جماعت اسلامی 12 روز میں2 تھنک ٹینک سے محروم

پروفیسر غفور کے بعد قاضی بھی دار فانی سے رخصت‘رہنماؤں کی وفات پارٹی کا بڑا نقصان۔


Numainda Express January 07, 2013
موجودہ امیرمنور حسن اور جنرل سیکریٹری لیاقت بلوچ کو اب مشاورت کیلیے سینئر میسر نہیں رہے. فوٹو: فائل

جماعت اسلامی کو چنددنوں کے اندر اپنے دوسرے بڑے رہنما سے محروم ہونا پڑا۔

چند ہی روز قبل جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر پروفیسر غفور احمد طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے تھے جبکہ اب جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد دار فانی سے کوچ کرگئے ہیںجو جماعت اسلامی کیلیے بہت بڑا نقصان ہے اور جماعت اسلامی چند دنوں کے اندر دو ایسے رہنمائوں سے محروم ہوگئی ہے جو اس کے لیے تھنک ٹینک کی حیثیت رکھتے تھے ۔پروفیسر غفور احمد ان رہنمائوں میں شامل تھے جو دیگر رہنمائوں کے ساتھ 1977 میں پی این اے کے پلیٹ فارم سے ذوالفقارعلی بھٹو کے ساتھ مذاکرات میں شریک رہا کرتے تھے جبکہ قاضی حسین احمد نے 22 سال تک جماعت اسلامی کی بھاگ ڈور سنبھالے رکھی انھوںنے جماعت اسلامی کوحقیقی معنوں میں ایک عوامی جماعت بنایا تھا۔

03

دریں اثنا جماعت اسلامی کے بانی امیر اور ان کے جانشین کے بعد تیسرے امیر کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد جماعت کی قیادت مکمل طور پر ان بانی رہنمائوں کے جانشینوں کے حوالے ہوگئی ہے ۔جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اور جماعت اسلامی کے دوسرے امیر میاں محمد طفیل کے بعد اب تیسرے امیر قاضی حسین احمد بھی دنیا میں نہیں رہے جس کے بعد جماعت اسلامی کی قیادت ان کے سابق امراء کے ساتھ مختلف معاون عہدوں پر کام کرنے والے موجودہ امیر سید منور حسن اور جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ سمیت موجودہ قیادت کے پاس آگئی ہے جنہیں اب مشاورت کے لئے اپنے سینئر میسر نہیں ہوں گے ۔