم دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

اگر کوئی قوت اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ جمہوریت کے برخلاف رویہ اختیار کرے گی تو اسے یہ امر نہیں بھولنا چاہیے کہ اس کا ٹکرائو اپنے سے زیادہ طاقتور سیاسی جماعتوں' عدلیہ اور حکومت سے ہو گا جو اس کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے لہٰذا کوئی بھی غیر آئینی رستہ اختیار کرنے سے قبل انھیں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بھی ایسی قوتوں کو متنبہ کیا ہے کہ آئین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے آئین کے مطابق نمٹا جائے گا۔ انھوں نے کھلے الفاظ میں عندیہ دے دیا ہے کہ ہر شخص پر ریاست کا وفادار رہتے ہوئے آئین کی پاسداری لازم ہے اور آئین کے تحت کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں بن سکتی جس سے ملک میں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہو۔

آئین ریاست کا محافظ اور سب سے بالاتر ہوتا ہے۔ ریاست بچانے کا واحد طریقہ آئین کی پاسداری ہے۔ تمام ادارے فوج' عدلیہ' حکومت اور سیاسی جماعتیں آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی اپنے فرائض سر انجام دیتی ہیں۔ اس لیے کوئی بھی ایسا قدم جو آئینی حدود سے متجاوز ہو' ریاستی ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لہٰذا ایسے اقدام سے ہر ممکن طور پر گریز کرتے ہوئے آئین اور قانون کی بالادستی کو قائم کرنے کی مثال پیش کی جائے۔ امید ہے کہ اقتدار جو عوام کی امانت ہے بروقت اور پر امن انتخابی طریقے سے انھیں منتقل کیا جائے گا کیونکہ آج فوج' عدلیہ اور حکومت سب جمہوریت کی حفاظت کا عہد کیے ہوئے ہیں۔